بین الاقوامی سکیورٹی ڈھانچے کو آج کے حالات کے مطابق از سرِ نو ترتیب جائے، صدر ایردوان

0 114

اقتصادی و معاشی تعاون کے لیے اسلامی تعاون تنظیم کی قائمہ کمیٹی (COMCEC) کے 35 ویں سیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ دنیائے اسلام سمیت پوری انسانیت کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ "دوسری جنگِ عظیم کے فاتحین کی جانب سے بنایا گیا یہ غیر منصفانہ نظام ہمیشہ نہیں چل سکتا۔ بین الاقوامی سکیورٹی ڈھانچے کو آج کے حالات کے مطابق از سرِ نو ترتیب دینا ایک خواہش ہی نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول میں COMCEC کے 35 ویں اجلاس سے خطاب کیا۔

"دنیائے اسلام کو اپنے جوڑ توڑ کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے کیونکہ یہ متحد نہیں ہو سکتی اور ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح جم نہیں سکتی۔ اپنی بھرپور معاشی طاقت، وسیع آبادی اور عظیم ذخائر کے باوجود ہمارے الفاظ کی بین الاقوامی منظرنامے پر کوئی اہمیت نہیں کیونکہ ہم متحد نہیں ہیں۔ آپ مسلم دنیا کو دیکھیں، آپ کو بڑے سانحات، مسائل، پریشانیاں اور تنازعات اور 1.7 ارب افراد کا وہ جمِ غفیر نظر آتا ہے جو اپنی توانائیاں مصنوعی ایجنڈوں پر ضائع کر رہے ہیں،” صدر ایردوان نے کہا۔

"اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت کوئی ادارہ غزہ کے ساحل پر کھیلتے ہوئے مارے گئے بچوں کی چیخیں نہیں سنتا”

"مغربی اسلحہ سازوں کا فروخت کیا گیا اسلحہ زیادہ تر مسلمانوں کا خون بہاتا ہے۔ اکثر و بیشتر مسلمان ہی ہوتے ہیں جو اپنے ساتھ ‘اسلام’ کا نام لگانے والی آلہ کار دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج اِس دنیا میں مسلمان کے خون اور اس کی زندگی سے سستی اور بے مول کوئی چیز نہیں ہے۔ ہمارے 10 لاکھ شامی بہن بھائی، جن کی جانیں بیرل بموں کی زد میں آ کر گئیں، ان کی حیثیت سوائے گنتی کے چند اعداد کے کچھ بھی نہیں۔ چند ممالک اور تنظیموں کے سوا کوئی بھی یمن میں سوکھ کر کانٹا ہو جانے والے بچوں کا خیال نہیں رکھتا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت کوئی بھی تنظیم غزہ کے ساحل پر کھیلتے ہوئے مارے جانے والے بچوں کی آہ و بکا سننے کو تیار نہیں۔ اسی طرح صومالیہ سے لے کر افغانستان، اراکان سے ترکستان اور لیبیا تک، ہم جہاں بھی دیکھتے ہیں ایسی ہی پریشانیاں اور سانحات نظر آتے ہیں۔ مرنے والے، ظلم کا نشانہ بننے والے اور مصیبتوں کو سہنے والے مسلمان ہیں لیکن ان کی ایک تصویر سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں،” صدر ایردوان نے کہا۔

"دنیا 5 ممالک سے کہیں بڑی ہے”

"دنیائے اسلام سمیت پوری انسانیت کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اپنے مستقبل کے تعین کے لیے آزادانہ طور پر کوئی فیصلہ کرنے اور اُس کو نافذ کرنے کا حق دنیائے اسلام کے پاس نہیں ہے،” صدر ایردوان نے کہا۔ "دوسری جنگِ عظیم کے فاتحین کی جانب سے بنایا گیا یہ غیر منصفانہ نظام ہمیشہ نہیں چل سکتا۔ بین الاقوامی سکیورٹی ڈھانچے کو آج کے حالات کے مطابق از سرِ نو ترتیب دینا ایک خواہش ہی نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ ایسا نظام جو حق کے بجائے طاقتور کو تحفظ دے، وہ کسی بھی طرح ترقی، امن اور سکون نہیں لا سکتا۔”

"ہمارے مطالبے ‘دنیا 5 ممالک سے کہیں بڑی ہے’ کے پس پردہ یہی عوامل ہیں جو ہم مختلف مواقع اور تمام پلیٹ فارموں پر اٹھاتے رہتے ہیں۔ ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری اِن عوامل پر نظر ڈالے۔” صدر ایردوان نے اشارہ کیا کہ ہر گزرتے دِن کے ساتھ یہ عالمی بے انصافی مزید بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

"جو اقوام متحدہ بوسنیا، روانڈا اور حال ہی میں عراق اور آج کل شام، فلسطین اور برما کے مسائل کا کوئی حل نہیں ڈھونڈ پائی، وہ انسانیت کے مسائل حل نہیں کر سکتی۔ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی از سرِ نو ترتیب کے مطالبے کو دہراتا ہوں جو عالمی آبادی اور مذاہب کے پھیلاؤ کے اعتبار سےہونی چاہیے۔ میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس مطالبے پر توجہ دیں،” صدر نے زور دیا۔

تبصرے
Loading...