اگر بائیڈن جیت گئے تو بساط پر کیا کچھ بدلے گا؟

احسان آقتاش

0 181

ٹرمپ انتظامیہ کا دھیان چین کی جانب منتقل ہوتے ہی بحیرۂ روم اور مشرق وسطیٰ میں روس اور ترکی اہم بین الاقوامی کردار بن گئے ہیں۔

گو کہ شام، قفقاز، لیبیا، کریمیا اور یوکرین کے معاملات پر انقرہ اور کریملن کی خارجہ پالیسیاں مختلف ہیں، لیکن روس ترکی کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اسی طرح امریکا کو سرد جنگ کے بعد کے عہد میں ترکی کو ایک مقررہ حیثیت دینے میں دشواری کا سامنا ہے، اس کے باوجود کہ دونوں ممالک کے مفادات میں کوئی واضح تصادم نظر نہیں آتا۔ گزشتہ دہائی سے ترکی ایک علاقائی طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین کو براہ راست ہدف بنانے کے بعد سے نام نہاد "تجارتی جنگیں” ایک بڑی جغرافیائی سیاسی مقابلے کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات جیت جاتے ہیں تو امریکا-چین تناؤ بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن روس کو محدود کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ دونوں سابق صدور براک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی خارجہ پالیسیوں کا نتیجہ مشرق وسطیٰ اور بحیرۂ روم میں روس کے سپر پاور کی حیثیت سے دوبارہ ابھرنے کی صورت میں نکلا۔ یہ ممکن ہے کہ بائیڈن انتظامیہ روس کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے اُس کا اہم علاقائی حریف ہونے کی وجہ سے ترکی کی حمایت کرے۔

جب اوباما انتظامیہ ایران کو بین الاقوامی نظام میں شامل کرنا چاہتی تھی، تب ایران نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عراق، شام اور یمن میں جنگجوؤں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ نتیجتاً عراق میں ایران اور امریکا آمنے سامنے آ گئے۔ عراق پر تنہا غلبہ حاصل کرنے کے لیے ایران کو اپنے پڑوسی ملک سے امریکا کو نکالنا ہوگا۔

تیل کی دولت سے مالامال خلیجی ممالک اور اسرائیل کی بین الاقوامی بساط پر پوزیشن بھی اہم ہو چکی ہے۔ اسرائیل کی علاقائی سالمیت ہمیشہ امریکا کی ترجیحات میں شامل رہی ہے، ٹرمپ انتظامیہ نے خلیجی ممالک کے ساتھ مفاہمت کے ایک عمل کی رہنمائی کی۔

چند سال پہلے سعودی عرب اور ایران کی جارحانہ خارجہ پالیسیاں دونوں علاقائی حریفوں کو جنگ کے دہانے پر لے آئی تھیں۔ اگر بائیڈن انتخابات جیتتے ہیں تو ان کی انتظامیہ سعودیوں کی اگلی نسل کی آمریت کے حوالے سے کوئی معاون رویہ اختیار نہیں کرے گی۔

اگر بائیڈن انتظامیہ فیصلہ کرتی ہے کہ وہ بحیرۂ روم اور مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکی پالیسیوں پر از سرِ نو غور کرے گی، تو اسے علاقے میں طاقت کے توازن کے لیے نئی تزویراتی اپروچ بنانی ہوگی۔

جبکہ یورپی ممالک ماضی کی طرف لوٹنے کے تاریخی دور سے گزر رہے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ نے یورپی یونین سے فاصلہ رکھا۔ یورپی یونین کی غیر رسمی سربراہ جرمن چانسلر انگیلا مرکیل کے ساتھ ٹرمپ کی ملاقات نے یورپ کے لیے ٹرمپ کی حقارت کو ظاہر کیا۔ جب برطانیہ نے بریگزٹ کے لیے ووٹ دیا، تو امریکی انتظامیہ نے ملک کے یورپی یونین سے نکلنے کے عمل کی تائید کی۔

چین کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے امریکی انتظامیہ اپنی پروڈکشن لائنز کی بھارت منتقلی کا منصوبہ بنا رہی ہے، جو نتیجتاً بھارت کے اہم حریف پاکستان کو چین کی جانب دھکیلے گا۔

ایک ڈیموکریٹک صدر مشرقی یورپ اور قفقاز میں جمہوری اقدار اور حکومتوں کو ترویج دے کر سیاسی تبدیلی کے عمل کو منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

اگر امریکا بذریعہ نیٹو یورپی یونین کے ساتھ مزید تعمیری اور ادارہ جاتی تعلق قائم کرنا چاہتا ہے تو ترکی امریکا اور یورپی یونین کے مابین مفاہمت میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کو علاقائی طاقت کی حیثیت سے ابھرنے والے ترکی کے ساتھ تعلقات کو از سرِنو بہتر بنانا ہوگا۔ بصورتِ دیگر ایران، مصر اور سعودی عرب جیسی خطے کی غیر جمہوری طاقتوں کے لیے امریکا کے پاس بہت کم آپشنز رہ جائیں گے۔

تبصرے
Loading...