اگر یورپی ممالک مہاجرین کا بحران حل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں شام کے لیے ترکی کے حل کی تائید کرنا ہوگی، صدر ایردوان

0 346

آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "مہاجرین کی آمد کا یہ سلسلہ جاری رہے گا جب تک کہ شام کی سیاسی اکائی اور علاقائی سالمیت کی بنیاد پر ایک نیا آئین تشکیل نہیں دیا جاتا اور نئی انتظامیہ کے تحت آزادانہ انتخابات نہیں ہو جاتے۔ اگر یورپی ممالک اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں شام کے لیے ترکی کے پیش کردہ سیاسی و انسانی حل کی تائید کرنا ہوگی۔”

صدر اور انصاف و ترقی (آق) پارٹی کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے اجلاس سے خطاب کیا۔

"ترکی کا اپنے دروازے کھول دینے کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے”

حقیقت یہ ہے کہ علیحدگی پسند تنظیم نے شام کے اندر دیگر علاقوں میں ترک افواج پر حملے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ ادلب کے اندر بھی تصادم جاری ہے جو پسِ منظر میں جاری ایک بڑے کھیل کو ظاہر کر رہا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ اگر ہم ادلب یا دیگر علاقوں سے نکلے تو دہشت گرد ہماری سرزمین کو براہِ راست نشانہ بنائیں گے کہ جنہیں ہم نے شام میں محفوظ بنایا ہے۔ شام میں ہونے والی لڑائی سے صرفِ نظر کیا تو اس کی قیمت ہمیں اپنی سرزمین پر چکانی پڑے گی۔”

واضح رہے کہ شامی مہاجرین کے یورپ جانے کے لیے سرحدیں اسی شب کھول دی گئی تھیں جب ترکی کے 36 سپاہی شہید ہوئے تھے، صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی کا سرحدیں کھولنے کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔

یہ کہتے ہوئے کہ ہر وہ یورپی ملک کہ جو مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں بند کرتا ہے اور انہیں مار کر یا ان کی کشتیاں ڈبو کر بلکہ ان پر فائرنگ تک کرکے انہیں واپس بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے وہ دراصل انسانی حقوق کے آفاقی اعلان کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ صدر ایردوان نے کہا کہ سب سے غیر انسانی حرکات یونان کر رہا ہے۔

"ہمارے یونانی پڑوسیوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ایک روزہ ایسا بھی آ سکتا ہے کہ انہیں بھی کسی کی رحم دلی کی ضرورت ہو”

یونانی انتظامیہ کی توجہ ان تصاویر کی جانب دلاتے ہوئے کہ جو 11 جنوری 1942ء کو ھنا القدس میں شائع ہوئی تھیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ نازی حملوں سے فرار ہونے والے یونانی باشندوں کو پناہ اور امداد شام میں ملی تھی، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہو سکتا ہے کہ ان تصاویر میں خوراک یا کپڑے لینے والا کوئی لڑکا یا لڑکی مسوتاکس کے آبا و اجداد سے تعلق رکتا ہو۔ ترکی نے تمام تر مشکلات کے باوجود اس عرصے میں یونان کی بھرپور مدد کی تھی۔ ان دنوں میں کئی یونانی ہمارے ملک کے علاوہ عرب علاقوں میں بھی گئے اور جنگ کے خاتمے تک امن و حفاظت کے ساتھ رہے۔ ہمارے یونانی پڑوسی، جو مہاجرین کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے انہیں ڈبونے بلکہ گولیاں تک مار رہے ہیں، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایک دن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ انہیں بھی کسی کی رحم دلی کی ضرورت ہو۔”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ”مہاجرین کی آمد کا یہ سلسلہ جاری رہے گا جب تک کہ شام کی سیاسی اکائی اور علاقائی سالمیت کی بنیاد پر ایک نیا آئین تشکیل نہیں دیا جاتا اور نئی انتظامیہ کے تحت آزادانہ انتخابات نہیں ہو جاتے۔ اگر یورپی ممالک اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں شام کے لیے ترکی کے پیش کردہ سیاسی و انسانی حل کی تائید کرنا ہوگی۔”

تبصرے
Loading...