یورپ کریمیا پر بولتا تو یوکرائن پر یہ وقت نہ آتا، صدرایردوان

0 1,056

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ روس اور یوکرائن کے درمیان کل یہاں وزرائے خارجہ کی سطح پر پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہوا، بحرانی صورتحال میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کا یہاں بیٹھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم اپنا مقصد حاصل کرنا شروع کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ترکی ہمسایہ ملک کی خودمختاری کے خلاف جارحیت کی کارروائیوں کو کبھی نظرانداز نہیں کر سکتا”۔

صدر ایردوان نے کہا کہ اگر مغرب 2014ء میں کریمیا پر حملے کے خلاف بولتا تو موجودہ روسی یوکرائن بحران کو روکا جا سکتا تھا۔

یوکرائن پر روسی حملے کے ترک صدر کا کہنا ہے کہ کیف اپنے نیک مقصد میں تنہا رہ گیا۔

ترک صدر کا کہنا ہے کہ یوکرائنیوں کی جائز جدوجہد کی حمایت کرتے ہوئے، اس پر سایہ ڈالنے والے اقدامات کبھی بھی قابل قبول نہیں ہیں۔

ترکی کے صدر نے روس اور یوکرائن جنگ میں جلد از جلد پرامن اور عام فہم ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔

ترک صدر ایردوان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔

صدر ایردوان نے یہ بھی کہا ہے کہ روسی شہریوں کے خلاف فاشسٹ طرز عمل، مغربی ممالک میں ثقافت کبھی قابل قبول نہیں۔

اپنی غیر جانبدار اور متوازن پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے، ترکی یوکرائن تنازعے کو کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، اور تمام فریقین سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کرتا ہے۔ جہاں ترکی نے روس کو الگ تھلگ کرنے کے لیے نافذ کی گئی بین الاقوامی پابندیوں کی مخالفت کی ہے، وہیں اس نے 1936ء کے ایک معاہدے کے تحت باسفورس اور چناق قلعے کی آبناؤں کو بھی بند کر دیا ہے تاکہ روسی بحری جہازوں کو ترک آبنائے عبور کرنے سے روکا جا سکے۔

ترکی ایک طرف نیٹو کا رکن ملک ہے تو دوسری طرف بحیرہ اسود میں یوکرائن اور روس کے ساتھ سمندری سرحدیں رکھتا ہے اور اس کے دونوں ممالک کے ساتھ  اچھے تعلقات موجود ہیں۔ ترکی نے ماسکو پر پابندیوں کی مخالفت کی ہے، تاہم اس نے یوکرائن پر اس کے حملے کو ناقابل قبول قرار دیا تھا، اس نے روس سے جلد از جلد جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: