موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے، صدر ایردوان

0 250

صدر رجب طیب ایردوان نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی کلائمٹ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

"موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے کہ جس کے حل کو علاقائی و بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے،” صدر ایردوان نے کہا کہ ہر شخص پر یہ ذمہ داری ہے کہ اس نے کرۂ ارض کو جیسا پایا ہے اسے محفوظ رکھتے ہوئے نئی نسل کے حوالے کرے۔

صدر نے موسمیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے ترکی کی کوششوں کی وضاحت کی۔ اس ضمن میں ملک U.N. Habitat کی مدد سے انفرا اسٹرکچر، سٹیز اینڈ لوکیشن ایکشن (ICLA) ورکنگ گروپ کی قیادت کر رہا ہے۔

"ترکی اچھی طرح آگاہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے جنگ کے لیے مقامی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،” ایردوان نے مزید کہا کہ ملک 81 صوبوں میں کوئلے کی جگہ قدرتی گیس کے استعمال میں خاطر خواہ اضافہ کر چکا ہے جبکہ اس کی 30 فیصد سے زیادہ بجلی کی فراہمی قابلِ تجدید ذرائع سے ہو رہی ہے اور 2023ء تک اس ہندسے کو 39 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے۔

کاربن اخراج کو کم کرنے اور ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ترکی نئی سب وے لائنیں بنا رہا ہے اور ریلوے لائن کی کارگو گنجائش کو 5 سے 10 فیصد اور مسافروں کی گنجائش کو 1 سے 4 فیصد بڑھانے کا ہدف رکھتا ہے۔

ملک نے پچھلے 17 سالوں میں 4 ارب سے زیادہ درخت بھی لگائے اور صرف 11 نومبر کے دن ہی 11 ملین سے زیادہ درخت لگانے کا عزم رکھتا ہے اور ساتھ ہی ماحولیاتی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال میں 75 فیصد کمی لا چکا ہے۔

"میری اہلیہ کی جانب سے شروع کیا گیا زیرو ویسٹ پروجیکٹ ہمارے تمام شہروں اور اداروں میں اپنایا گیا ہے،” صدر نے کہا اور ساتھ ہی بتایا کہ اس منصوبےکا ہدف ری سائیکلنگ میں اضافہ، کوڑے میں کمی اور زیادہ ماحول دوست ماحول پر کفایت شعاری میں اضافہ ہے۔

ری سائیکلنگ اور بڑے شہروں کے سوا دیگر علاقوں میں مؤثر ویسٹ مینجمنٹ کے رحجان میں دیر سے آنے والا ترکی کچرا کنڈیوں (landfills) کے خاتمے کی جدوجہد کر رہا ہے کہ جن کی تعداد حالیہ کچھ سالوں میں کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔ ترکی نے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خطرے کی وجہ سے ویسٹ مینجمنٹ کو ترجیح دینا شروع کردی ہے کہ جہاں بلدیات کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور اپنے ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو بہتر بنانے کی ذمہ دار ہے۔ ملک 2017ء میں مارکیٹ میں موجود آدھی سے زیادہ پلاسٹک بوتلوں کو ری سائیکل کرنے میں بھی کامیاب رہا۔ ترکی کھانے پینے کی چیزوں پر مشتمل کوڑے سے گھریلو استعمال کے لیے کھاد بنانے کا فروغ بھی چاہتا ہے۔

اس وقت 18,750 سے زیادہ سرکاری ادارے زیرو ویسٹ پروجیکٹ میں شامل ہیں، کوڑے کی ابتداء ہی میں چھانٹی کر دیتے ہیں۔

تبصرے
Loading...