ایران نے یوکرینی مسافر طیارے کو مار گرانے کی ذمہ داری قبول کر لی

0 137

ایران نے کہا ہے کہ اس کی فوج نے تہران کے قریب "غیر ارادی طور پر” یوکرین کے اس جہاز کو مار گرایا تھا کہ جس میں سوار تمام مسافر مارے گئے تھے۔

تہران نے اسے "انسانی غلطی” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کو افسوس ہے کہ اس سے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ یہ اعتراف گزشتہ چند روز سے ایران کی طرف سے بارہا انکار کے بعد آیا ہے کہ یہ جہاز اُس سے نہیں گرایا بلکہ کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے گرا ہے۔

یوکرین انٹرنیشنل ایئرلائنز (UIA) کا بوئنگ 737 مسافر طیارہ بدھ کی صبح تہران سے اڑنے کے کچھ ہی دیر گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں سوار مسافر اور عملے کے اراکین سمیت تمام 176 افراد مارے گئے تھے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے تصدیق کی ہے کہ "انسانی غلطی اس بھیانک سانحے کا سبب بنی۔” ہفتے کو جاری ہونے والے اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ "اس ناقابلِ معافی غلطی کے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا،” انہوں نے "اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے سخت دلی افسوس اور رنج کا اظہار” کیا۔

دریں اثناء یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی نے کہا کہ ” ایران نے یوکرین کے ہوائی جہاز کی تباہی کی غلطی قبول کی ہے۔ لیکن ہم مکمل اعترافِ جرم کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ہم ایران سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ایک شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی یقین دہانی کروائے، ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائے، ہلاک شدگان کی لاشوں کی واپسی کو یقینی بنائے، زرِ تلافی ادا کرے اور سفارتی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے باضابطہ طور پر معافی طلب کرے۔”

سنیچر کو ہی ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر نے کہا کہ وہ یوکرینی مسافر طیارے کو غلطی سے مار گرانے کی "مکمل ذمہ داری” قبول کرتے ہیں۔

سرکاری ٹیلی وژن چینل پر خطاب کرتے ہوئے جنرل امیر علی حاجی زادہ نے کہا کہ جب انہیں جہاز کے مار گرائے جانے کا پتہ چلا تو دل سے یہی نکلا کہ "کاش میں مر چکا ہوتا۔ میں مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور جو بھی فیصلہ کیا جائے گا اسے قبول کروں گا۔”

یہ واقعہ عراق میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملے کے دوران پیش آیا کہ جو عراق میں امریکی ڈرون حملے میں ایران کے اہم جرنیل کی ہلاکت کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔

واقعے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد ایرانی اور کینیڈین شہری تھے۔ ان کے علاوہ یوکرینی، سوئیڈش اور برطانوی شہری بھی اس جہاز میں سوار تھے۔

یورپین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA) اور امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) ان ہوا بازی اداروں شامل ہیں کہ جنہوں نے ایئرلائنز کو ایران اور عراق کی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔

امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی گزشتہ ہفتے اہم ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کے ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد سے بڑھ گئی ہے۔ البتہ ایران کے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کے بعد لگتا ہے کہ کشیدگی میں کچھ کمی آ گئی ہے البتہ امریکا نے اس کے ردعمل میں ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

تبصرے
Loading...