انڈونیشی یونیورسٹیوں میں نقاب پر پابندی عائد کر دی گئی

0 1,654

انڈونیشن اسلامی یونیورسٹیوں میں طالبات پر نقاب پہننے کی پابندی عائد کی گئی ہے، پابندی کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ نقاب معاشرے میں شدت پسندی بڑھاتا ہے۔

سنان خدیجہ اسٹیٹ اسلامک یونیورسٹی نے کہا ہے کہ اس نے رواں ہفتے تین درجن سے زائد نقاب پہننے والی طالبات کو حکم نامہ جاری کیا ہے۔ اگر انہوں نے اس حکم نامہ کی تعمیل نہ کی تو انہیں یونیورسٹی سے خارج کر دیا جائے گا۔

اگرچہ سعودی عرب، پاکستان، بھارت، افغانستان اور کئی خلیجی ریاستوں میں خواتین نقاب عموما اوڑھا جاتا ہے تاہم سیکولر انڈونیشیا میں 90 فیصد سے زائد خواتین اس معاملے میں معتدل اظہار کرتی ہیں۔

یونیورسٹی چانسلر یودیان واہیوی نے پریس کو بتایا ہے کہ ہم ایک اسٹیٹ یونیورسٹی ہیں اور ہم بتایا گیا ہے کہ ہم معتدل اسلام کی ترویج کریں۔

احمد دلان یونیورسٹی نے بھی نقاب پر پابندی عائد کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے شدت پسندی میں اضافہ ہوتا ہے۔

لیکن انہوں نے کہا ہے اگر کوئی اس پابندی کو قبول نہیں کرتا تو انہیں کسی جرمانے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا البتہ امتحانات کے دنوں میں نقاب نہیں لیا جا سکے گا، کیونکہ ان کا چہرہ ان کے کارڈ فوٹو سے ملانا ضروری ہے۔ جو نقاب کے ساتھ ممکن نہیں۔

نقاب مذہبی آزادیوں اورخواتین کے حقوق میں ایک سلگتا ہوا عالمی موضوع ہے۔ یورپ میں فرانس وہ پہلا ملک تھا جس نے عوامی مقامات پر اس پر پابندی عائد کی تھی۔

ترکی میں بھی ایک عرصہ تک حجاب اور نقاب پر پابندی رہی ہے اور خواتین کو حجاب پہننے کی وجہ سے تعلیم اور نوکریوں سے دور رکھا گیا لیکن ترک صدر رجب طیب ایردوان کے دور حکومت میں اس پابندی کا نہ صرف خاتمہ کیا گیا بلکہ تعلیم اور نوکریوں کے دروازے بھی کھولے گئے۔

تبصرے
Loading...