کشمیر لاک ڈاؤن کا خاتمہ خون خرابے پر ہوگا، وزیر اعظم عمران خان

0 393

وزیر اعظم پاکستان نے اقوامِ عالم کو کشمیر میں خون خرابے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں 80 لاکھ کشمیریوں کے ساتھ "جانوروں جیسا سلوک” کیا جا رہا ہے۔

اگست کے اوائل میں نئی دہلی کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بالائے طاقت رکھتے ہوئے کشمیر کی خود مختارانہ حیثیت کا خاتمہ کردیا گیا تھا کہ جس کے بعد سے ریاست کشمیر لاک ڈاؤن کی زد میں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینا اقوامِ متحدہ کا امتحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی مسلح افواج کرفیو کے خاتمے کے بعد کشمیری عوام پر چڑھ دوڑے گی۔

"کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوجی ہیں، کیا وہ نریندر مودی کے کہنے کے مطابق کشمیر کی ترقی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں؟ یہ 9 لاکھ فوج جب نکلے گی تو خون خرابہ ہوگا،” اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر بھارت نے ظلم کے خلاف کشمیر سے اٹھنے والی کسی بھی مقامی تحریک کی کارروائیوں کا الزام پاکستان پر لگایا تو نیوکلیئر طاقت رکھنے والے دونوں پڑوسی ممالک کے مابین فروری جیسی کشیدگی ایک مرتبہ پھر ہو سکتی ہے۔ "اگر دونوں ملکوں کے درمیان روایتی جنگ کا آغاز ہو جاتا ہے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ خود سے سات گنا بڑے ملک کے روبرو صرف دو راستے ہیں، یا تو ہتھیار ڈال دیں یا اپنی آزادی کے لیے آخر تک لڑیں۔ ہم لڑیں گے اور جب کوئی نیوکلیئر ملک آخر تک لڑتا ہے تو اس کے نتائج سرحدوں سے باہر تک جاتے ہیں۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی الٹرا نیشنلسٹ حکومت کا ایجنڈا خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور اس حوالے سے انہوں نے نفرت کے اسی نظریے کے ہاتھوں مہاتما گاندھی کے قتل کا حوالہ بھی دیا۔

عمران خان کی تقریر کا ایک بڑا حصہ مسلمان مخالف نفرت انگیزی کے حوالے سے تھا۔ "کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی تبلیغ نہیں کرتا۔ تمام مذاہب کی بنیاد رحم دلی اور انصاف پر ہے اور یہی خصوصیات ہمیں جانوروں سے ممتاز کرتی ہیں۔”

عمران خان نے رواں ہفتے اقوام متحدہ کی اسی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کشمیر کا مسئلہ اٹھانے پر ترک صدر رجب طیب ایردوان کا شکریہ ادا کیا۔ "ہم صدر ترکی کے بہت شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے اصولی موقف اپنایا،” اور ساتھ ہی کہا کہ پاکستان ترکی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رکھتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ صدر ایردوان اگلے مہینے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔

ایردوان نے اقوام متحدہ کو بتایا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہےکہ جو 72 سال سے تصفیہ طلب ہے۔ "کشمیری عوام کے محفوظ مستقبل کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے اور انصاف و مساوات کی بنیاد پر حل کیا جائے، تصادم کے ذریعے نہیں۔”

تبصرے
Loading...