بین الاقوامی برادری یونان کو روکے اس سے پہلے کہ ترکی ایسا کرے

ملیح آلتینوق

0 200

ترکی کے جنوبی اور مغربی ساحلوں پر ہر سال لاکھوں سیاح کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ انہیں جو چیز سب سے زیادہ حیرت زدہ کرتی ہے وہ ترکی کے ساحلوں کی خوبصورتی نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ جزائر جو نیلے پانیوں کے ساتھ ہی نظر آتے ہیں دراصل یونان کے ہیں!

بحیرۂ روم اور بحیرۂ ایجیئن میں ایسے سینکڑوں جزیرے ہیں جو ترکی سے ملے ہوئے ہیں لیکن یونان کا حصہ ہیں، جس سے کئی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک بحری جہاز استانبول سے چلتا ہے تو اسے ترکی کے ایک اور شہر ازمیر تک جانے کے لیے یونان کے پانیوں سے گزرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ جب آپ ساموس کے جزیرے پر جائیں گے، جو ترکی کے دلیک جزیرہ نما سے صرف ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، تو آپ یونان میں پہنچ جائیں گے حالانکہ ساموس اور یونان کے مرکزی علاقوں میں سینکڑوں کلومیٹرز کا فاصلہ ہے۔ کاستیلوریزو جو جنوب مغربی ترکی کے ضلع قاش سے صرف 1,950 میٹرز کے فاصلے پر ہے، بھی یونان کا ہے جو 550 کلومیٹرز دور ہے۔

یہی نہیں بلکہ یونانی وزیر اعظم کیریاکوس متسوتاکس کی انتظامیہ اب بحیرۂ ایجیئن میں اپنی بحری حدود کو 12 بحری میل یعنی 22 کلومیٹرز تک بڑھانے کی دھمکیاں دے رہی ہے، یعنی ہم اپنے ساحل پر پانی میں پیر بھی نہیں ڈبو سکیں گے بلکہ اس کے لیے بھی ایتھنز سے اجازت لینا پڑے گی۔

28 اگست کو یورپ میں سامنے آنے والی خبریں بہت پریشان کن تھیں۔ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلحے سے لیس یونانی سپاہی کاستیلوریزو کے جزیرے پر عام سیاحوں کے ساتھ ایک بحری جہاز سے اتر رہے ہیں۔ 1923ء کے معاہدہ لوزان اور 1947ء کے پیرس امن معاہدوں کے تحت ایتھنز دودیکانیز جزائر اور بحیرۂ ایجیئن کے دوسرے جزیروں پر مسلح افواج نہیں رکھ سکتا۔

یونان کی تازہ ترین فوجی سرمایہ کاری، جو کہ ایک معاشی بحران کی گرفت میں ہوتے ہوئے کی گئی ہے، میں لڑاکا طیاروں کی خریداری تک شامل ہے، جو اس کے جارحانہ رویّے کی عکاس ہے۔

تو یورپی یونین اور نیٹو یونان کی ان حرکتوں پر کیا کر رہے ہیں؟ کہ جنہیں پیرس کی پشت پناہی حاصل ہے، جو پہلے مل کر لیبیا میں بھی آگ لگا چکے ہیں؟

نیٹو خاموش ہے۔

ایتھنز یورپی یونین کی رکنیت کی بدولت اُن سے معاشی فائدے حاصل کر رہا ہے اور اب برسلز کو دباؤ میں لے رہا ہے۔

تو یہ معاملہ کیا رُخ اختیار کرے گا؟ کیا ہم ایک مرتبہ پھر ‘یورپ کے بگڑے بچے’ سے صرفِ نظر کریں اور اسے بحیرۂ روم میں ہنگامہ برپا کرنے دیں؟

یہ سمجھنا بالکل مشکل نہیں کہ اس کی ایک بھاری قیمت ہوگی؟

اس سلسلے میں یونان کے حوالے سے بیلجیئم کے سابق وزیر اعظم کے ترجمان اور مشیر کورٹ ڈیبوف کی رائے قابلِ ذکر ہے: "موجودہ حالات میں مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کے ساحل کی طوالت کو دیکھتے ہوئے یونان کا خصوصی اقتصادی زون کا دعویٰ مناسب نہیں۔ میرے خیال میں اس حوالے سے ترکی کا نقطہ اہم ہے کیونکہ یہ تقسیم منصفانہ نہیں ہے۔ ترکی کا یہ کہنا درست ہے کہ اس کے پاس اتنا ساحل نہیں ہے جتنا کہ اس کا حق ہے۔ ہو سکتا ہے ترکی اور یونان کے لیے ابھی مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا فائدہ نہ ہو۔ لیکن یہ مسئلہ سیاسی لحاظ سے مزید آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں اس کے لیے اقوامِ متحدہ بہتر ہے۔ عدالتوں میں جانے سے پہلے ایک سیاسی حل لازماً تلاش کر لینا چاہیے۔”

تبصرے
Loading...