استنبول: علامہ اقبال اور عاکف ارسوئے پر عالمی کانفرنس، صدر آزاد کشمیر مسعود خان کی شرکت

0 1,820

‘ترکی کی جنگِ آزادی کے 100 سال’ مکمل ہونے جامعہ استنبول کے شعبہ اردو نے 29 و 30 اپریل کو ایک بین الاقوامی سمپوزیم کا انعقاد کیا کہ جس کا موضوع "مشرقی کے دو عظیم شاعر: محمد اقبال اور محمد عاکف ارسوئے” تھا۔

اس موقع پر صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب میں ترکی کے لیے پاکستان کے سفیر محمد سائرس سجاد قاضی، ریکٹر جامعہ استنبول پروفیسر ڈاکٹر محمود آق، شعبہ ادبیات کے ڈین ڈاکٹر حیاتی دیویلی، جامعہ استنبول میں شعبہ اردو کے چیئرپرسن ڈاکٹر جلال سوئیدان اور شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقر نے شرکت کی۔

پاکستان، ترکی اور دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور ادبی شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کی کہ جس میں تحقیقی مقالے پیش کیے گئے جن میں دو عظیم شاعروں علامہ محمد اقبال اور محمد عاکف ارسوئے کی شاعری کی کتب، فلسفے اور یکساں پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا۔

تقریب کے افتتاحی سیشن سے صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان،ترکی کے لیے پاکستان کے سفیر محمد سائرس سجاد قاضی، ریکٹر جامعہ استنبول پروفیسر ڈاکٹر محمود آق، شعبہ ادبیات کے ڈین ڈاکٹر حیاتی دیویلی اور تقریب کے منتظم جامعہ استنبول کے شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقر نے خطاب کیا۔

خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد جموں و کشمیر مسعود خان نے کہا کہ اقبال اور عاکف دونوں نے خود کو نوآبادیاتی نظام اور ذہنی استعمار کے خلاف جدوجہد میں نئی روح پھونکنے کے لیے وقف کیا۔ انہوں نے کہا کہ اُن کی شاعری مسلم امّہ کی ذہنی غلامی سے آزادی اور انہیں نئی سمت دکھانے میں اہم ثابت ہوئی۔

صدر آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ ترکی کی حکومت اور عوام نے خود ارادیت کے لیے جاری کشمیری عوام کی حقیقی جدوجہد کی مسلسل حمایت کی ہے۔ انہوں نے مسلم امّہ کی آواز بننے اور کشمیری عوام کی حالتِ زار دنیا سامنے لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر ترک صدر رجب طیب ایردوان کا خاص شکریہ ادا کیا۔

سفیر سائرس سجاد قاضی نے اپنی تقریر میں علامہ اقبال کے ترکی اور اس کی اہم ادبی شخصیت محمد عاکف ارسوئے سے تعلق کو نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی مفکر اور قومی شاعر ڈاکٹر محمد اقبال اور ترکی کے قومی شاعر اور اُس کے قومی ترانے کے خالق محمد عاکف ارسوئے نے اپنی تحاریر اور شاعری کے ذریعے اپنے ہم وطنوں کی جدوجہدِ آزادی میں شمولیت پر حوصلہ افزائی کی۔ دونوں عظیم شعراء کے درمیان یکساں پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہوئے سفیر سائرس قاضی نے کہا کہ عاکف اور اقبال دونوں مسلمانوں کو مسلم نشاۃِ ثانیہ کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے مغربی استعمار کے خلاف متحد ہونا اور اس سے آزادی دلانا چاہتے تھے۔

سفیر نے ترکی میں اردو اور ساتھ ساتھ علامہ اقبال کے کاموں کی ترویج کے لیے ادبی کاوشیں کرنے اور اپنی زندگیاں وقف کرنے پر تقریب کے منتظم پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقر اور جامعہ استنبول کے شعبہ اردو کے چیئرپرسن ڈاکٹر جلال سوئیدان کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

تبصرے
Loading...