یورپ میں پھر طبلِ جنگ بج رہا ہے؟

0 301

‏106 سال پہلے یورپ کی حالت یہ تھی کہ چند ملکوں نے باہم گٹھ جوڑ بنایا ہوا تھا اور ان جتھوں کے مفادات ٹکراتے رہتے تھے، یہاں تک کہ اس تصادم نے جنگِ عظیم کی صورت اختیار کر لی۔ اس جنگ میں ایک طرف اٹلی، جرمنی، آسٹریا و ہنگری تھے تو دوسری جانب برطانیہ، روس اور فرانس۔

آج مشرق وسطیٰ میں بھی کچھ یہی صورتِ حال ہے، ایک طرف ترکی ہے کہ جو قطر، ایران اور مصر میں اخوان جیسے حامیوں کے ساتھ اتحاد رکھتا ہے جبکہ دوسری جانب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر ہیں جو اس پہلے اتحاد کے سخت مخالف ہیں۔ خود یورپ اس معاملے میں تقسیم ہے۔ یونان، فرانس اور قبرص ‘اسٹیٹس-کو’ کے حامی ہیں جبکہ مالٹا اور اسپین ترکی اور اس کے اتحادیوں کے۔ اٹلی درمیان میں جھول رہا ہے اور اس کے کسی ایک طرف ہونے کا انحصار ہے کہ اس کے مفادات کس کے ساتھ ہیں۔

داؤ پر بہت کچھ لگا ہوا ہے اور یہ محض باتیں یا کاروباری معاہدے نہیں، بلکہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور چیز ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف یورپین اسٹڈیز کے کورٹ ڈیبوف کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ ترکی یورپ کے ساتھ جنگ کی جانب بڑھ رہا ہے۔

بحیرۂ روم میں اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے ترک اور یونانی حکومتوں کے تعلقات آجکل بہت کشیدہ ہیں۔ ایک طرف یونان جنگ کی باتیں کر رہا ہے تو دوسری جانب ترکی جن علاقوں پر دعویٰ کر رہا ہے، ان پر کسی بھی سودے بازی سے انکاری ہے۔

رواں سال جولائی میں ایک ترک بحری جہاز نے فرانسیسی جہاز کو ہدف پر بنایا اور ایک مہینے بعد ترک اور یونانی جہازوں کی مڈبھیڑ بھی ہوئی۔ ان واقعات کے بعد فرانس نے اپنے بحری جہاز اور لڑاکا طیارے یونان بھیج دیے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی یونانی جزیرے کریٹ پر اپنے ایف-16 طیارے بھیجے ہیں۔ اُدھر مصر لیبیا کی سرحد پر فوجیں جمع کر رہا ہے اور لیبیا میں ترک حمایت یافتہ دستوں کے خلاف کارروائی کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

آج 1914ء ہی کی طرح کوئی ملک جنگ نہیں چاہتا، وہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ایک صدی پہلے چاہتے تھے۔ تو کیا ہمیں ایک اور جنگ کا سامنا ہے؟ اگر یورپی ممالک کے درمیان اتحاد پارہ پارہ ہوا اور وہ کسی باہمی تنازع میں ملوث ہوئے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

ڈیبوف نے اس صورت حال کو کافی خطرناک قرار دیا ہے جبکہ جرمن حکام نے اسے ‘کیوبا میزائل بحران’ سے تشبیہ دی ہے جو 1962ء میں پیدا ہوا تھا۔ اس میں امریکا اور سوویت یونین جنگ کے بہت قریب پہنچ گئے تھے یعنی دنیا تیسری جنگِ عظیم کے دہانے پر تھی۔ جنگ چھڑنے ہی والی تھی کہ دنیا تباہی سے بچ گئی۔

آج قبرص کیوبا کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ یونانی افواج کے سربراہ قبرص اور یونان کے درمیان چکر پر چکر لگا رہے ہیں۔ یونانی فوج کی چھٹیاں منسوخ ہیں۔ سرحدوں کے ساتھ موجود دیہات خالی کروانے کے حکم جاری کر دیے گئے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس کی عالمی وباء نے دنیا کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے، یہ پیش رفت خطرناک ہے اور اس کے نتائج بہت بھیانک نکل سکتے ہیں۔ جرمن چانسلر انگیلا مرکیل کب تک ان معاملات کو سنبھال سکتی ہیں؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ طبلِ جنگ سنائی دے رہا ہے اور اگر کان نہیں دھرا گیا تو ایک اور جنگ یورپ کو لپیٹ میں لے لے گی۔

تبصرے
Loading...