بین الاقوامی طالب علموں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے جوق در جوق ترکی آمد

0 860

دنیا بھر کے لاکھوں طلبہ بیرونِ ملک بیچلرز یا ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، اس لیے ترکی کی توجہ گزشتہ چند سالوں سے اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند ایسے بین الاقوامی طالب علم پر ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں ترکی میں بین الاقوامی طالب علموں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے؛ جس نے بین الاقوامی تحقیق اور سائنس پروگراموں اور منصوبوں کے ساتھ ساتھ بین الاقومی باہمی ڈگری پروگرامز کو اعلیٰ تعلیم کا اہم بنا دیا ہے۔

گو کہ گزشتہ دہائی میں بین الاقوامی طالب علموں میں مشرق سے مغرب جانے کا رحجان تھا، لیکن یہ رحجان اب اب تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ کئی طلبہ ترکی، ملائیشیا، چین، جاپان، سنگاپور، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور روس کو ترجیحَ دے رہے ہیں۔

یونیسکو کے تعلیمی اعداد و شمار برائے 2017ء کے مطابق 50 لاکھ سے زائد طلبہ بیچلرز یا گریجویٹ پروگرام کے لیے اپنے پیدائشی یا شہریت کے ملک سے باہر کا رخ کرتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2019ء میں بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد 60 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔

اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ 2012ء میں بین الاقوامی سطح پر بیرونِ ملک سفر کرنے والے طلبہ تقریباً 40 لاکھ تھے، بین الاقوامی طالب علموں کی تعداد میں فوری اضافہ ظاہر ہے۔ تنظیم اقتصادی تعاون و ترقی (OECD) کے مطابق اس شرح سے بین الاقوامی طلبہ کی تعداد 2025ء تک 80 لاکھ ہو جانا متوقع ہے۔

دس سال قبل وزارت معیشت نے بین الاقوامی تعلیم سے ترکی کی برآمدی آمدنی کو بڑھانے کی کوششیں شروع کیں۔ 2010ء میں YOS امتحان کے خاتمے سے کہ جو ترک جامعات میں داخلے کے لیے غیر ملکی طلبہ کے امتحان تھا جس میں ان طلبہ کو سخت اور پیچیدہ دفتر بیوروکریسی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، ترکی ہر سال زیادہ سے زیادہ غیر ملکی طلبہ کا خیرمقدم کر رہا ہے۔

OECD کے تازہ ترین تعلیمی اعداد و شمار کے مطابق بین الاقوامی تعلیمی صنعت میں ترکی کا حصہ بڑھتا ہوا 1 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو واضح اور معقول قانونی ترامیم، طلبہ کی شمولیت کی سرکاری حوصلہ افزائی اور تعلیمی شعبے میں بڑی سرمایہ کاریوں کا نتیجہ ہے۔ آج 1,21,293 بین الاقوامی طلبہ ترکی کی سرکاری جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ 27,575 بین الاقوامی طلبہ دیگر غیر سرکاری اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ بین الاقوامی طلبہ کی میزبانی کے معاملے میں نمایاں جامعات میں سے ایک استنبول کی آلتن باش یونیورسٹی ہے، جو استنبول میں اپنے تین کیمپس، نو انڈر گریجویٹ اسکولوں اور 100 سے زیادہ اکیڈمک پروگراموں میں معیاری تعلیم فراہم کر رہی ہے۔

آلتن باش یونیورسٹی کی حاصل کردہ عظیم کامیابی کے کلیدی عنصر یہ ہے کہ ابتداء سے ہر قدم ایک بین الاقوامی جامعہ بننے کے ہدف کے ساتھ اٹھایا گیا۔ یونیورسٹی بین الاقوامی طلبہ کو عالمی منظرنامے پر ترکی کے رضاکار سفیر بھی سمجھتی ہے۔

"ہمارا ماننا ہے کہ بین الاقوامی طلبہ آلتن باش یونیوسرٹی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ترکی بھی ممکنہ سفیر ہیں۔ اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیمی برآمدات ہمارے ملک کے لیے ایک اہم تزویراتی ذریعہ ہیں۔ ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ اس مخصوص طریقے نے ہماری ادارہ جاتی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے،” علی آلتن باش ، چیئرمین آلتن باش یونیورسٹی بورڈ آف ٹرسٹیز نے کہا۔

"ترکی ٹاپ 500 سروس ایکسپورٹرز” سروے نتائج کے مطابق آلتن باش یونیورسٹی فاؤنڈیشن سپورٹ رکھنے والے نان-پرافٹ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیمی برآمدی کارکردگی کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر آتی ہے۔

تبصرے
Loading...