تقسیم کے وقت ہی سب مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے تھا، بھارتی وزیر

0 875

بھارت کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ 1947ء میں تقسیمِ ہند کے وقت ہی ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے تھا اور ایسا کرنے میں ناکامی کی قیمت ملک آج ادا کر رہا ہے۔

گری راج سنگھ بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ کا حصہ ہیں، جن کا کہنا ہے کہ "ایسا کرنے سے ملک کئی مسائل سے بچ جاتا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ قوم کے لیے خود کو وقف کر دیا جائے۔ 1947ء سے پہلے جناح نے ایک اسلامی ملک کا ارادہ کیا۔ یہ ہمارے اجداد کی بڑی کمزوری تھی کہ جس کی قیمت ہم اب ادا کر رہے ہیں۔”

اُن کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب شہریت ترمیمی بل (CAA) پر سخت تنقید ہو رہی ہے جو نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) میں تبدیلی کے بعد پیش کیاگیا تھا۔ بھارتی حکومت کے ان اقدامات کے بعد یہ خدشہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ 1.3 ارب کی آبادی رکھنے والے بھارت میں 80 فیصد ہندو اور 14 فیصد مسلمان ہیں، یعنی یہ دنیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادیوں میں سے ایک ہے۔ قوم پرست ہندو جماعت کی حکومت کے اقدامات پر سوالات اٹھتے چلے جا رہے ہیں۔ جب سے مودی نے اقتدار سنبھالا ہے، چند سالوں کے دوران بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر حملے میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔

شہریت کا نیا قانون تین پڑوسی ممالک کے غیر مسلموں کو شہریت دینے کی اجازت دیتا ہے، جس کے بارے میں مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ مودی کے ہندو قوم پرستانہ ماسٹر پلان کا حصہ ہے۔ مودی نے کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے مسلمان اِس قانون کے تحت نہیں آتے کیونکہ انہیں بھارت کے تحفظ کی ضرورت نہیں ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون آسام میں ہندوؤں کو شہریت دینے کے عمل کو تیز کرے گا جبکہ مسلمانوں کو مکمل طور پر تنہا چھوڑ دیا جائے گا۔ بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی مہاجرین کی روک تھام کے لیے سالہا سال کی کوششوں کے دوران پچھلے سال تقریباً 20 لاکھ افراد کی شہریت ختم کر دی گئی تھی کہ جو درکار دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے۔

تبصرے
Loading...