ادلب میں شامی پاؤنڈ سے بچانے کے لیے ترک لیرا کا استعمال

0 365

شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں حزب اختلاف کے علاقوں کو معاشی تباہی سے بچانے کے لیے زوال پذیر شامی پاؤنڈ کی جگہ ترک لیرا کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے ان علاقوں میں ترک لیرا کے سکوں کی تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعے منظرِ عام پر آئی تھیں کہ جنہیں ترکی کی حمایت یافتہ شام کے اپوزیشن گروپوں نے آزاد کروایا تھا۔

محکمہ معیشت کو سنبھالنے والے باسل عبد العزیز نے بتایا کہ ادلب کے علاقے میں موجود سالویشن گورنمنٹ پچھلے مہینے سے اجرت اور تنخواہیں ترک لیرا میں ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں اور منی ایکسچینج کرنے والوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آزاد کرائے گئے علاقوں میں شامی پاؤنڈ کے بجائے روزمرہ لین دین کے لیے کم مالیت کے ترکی کے سکے اور نوٹ استعمال کریں۔

تقریباً 30 لاکھ کی آبادی رکھنے والے ادلب جیسے صوبے میں ترک لیرا کا استعمال شامی پاؤنڈ کی قدر کو مزید گرادے گا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP کے نمائندے نے ایک منی ٹرانسفر آفس میں ترک لیرا کے سکوں اور نوٹوں سے بھرے ڈبے دیکھے۔

جمعے کو اپنے بیان میں اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ ترک کرنسی کی بڑی مقدار مبینہ طور پر 11 جون کو ادلب میں پہنچائی گئی۔

ترک لیرا شمالی شام کے چند علاقوں میں پہلے سے ہی گردش میں ہے جبکہ پچھلے ہفتے سے سکے بھی آنا شروع ہو گئے ہیں، جن کی تصویریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔

اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے شام کی عبوری حکومت اور شامی ترکمان اسمبلی کے کے سربراہ نے بھی کہا کہ "شامی پاؤنڈ کی تیزی سے گرتی ہوئی مالیت کی وجہ سے شہریوں کی بچت کو محفوظ کرنے کے لیے ہم متعلقہ ترک اداروں سے بات کر رہے ہیں اور پہلے مرحلے میں ترک لیرا کے کم مالیت کے نوٹس شروع کیے جا رہے ہیں، جو شمالی شام میں روزمرہ زندگی کے لیے بہت ضروری ہے۔

شام کی عبوری حکومت پہلے ہی اپنے علاقوں میں ترک لیرا کے استعمال کی منظوری دے چکی ہے۔ شام کی عبوری حکومت 2013ء میں اعتدال پسند حزبِ اختلاف کے علاقوں میں قائم ہوئی تھی۔ اس کے رہنما ترکی میں جلاوطن ہیں۔

عبوری حکومت کے فیصلے کے بعد ترک کرنسی حلب کے شمالی دیہی علاقوں میں گردش میں آ گئی، جو ترکی کے حمایت یافتہ گروپوں کے پاس ہیں۔

شام کی معیشت 9 سال کی جنگ کی وجہ سے بدترین حالت سے دوچار ہے۔ حالیہ کچھ دنوں میں شامی پاؤنڈ کی مالیت مزید گرگئی ہے جس سے ضرورت کی عام اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور کاروبارِ زندگی متاثر ہو رہا ہے۔ اس سے ملک کے جنوبی علاقوں میں حکومت کے خلاف ایک لہر بھی جنم لے رہی ہے جو پہلے نہیں دیکھی گئی۔

پچھلے ہفتے ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ ڈالر کے مقابلے میں شامی پاؤنڈ 3,000 تک جا پہنچا، جو تقریباً 700 کی سرکاری شرح سے چار گنا سے بھی زیادہ ہے جبکہ 2011ء سے پہلے کے مقابلے میں 60 گنا زیادہ۔

تبصرے
Loading...