میں نہیں سمجھتا کہ مُرسی کی موت طبعی تھی: صدر ایردوان

0 512

ترکی کے صدر نے مصر کے معزول صدر محمد مُرسی کی غائبانہ نمازِ جنازہ میں شرکت کی کہ جہاں انہوں نے اُن کی موت کے حوالے سے شبہات کا اظہار کیا۔

"چاہے وہ طبعی موت تھی، یا اس کے کچھ عوامل تھی، اس پر شبہات ہیں،” رجب طیب ایردوان نے استنبول کی فاتح مسجد میں ہونے والی نماز جنازہ کے بعد کہا۔ "ذاتی طور پر میں اسے ایک طبعی موت نہیں سمجھتا۔”

مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر مرسی سوموار کو عدالت میں پیشی کے دوران انتقال کر گئے تھے۔

ترکی بھر میں غائبانہ نمازِ جنازہ

ترکی بھر کی مساجد میں مرسی کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئیں، جن میں انقرہ میں موجودہ مصری سفارت خانہ بھی شامل تھا۔

سول سوسائٹی کی تنظیمیں، شہریوں اور مصر، ایتھوپیا، صومالیہ، فلسطین، شام اور چین کے صوبے سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے انقرہ میں ہونے والی نمازِ جنازہ میں شرکت کی، جس کا انتظام مرحوم رہنما کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے غیر سرکاری تنظیموں نے کیا تھا۔

شرکاء نے رابعہ کے نشانات اور کتبے اٹھا رکھے تھے جس میں مصر کی حکومت کی مذمت کی گئی تھی اور مُرسی کی تصاویر بھی تھیں۔ ان کتبوں پر "بغاوتیں شکست کھائیں گی، اسلامی تحریک جیتے گی”، "اسلامی مقصد لافانی ہے” اور "انسانیت کے لیے آواز اٹھاؤ” جیسے نعرے درج تھے۔

مصری جامعہ کے طالب علم مومن اسرف نے نماز کے بعد مختلف تنظیموں کی جانب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "آج ہم نے راہِ خدا میں ایک اور شہید پایا ہے۔ جابروں نے انہیں خاموشی کے ساتھ علی الصبح دفن کردیا۔ مظلوم طبقہ کہ جسے مصر کی عقوبت گاہوں میں جکڑا اور شہید کیا گیا ہے، ان کی آہ و زاری جلد ایک طاقت بن جائے گی اور ایک مرتبہ پھر مصر سے باغی عناصر کا اقتدار ختم کردے گی۔”

ٹریڈ یونین اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں بھی اس موقع پر موجود تھی۔

انقرہ کے علاوہ مرسی کی غائبانہ نماز جنازہ ترکی کے طول و عرض میں ادا کی گئی جن میں بحیرۂ روم کے کنارے پر واقع انطالیہ صوبہ اور مشرقی صوبہ وان بھی شامل ہیں۔

مصر کی اخوان المسلمون کے اہم رکن مرسی نے 2012ء میں مصر کے پہلے آزادانہ صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ صرف ایک سال بعد وزیر دفاع اور موجودہ صدر عبد الفتح سیسی کی زیر قیادت فوجی بغاوت میں ان کا تختہ الٹ دیا گیا اور انہیں قید کردیا گیا۔

اپنی شہادت کے وقت مرسی کو متعدد الزامات کا سامنا تھا جس کے بارے میں کئی انسانی حقوق کے ادارے اور آزاد مبصرین کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی نوعیت کے ہیں۔

تبصرے
Loading...