تونس کے صدارتی انتخابات، آزاد امیدوار سعید پہلے مرحلے میں سب سے آگے

0 696

قدامت پسند پروفیسر قیس سعید تونس کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 19 فیصد ووٹ کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔

الیکٹورل کمیشن کے جزوی نتائج کے مطابق چوتھائی ووٹوں کی گنتی کے بعد سعید میڈیا کی معروف شخصیت نبیل قروی سے آگے ہیں کہ جنہوں نے 14.9 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ النہضہ کے رہنما عبد الفتاح مورو نے 13.1 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

تونس کے عوام نے 2011ء کی عرب بہار کے بعد دوسرے صدارتی انتخابات میں حق رائے دہی استعمال کیا۔ جیتنے والے امیدوار کا سب سے بڑا ہدف ملک کی نوخیز جمہوریت کو مضبوط کرنا ہوگا۔

بحیرۂ روم کے کنارے واقع اسے چھوٹی سی جمہوریت میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے ابتدائی نتائج کا باقاعدہ اگلے چند دنوں میں ہو جائے گا جبکہ دوسرا مرحلہ 13 اکتوبر کو ہوگا۔

سعید کوئی سیاسی پس منظر نہیں رکھتے لیکن اپنے کھرے رویّے اور نظام کے خلاف ہونے کی وجہ سے نوجوانوں میں مقبول ہیں۔ کرپشن کے خلاف عوام کی مایوسی نے کئی ووٹرز کو تحریک دی کہ وہ کسی نئی شخصیت کو ووٹ دیں۔

قروی منی لانڈرنگ اور ٹیکس سے فرار کے الزامات پر پچھلے مہینے جیل میں ڈال دیے گئے تھے۔ ان کے حامیوں نے اتوار کو اپنی فتح کا اعلان کردیا تھا کہ اور ان کی اہلیہ نے ایک خط بھی پڑھا کہ جو انہوں نے جیل سے لکھا تھا۔ اہلیہ نے کہا کہ ان کی قانونی ٹیم فوری رہائی کے لیے کام کر رہی ہے۔

دریں اثناء، قروی نے اپنے ٹیلی وژن نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے خود کو غریبوں کا امیدوار قرار دیا۔ ان کی گرفتاری نے ان کے ووٹرز کو مزید تحریک دی۔ قروی کو صدارتی امیدوار بننے کی اجازت دی گئی تھی کیونکہ ان پر ابھی جرم ثابت نہیں ہوا۔

دوڑ میں آگے آگے موجود دونوں امیدواروں نے بے روزگاری کے خاتمے کا وعدہ کیا کہ جو تونس میں ایک اہم مسئلہ ہے اور ملک میں عرب بہار انقلاب آنے کی وجہ بھی بے روزگاری ہی تھی۔

نتائج کے مطابق وزیر دفاع عبد الکریم زبیدی وزیر اعظم یوسف شاہد کے بعد چوتھے نمبر پر ہیں۔

الیکٹوریل کمیشن ے اعلان کیا کہ مجموعی طور پر ووٹ ڈالنے کی شرح نسبتاً کم رہی جو 45 فیصد تھی۔ اگر کوئی امیدوار 50 فیصد سے زیادہ ووٹ نہ حاصل کر پایا تو انتخابات دوسرے مرحلے میں ہوں گے۔ اس کی تاریخ کا اعلان حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا۔

تونس میں 13,000 پولنگ اسٹیشن اتوار کی صبح 8 بجے سے ہی کھل گئے تھے کہ جن میں مورو نے مسکراتے ہوئے ووٹ ڈالا جبکہ شاہد نے اسے ایک عظیم اور فخریہ لمحہ قرار دیا۔

صبح کے اوقات میں بزرگوں کی زیادہ تعداد پولنگ اسٹیشنوں پر دیکھی گئی جبکہ نوجوان کم تھے۔

یہ انتخابات جولائی میں 92 سالہ صدر باجی سعید السبسی کے انتقال کی وجہ سے ہوئے کہ جن کی اہلیہ بھی گزشتہ روز انتقال کر گئیں۔

السبسی کو 2011ء کے انقلاب کے بعد منتخب کیا گیا تھا کہ جس میں سابق آمر زین العابدین بن علی کا تختہ الٹا گیا تھا۔

تبصرے
Loading...