عراق اور ترکی کے مابین ریلوے رابطے کا منصوبہ

0 453

عراق کے وزیر ٹرانسپورٹ عبد اللہ لعیبی نے کہا ہے کہ عراق اپنی ریلوے لائنز کو بیرونِ ملک ترکی تک پہنچانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

عراقی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے لعیبی نے کہا کہ قومی ریلوے ادارہ ملک میں کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے بحران کے بعد اب بحالی کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے کچھ عرصے میں ترکی سے منسلک ہونے کے لیے ایک ریلوے لائن کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے البتہ انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں دیں۔

لعیبی نے یہ بھی کہا کہ دارالحکومت بغداد اور جنوبی بصرہ کے درمیان فاصلہ 10 گھنٹے سے کم ہوکر سات گھنٹے ہو چکا ہے، وسطی سامراء سے لے کر بیجی میں واقع ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کے درمیان بھی ایک ریلوے لائن کھولی گئی ہے اور شمالی شہروں موصل اور صلاح الدین کے درمیان بھی ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان ایک ریل رابطہ موجود ہے جو عثمانی سلطنت کے بغداد ریلوے پروجیکٹ کے تحت 20 ویں صدی کے اوائل میں بنایا گیا تھا۔ البتہ شمال مشرقی ترکی کے سرحدی قصبے نصیبین اور عراق کے شمال مغربی علاقے رابعہ کے درمیان اس لائن کا تقریباً 80 کلومیٹر کا حصہ شام کی شمال مغربی سرحد سے گزرتا ہے جو 2012ء سے PKK دہشت گرد گروپ کے شامی حصوں PYD اور YPG کے قبضے میں ہے۔ شامی علاقے کو کاٹنے کے لیے ترک علاقوں میں سلوپی کے سرحدی علاقے میں کم از کم 120 کلومیٹر اور ساتھ ہی عراقی علاقے میں 50 کلومیٹر کی نئی ریلوے لائن بچھانا پڑے گی۔

یہ ریلوے لائن دریائے فرات کے دائیں کنارے پر واقع قارقامش اور نصیبین کے قصبوں کے درمیان تقریباً 330 کلومیٹر تک ترک-شامی سرحد بھی بناتی ہے۔ یہ 2014ء سے مسافر اور کمرشل استعمال کے لیے بند ہے کہ جب داعش اور YPG دہشت گردوں کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی اور ترک سرحدیں بارہا ان دہشت گردوں کا نشانہ بنیں۔ تب سے یہ علاقہ بدستور YPG کے قبضے میں ہے اور ترک سرحدی چوکیوں اور دیگر انفرا اسٹرکچر پر ان کی فائرنگ یا حملے روز کا معمول ہیں۔

ادھر شمال مشرقی شہر دیاربکر سے ایک لائن شمالی مغربی صوبے سیرت تک جاتی ہے۔ کرتلان سے عراقی سرحد تک 120 سے 150 کلومیٹر نئی لائن بچھانے کی بھی ضرورت ہوگي لیکن اس کے تمام ممکنہ راستے پہاڑی علاقوں سے گزرتے ہیں اور اس کے لیے کافی انفرا اسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہوگی۔

بغداد کے لیے ترکی کے سفیر فاتح یلدز نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ انقرہ اور بغداد دونوں ممالک کو ریلوے لائن کے ذریعے منسلک کرنے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔

عراق داعش کے خلاف چار سال طویل جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے لیے قرضوں اور سرمایہ کاریوں کا خواہشمند ہے۔ بغداد عراق کی تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 90 ارب ڈالرز کا اندازہ رکھے ہوئے ہے۔ حکومت نے فروری 2018ء میں عراق کی تعمیر نو کے لیے کویت میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں 157 منصوبوں کی فہرست جاری کی تھی، جس کے لیے وہ نجی سرمایہ کاری کا بھی خواہاں ہے۔

ترکی نے کانفرنس میں 5 ارب قرضے اور 50 ملین کی امداد کا اعلان کیا تھا جس کے ساتھ وہ سب سے نمایاں حصہ دار بن کر ابھرا۔ فنڈز کی فراہمی کے لیے ترکی نے مشترکہ عمل کا آغاز فروری میں کیا۔

تبصرے
Loading...