ترکی کا سفر کرنے والے کشمیری خاندان بھارتی تفتیش کی زد میں

0 815

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس ان کشمیری خاندانوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے جنہوں نے پچھلے کچھ سالوں میں ترکی کا سفر کیا ہے۔

انادولو ایجنسی کا کہنا ہے کہ شازیہ بخشی نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ان کی 72 سالہ والدہ اور 8 سالہ بھانجی کو پوچھ گچھ کے لیے تھانے بلایا گیا تھا۔ انہوں نے 2017ء میں پانچ دن کے لیے ترکی کاسفر کیا تھا۔

شازیہ کا کہنا ہے کہ ان کے گھر آنے والے کرائم انوسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (CID) کے ایک افسر کے مطابق یہ ترکی کا سفر کرنے والے تمام لوگوں کے لیے ایک "روٹین چیک” ہے کیونکہ "اب ترکی اور بھارت کے درمیان تعلقات اچھے نہیں ہیں۔”

صحافی آکاش حسن نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ CID کی پولیس اہلکار بدھ کو اننت ناگ میں ان کے گھر پر آئے اور ان کے والدین سے پوچھ گچھ کی۔ "میری والدہ نے انہیں میرے بارے میں بتایا کہ میں سری نگر میں کام کرتا ہوں۔ پھر مجھے ایک کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والا کا کہنا تھا کہ اس کا تعلق CID سے ہے۔ پھر اس نے سفر کی تفصیلات سمیت کئی چیزیں پوچھیں کہ میں ترکی کیوں گیا؟ کیا میرے خاندان میں کوئی عسکریت پسند ہے؟ کیا مجھے کبھی سنگ باری کی وجہ سے پکڑا گیا؟ وغیرہ۔ بلکہ انہوں نے گاؤں کے سربراہ سے بھی میرے بارے میں پوچھ گچھ کی۔”

آکاش نے کہا کہ "سوالات کے دوران جس بات نے مجھے حیران کیا، وہ یہ پوچھنا تھا کہ میں حنفی ہوں یا سلفی۔ میں نے جواب دیا کہ یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ کہ میں کیا ہوں، لیکن کال کرنے والے کا کہنا تھا کہ نہیں، آپ ان میں سے ایک تو ہوں گے۔”

جنوری میں آکاش نے استنبول کی ایک جامعہ میں علوم سیاست کے ماسٹرز پروگرام میں داخلہ لیا تھا لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے کلاسیں معطل ہوجانے کے بعد وہ وطن واپس آ گئے۔

انقرہ میں کام کرنے والے ایک کشمیری، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، کا کہنا ہے کہ سری نگر میں پولیس ان کے گھر آئی اور ان سے سوالات کیے۔ "میں ترکی میں کیا کرتا ہوں؟ میرا تعلیمی پسِ منظر، آیا میں آزادی کی کسی تحریک سے وابستہ ہوں یا نہیں؟ بھارتی ایجنسیاں کشمیریوں سے ایسے سوالات عموماً پوچھتی ہیں۔”

بدھ کو ایک کشمیری طالبہ ثوبیہ بھٹ نے فیس بک پر لکھا کہ "پچھلے چند سالوں میں ترکی جانے والے کشمیریوں سے تفتیش کیوں کی جا رہی ہے؟ میری کچھ دوستوں کو چند دنوں میں کالز آئی ہیں اور آج مجھے بھی آئی۔ کیا وہ ارطغرل غازی سے پریشان ہو رہے ہیں؟”

نئی دہلی کی ساؤتھ ایشین یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والی ثوبیہ نے بتایا کہ "پولیس نے مجھ سے اس دعوت نامے کی ایک کاپی جمع کرانے کا کہا جو مجھے ایک ورکشاپ میں شرکت کے لیے ترکی کی ایک آرگنائزیشن نے دی تھی۔ اس کے علاوہ پاسپورٹ کی فوٹوکاپی بھی مانگی گئی۔ انہوں نے میرے کالج بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات تک طلب کیں۔ میرے والد کو ایک گھنٹے سے زیادہ تھانے میں بیٹھنا پڑا تاکہ تفتیش کا عمل مکمل ہو سکے۔”

فیس بک پر کئی صارفین نے بھی ایسی ہی کالز موصول ہونے کے بارے میں بتایا ہے۔

جموں و کشمیر کے ایک سینئر انٹیلی جنس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکام بیرونِ ملک کا سفر کرنے والے کشمیریوں کا ڈیٹابیس بنا رہے ہیں۔ یہ ایک عام کارروائی ہے۔ لوگوں کو محض معلومات کی تصدیق کے لیے تھانے بلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ترکی کا سفر کرنے والوں سے سوالات کیے جا رہے ہیں۔

اگست سے لے کر اب تک 7,300 سے زیادہ کشمیری گرفتار کیے گئے جن میں سے بیشتر رہا ہو چکے ہیں۔ تین صحافیوں کو بھی سوشل میڈیا پر تبصرے کرنے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ دو صحافیوں کو رپورٹنگ کی وجہ سے تفتیش کا سامنا کرنا پڑا۔

ترکی نے اگست میں بھارت کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی تھی جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کی خود مختار حیثیت کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ صدر رجب طیب ایردوان نے فروری میں کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو پہلی جنگ عظیم میں عثمانی سلطنت کی جدوجہد کے برابر قرار دیا تھا۔ صدر ایردوان نے پاکستانی پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ "گیلی پولی اور کشمیر میں کوئی فرق نہیں۔” گیلی پولی کا معرکہ اتحادی طاقتوں اور سلطنتِ عثمانیہ کے مابین ہوا تھا۔ صدر ایردوان نے مزید کہا تھا کہ "ترکی ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا۔ حالیہ اقدامات سے ہمارے کشمیری بھائیوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔”

اس کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے نئی دہلی کے لیے ترک سفیر کو طلب کیا تھا اور ترکی پر الزام لگایا کہ وہ بھارت کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھی 72 سال سے تصفیہ طلب مسئلہ کشمیر کو حل نہ کرنے پر عالمی برادری پر کڑی تنقید کی تھی۔

مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانے مسائل میں سے ایک ہے، جو 1947ء سے پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کی وجہ بنا ہوا ہے۔ سلامتی کونسل نے 1948ء میں کشمیر میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا۔ بھارت کہتا ہے کہ اس کے زیر انتظام علاقوں میں ہونے والے انتخابات کی وجہ سے ریفرنڈم غیر ضروری ہے اور اقوام متحدہ اور پاکستان کا کہنا ہے کہ اس ریاست کے عوام کی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم ضروری ہے۔

جموں و کشمیر اس وقت پاکستان اور بھارت کے مابین تقسیم ہے اور دونوں ملک پوری ریاست پر دعویٰ کرتے ہیں۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد سے اب تک پاکستان اور بھارت کے مابین چار جنگیں بھی ہو چکی ہیں، جن میں سے تین براہِ راست کشمیر پر ہوئیں۔ بھارت کے 5 لاکھ فوجی کشمیر کے اُس حصے میں موجود ہیں جو اس کے قبضے میں ہیں جبکہ حریت پسند آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے دہائیوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...