بھارت میں مسلم مخالف شہریت قانون کے خلاف عوام سڑکوں پر

0 646

پولیس نے بھارت کے اہم شہروں میں 100 سے زیادہ ایسے مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جو عوامی اجتماعات پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ یہ پابندی حکومت کی جانب سے شہریت کے نئے مسلم مخالف قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں پر لگائی گئی ہے کہ جو دارالحکومت نئی دہلی سمیت ملک کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں ہوئے ہیں۔

عوامی اجتماعات پر پابندی ریاست اتر پردیش اور کرناٹک کے کچھ علاقو ں میں بھی لگائی گئی ہے کہ جن میں بنگلور شہر بھی شامل ہے۔ اتر پردیش میں پولیس نے چار یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ البتہ مظاہرین اتر پردیش، نئی دہلی، بنگلور اور ممبئی میں پروگرام کے مطابق نکلیں گے کیونکہ سول سوسائٹی گروپ، طلبہ اور عام شہری سوشل میڈیا پر عوام سے زیادہ سے زیادہ شرکت کے مطالبے کر رہے ہیں۔

بھارت کی آزادی کے رہنما موہن داس گاندھی کی سوانح حیات لکھنے والے تاریخ دان رام چندر گوہا بنگلور میں گرفتار ہونے والے افراد میں شامل ہیں، جو جنوبی ریاست کرناٹک کا دارالحکومت ہے۔ رابطہ کرنے پر گوہا نے بتایا کہ وہ دیگر گرفتار شدگان کے ساتھ ایک بس میں ہیں اور انہیں نہیں معلوم کہ یہ بس انہیں کہاں لے جا رہی ہے۔

نئی دہلی میں گرفتار ہونے والوں میں سوراج بھارت پارٹی کے سربراہ یوگندر یادَو بھی شامل ہیں۔ یہ مظاہرین نئی دہلی کے معروف لال قلعے اور اس کے گرد موجود تاریخی علاقے تک مارچ کرنا چاہ رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قلعے کے قریب سے 100 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پولیس خواتین مظاہرین کو گھسیٹتی ہوئی بسوں اور دیگر گاڑیوں میں ٹھونستے ہوئے دیکھی گئی۔ قلعے کی طرف جانے والی مرکزی شاہراہیں بند کر دی گئیں اور پولیس پیدل جانے والوں کو بھی قلعے کے قریبی مندروں اور خریداری مراکز تک نہیں جانے دے رہی۔

لال قلعہ اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے جو کشمیر کے متنازع علاقے سمیت دیگر علاقوں میں تو حکومت اٹھاتی رہی ہے، لیکن دارالحکومت میں ایسا شاید ہی کبھی ہوا ہو۔ اس کا مقصد مظاہروں کرنے والوں کو منظم ہونے سے روکنا ہے۔ بھارتی موبائل فون کمپنیوں ووڈافون آئیڈیا اور ایئرٹیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے سرکاری حکم پر دارالحکومت کے کچھ علاقوں میں وائس کالز، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ سروسز معطل کی ہیں۔

بھارت نے پچھلے ہفتے پارلیمنٹ سے ایک ایسا قانون منظور کروایا تھا کہ جس کے مطابق پڑوسی ملک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے تارکینِ وطن کو بھارتی شہریت دینے کا عمل آسان بنایا جائے گا لیکن ان میں مسلمان تارکین شامل نہیں ہیں۔ اس کے خلاف ملک بھر میں زبردست مظاہرے ہوئے ہیں کہ جو چند مقامات پر پرتشدد بھی ہوئے کہ جن میں چھ افراد مارے گئے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون ثابت کرتا ہے کہ رواں سال انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب نریندر مودی بھارت کو تیزی سے ایک ہندو راشٹر بنانے جا رہے ہیں اور اس کی سیکولر بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

مظاہروں میں پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا جبکہ طلبہ مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی ہوا کہ جس سے مزید اشتعال پھیلا ہے۔

دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے بدھ کو پابندی کے باوجود ریلی نکالی تھی جس میں شریک 18 سالہ طیبہ کا کہنا تھا کہ "ہم بی جے پی کی حکومت سے سخت ناراض ہیں۔ انہوں نے امتیازی سلوک کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ اب ہمارے وجود پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں اور یہی موقع ہے کہ ہم آواز اٹھائیں۔”

اقتصادی دارالحکومت ممبئی میں بھی سینکڑوں افراد نے ریلی نکالی کہ جن کے ہاتھوں میں موجود کتبوں پر "ہندوستان ہمارا ہے” اور "ہم سب ایک ہیں” جیسے نعرے درج تھے۔ شرکاء میں شامل تعبیر رضوی کا کہنا تھا کہ "ہم اس بل کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ اتنا عرصہ ہندوستان میں رہنے کے بعد بھی ہمیں اپنی شہریت ثابت کرنا ہوگی۔ یہ امر حیرت انگیز نہیں کہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد اس مظاہرے میں شامل ہیں۔”

ریاست مغربی بنگال، تامل ناڈو اور تلنگانہ میں بھی ریلیاں ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ نے سکیورٹی اداروں کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال پر تشویش کا اظہارکیا ہے جبکہ امریکا نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی دہلی بھارتی آئین اور جمہوری اقدار کے مطابق مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔

تبصرے
Loading...