ہندوستان: کشمیر کے بعد آسام میں اسلاموفوبیا عروج پر، 2ملین مسلمانوں کی شہریت ختم

0 2,473

ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھنے لگی ہے اور ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں شہریت کی حتمی فہرست جاری کردی گئی ہے جس میں 31 ملین سے زائد افراد کو شامل کیا گیاہے جب کہ مسلمانوں سمیت 19 لاکھ سے زائد افراد کو شہریت سے محروم کرتے ہوئے لسٹ سے خارج کردیا گیا ہے۔

حتمی فہرست میں شہریت سے محروم ہونے والے افراد کو اپیل کے لیے 4 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔

ھارتی میڈیا کا کہنا ہےکہ نیشنل رجسٹر سٹیزن ( این آر سی) کو سپریم کورٹ کی ہدایت پر اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے اور اس کے ذریعے 25 مارچ 1971 کو غیر قانونی طورپر ریاست میں آنے والوں کو علیحدہ کیا جارہا ہے جب کہ این آر سی کی فہرست میں ان لوگوں کے نام شامل ہیں جو یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ وہ 24 مارچ 1971 کو یا اس سے پہلے آسام پہنچے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست آسام کے شہریوں سے ان کے خاندانی سلسلے کی دستاویزات طلب کی گئی ہیں اور دستاویزات دینے میں ناکام ہونے والوں کو غیر قانونی مہاجرین میں شمار کیا گیا۔

بھارتی حکومت کے رجسٹریشن کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اسے آسام میں اقلیتوں کے خلاف اقدم قرار دیا گیاہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریت سے محروم ہونے والے افراد ٹریبونلز اور اس حوالے سے بنائی گئی خصوصی عدالتوں میں اپیل کرسکتے ہیں جب کہ انہیں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کا بھی حق دیا گیا ہے جب کہ اپیل مسترد ہونے کی صورت میں ایسے افراد کو غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں بھی لیا جاسکتا ہے۔

تبصرے
Loading...