کم شرحِ سود سے افراطِ زر اور شرحِ تبادلہ میں کمی آئے گی، صدر ایردوان

0 396

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی شرحِ سود میں کمی کے ذریعے افراطِ زر اور شرحِ تبادلہ میں تیزی سے ہونے والی کمی بیشی پر قابو پائے گا۔

دوحہ سے وطن واپسی پر دورانِ پرواز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے ایک مرتبہ پھر شرحِ سود میں اضافے کی مخالفت کی اور کہا کہ مرکزی بینک کی حالیہ مداخلت کے باوجود ترکی کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کسی مسئلے سے دوچار نہیں ہیں۔

ترکی کے مرکزی بینک (CBRT) نے گزشتہ ہفتے "غیر صحت مندانہ قیمت بندی” کے خلاف دو مرتبہ مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے ترک لیرا کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 14 سے کم رکھا ہے۔

بینک نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ وہ غیر صحت مندانہ قیمت بندی کا مشاہدہ کر رہا ہے جو "غیر حقیقت پسندانہ اور اقتصادی بنیادوں کے مکمل طور پر برعکس ہے۔”

شرحِ تبادلہ میں تیزی سے آنے والی کمی بیشی مرکزی بینک کی جانب سے ستمبر میں بینچ مارک پالیسی کو 19 فیصد سے 15 فیصد تک لانے کے بعد آئی۔ بینک نے اشارہ دیا ہے کہ رواں ماہ ایک اور کمی کے بعد پالیسی میں کمی جنوری میں روک دی جائے گی۔

حکومت کی جانب سے کم شرح سود کے دفاع کے بعد گزشتہ ہفتے لیرا ڈالر کے مقابلے میں اپنی تاریخ کی کم ترین سطح 14 تک پہنچا۔

صدر ایردوان نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران بارہا کم شرحِ سود کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے پیداوار، روزگار کے مواقع، برآمدات اور نمو میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ افراطِ زر کو جلد گھٹانا چاہتے ہیں اور شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افراتفری کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے قیمتوں میں اضافے کی وجہ ذخیرہ اندوزی کو بھی قرار دیا اور ان حرکتوں کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کار روائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔

ترکی میں افراط زر گزشتہ ماہ 21.31 فیصد تک پہنچا، جو نومبر 2018ء کے بعد بلند ترین شرح ہے اور اکتوبر میں 19.89 فیصد سے زیادہ ہے۔ مرکزی بینک کہتا ہے کہ افراطِ زر کا دباؤ عارضی ہے اور یہ برآمدات اور معاشی نمو کے لیے ضروری ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: