کیا تیسری عالمی جنگ جاری ہے؟ – ابراہیم قالن

0 2,036

ابراہیم قالن

ابراہیم قالن، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے چیف مشیر اور ترجمان ہیں، اس کے علاوہ وہ پرنس الولید سنٹر فار مسلم کرسچیئن انڈرسٹینڈنگ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکہ کے ایسویسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔ انہیں ایک تربیت یافتہ اسلامی اسکالر گردانا جاتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف اور کئی مضامین و نشر پاروں کے مقالہ نگار بھی ہیں۔ آپ ترکی کے متعلقہ موضوعات پر ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔


کیا امریکہ اور روس 7 اپریل کو شامی رجیم کی طرف سے دوما میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے معاملے پر جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ کیا یہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہے؟ مبالغے اور لفظوں کی جنگ سے قطع نظر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بجائے، یہ سرد جنگ کا نامکمل حصہ ہے جس میں کئی چیزیں اپنی درست جگہوں سے دور رہ گئی تھیں۔

اس کے واضع ثبوت موجود ہیں کہ بشار الاسد نے 7 اپریل کو کیمیائی ہتھیاروں کا دوبارہ استعمال کیا۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے رپورٹ کیا ہے کہ دوما میں 500 افراد کی "زہریلے کیمیائی مادوں کے زد میں پیدا شدہ علامات” کا علاج کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد کو موت کے منہ میں چلے گئے۔ مرنے والوں میں "انتہائی زہریلے کیمیائی مادوں کی علامات” واضع تھیں۔

پہلی بار ایسا نہیں ہوا ہے کہ رجیم نے اپنی ہی عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کئے ہوں۔ اس سے قبل جب 2013ء میں ایسا کیا گیا، امریکی صدر باراک اوباما نے سرخ لائن قائم کی لیکن رجیم کا احتساب کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا تھا یا ایسے اقدامات نہ اٹھائے جس سے یقینی ہو سکے کہ ایسے وحشیانہ عمل دوبارہ نہ ہو سکیں۔ اوباما کی یہ وہ ناکامی تھی جس نے روس اور ایران کے تباہ کن عمل کو شام میں پوری قوت کے ساتھ داخل ہونے کا موقع فراہم کیا۔ یہ وہ چیز تھی جس نے بشار الاسد کو نئی زندگی عطا کی جب یہ کچلے جانے کے قریب تھا۔ ایک سنجیدہ اور اسٹریٹجک ردعمل اس وقت شامی جنگ کا رخ بدل سکتا تھا اور مستقبل کے کیمیائی حملوں سے محفوظ رکھ سکتا تھا۔

اگرچہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہر طرح سے ایک مکروہ جنگی جرم ہے لیکن یہ شامی المیے کا محض ایک حصہ ہے۔ اکیسویں صدی کی اس سب سے بڑی ظالمانہ جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ملین لوگ مہاجر اور اندرونی طور پر نقل مکانی کر چکے ہیں۔ جیسا کہ صدر رجب طیب ایردوان نے صحیح طور پر کہا ہے، روایتی ہتھیاروں کے استعمال کے نتیجے میں اس سے بہت زیادہ لوگ مر چکے ہیں اور بین الاقوامی برادری اس ڈرامے کا جواب دینے میں ناکام رہی ہے- شامی عوام کو ایک طرف اسد رجیم کے بربریت تو دوسری طرف داعش اور دیگر دہشتگرد گروپوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ شامی لوگوں نے جنگ کے ان دو مونسٹرز میں کسی ایک کا انتخاب نہیں کیا اور نہ وہ انتخاب کرنا چاہتے تھے۔ کچھ استثناؤں کے ساتھ جیسا کہ ترکی، تقریبا” ساری دنیا نے شامی عوام سے منہ موڑ لیا۔ 7 اپریل کے کیمیائی حملے کو ضرور سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور رجیم کا اس کے جنگی جرائم پر ضرور مواخذہ کرنا کرنا چاہیے۔ ممکنہ اقدامات میں رجیم کی کیمیائی اور مہلک صلاحیتوں کو تباہ کرنے جیسا فوجی ردعمل بھی شامل ہے۔ اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے ترکی نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت کی۔ کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کو یقینی بنانے والی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) دوما میں ایک وفد بھیج رہی ہے تاکہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کر سکے۔ اسے کام کرنے کی مکمل آزادی دی جانا چاہیے۔

ٹرمپ انتظامیہ ابھی تک جواب دینے کا فیصلہ نہیں کر پا رہی۔ امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی بہت زیادہ ہے لیکن وہ عالمی جنگ کا آغاز نہیں کریں گے۔ گزشتہ چار سالوں میں، شام کی کہانی کو عالمی طاقتوں اور علاقائی کھلاڑیوں نے اپنی اپنی جغرافیائی پوزیشننگ کے لیے استعمال کیا ہے۔ اب اس میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ اہم مسئلہ یہ ہے کہ کبھی بھی اس جنگ کو ختم پر توجہ نہیں رہی بلکہ مقصد مختلف طریقوں سے اسے استعمال کر کے شام، عراق اور ان کے اردگرد اپنا رسوخ بڑھانا رہا ہے۔ داعش کے خلاف جنگ کو اپنی توسیع اور سیاسی حرکیات کے نقاب کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ بشار الاسد اور اس کا پشت پناہ تھے جنہیں اس جغرافیائی سیاسی دہانی گیری کا سب سے زیادہ فائدہ ہوا اور شامی عوام اس کی تکلیف سہنا جاری رکھا۔

سرد جنگ کے نامکمل حصے کا تعلق اس حقیقت سے ہے کہ دو طرفہ عالمی نظام کے اختتام کے نتیجے میں کوئی پائیدار آرڈر سامنے نہیں آیا، طاقت کے عدم توازن جو غیر یورپی ممالک خاص طور روس اور چین سے پیدا ہوا اس نے عالمی نظام کو وقتا” فوقتا” منتشر رکھا ہے۔ امن و امان، آزادی اور خوشحالی کے قیام میں عالمی نظام کی ناکامی کی وجہ سے 1990ء سے کئی تباہ کن المیے وجود میں آئے پہلی خلیجی جنگ، بوسینیا اور روانڈا میں نسل کشی، کبھی نہ ختم ہونے والا مسئلہ فلسطین، ایشیاء اور افریقہ میں ناکام ریاستوں کا وجود میں آنا، دہشتگردی اور شدت پسندی میں اضافہ اور غریب اور امیر میں بڑھتا ہوا فرق و فاصلہ نئے عالمی عدم توازن اور انتشار کے چند نتائج ہیں۔ مابعد سرد جنگ طاقت کا عدم توازن ہارنے والے ممالک جیسا کہ روس ، وہ چاہتے ہیں کہ حالات کو اپنے حق میں بدلیں۔ شام اس بڑی جنگ کے لئے صرف ایک منظر ہے۔ موجودہ جنگوں جن شامی جنگ بھی شامل ہے کا مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ طاقت کا نیا توازن کب اور کیسے قائم ہوتا ہے۔ یہ سب کے لئے امن اور انصاف یقینی بنانے پر بھی منحصر ہے۔

جہاں تک معاملہ امریکہ اور روس کے درمیان حالیہ کشیدگی کا ہے اس کا نتیجہ رجیم کے چند اہداف پر امریکہ کی فضائی حملوں تک رہے گا جیسا کہ گذشتہ سال خان شیخون میں ہوا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے تب ایک مضبوط پیغام بھیجا تھا، اور اب ایسا ہی امکان ہے۔ ٹرمپ دنیا کو یہ بھی دکھانا چاہتا ہے کہ وہ اوباما نہیں ہے لہذا جب کوئی سرخ لائن کو پار کرتا ہے، تو وہ جواب دیتا ہے۔ روس رجیم کے ساتھ کھڑا رہے گا اور وہ رجیم فورسز پر بڑے حملوں کو روکنے کے لئے کشیدگی کو کم کرنا چاہتا ہے۔

جب اس حکمت عملی کے کھیل کا نقاب الٹتا ہے۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنا ہوگی کہ کوئی بھی دنیا میں سب سے تیز اور بھاری ہتھیار رکھ سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی حمکت عملی بھی اتنی ہی تیز اور بھاری ہو۔ شامی جنگ اور شامی عوام پر مصائب کا خاتمہ ایک حکمت عملی چاہتا ہے جو حکمت عملی پراکسی وارز اور جیو پولیٹکل مسلنگ سے کوسوں دور ہو۔ اس کا صرف ایک ہی مقصد ہو کہ اسد رجیم یا داعش، القاعدہ، پی وائے ڈی یا وائے پی جی جیسی دہشتگرد تنظیموں کے بغیر ایک قانونی، جمہوری اور مربوط سیاسی نظام قائم کیا جائے۔

تبصرے
Loading...