کیا امارات-اسرائیل اتحاد اصل میں ایران و ترکی کے خلاف ہے؟

مروہ شبنم عروج

0 480

‏1948ء میں جیسے ہی اسرائیل کی بنیاد پڑی، تمام عرب ریاستیں فلسطین پر قبضے کی وجہ سے اس کے خلاف ہو گئیں۔

1973ء میں یوم کپور کی جنگ تک عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ کئی جنگیں لڑیں۔ گو کہ اردن اور مصر نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کیے جو دہائیوں سے چل رہے ہیں لیکن عرب معاشروں نے کبھی ان معاہدوں کو شرفِ قبولیت نہیں بخشا۔

سرزمینِ فلسطین پر اسرائیل کا صیہونی قبضہ ختم ہوا ہے اور نہ ہی فلسطینیوں پر مظالم میں کوئی کمی آئی ہے، لیکن حال ہی میں خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں نے اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے۔

عرصہ گزر چکا ہے کہ تل ابیب نے بھی اپنی Periphery Doctrine ترک کر دی ہے۔ یہ وہ پالیسی تھی جسے اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان نے ترتیب دیا تھا تاکہ اسرائیل اتحاد کا مقابلہ کر سکے جو مشرق وسطیٰ کی غیر عرب ریاستوں نے جیسا کہ ترکی، قبل از انقلاب ایران اور ایتھوپیا کے ساتھ مل کر تشکیل دیا تھا۔

یہ بات تو یقینی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو "معمول” پر لانا اب بھی مشرق وسطیٰ کے عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ اس لیے کچھ حلقے سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اور عرب امارات کے مابین تعلقات کا قیام ایک حیران کُن پیش رفت اور پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ لیکن یہ ایک کھلا راز تھا جس کے آشکار ہونے کا وقت آ چکا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ کئی خلیجی رہنماؤں کے عرصے سے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات تھے، فوجی تعاون، تجارت، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دیگر کئی حوالوں سے۔ اسرائیل کی کاروباری شخصیات غیر ملکی پاسپورٹس کا استعمال کرکے بارہا عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ریاستوں میں آئیں۔ عرب ریاستوں کو یہ سب چھپانا پڑا کیونکہ مسئلہ فلسطین عوام کے دلوں میں رہتا ہے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا مطلب تھا فلسطین سے غداری۔ لیکن حالیہ کچھ عرصے سے خلیجی اور اسرائیلی حکام کے مابین چھوٹی موٹی ملاقاتوں کو ذرائع کی خبریں بنا کر میڈیا پر پیش کیا جاتا رہا تاکہ عرب عوام تل ابیب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ذہن بنا لیں۔ تو ایسا لگتا ہے کہ عرب امارات نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اس خفیہ سچ کا اعلان کرنے کا صحیح وقت اب آ گیا ہے۔

چند ماہرین کے خیال میں اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کی اس قربت کی وجہ ایران کی توسیع پسندی ہے۔ یہ بات ایران کے سب سے بڑے حریف سعودی عرب کے بارے میں تو کہی جا سکتی ہے، یہ بحرین کے بارے میں بھی کہہ سکتے لیکن ایران کے ساتھ تو عرب امارات کے اچھے تعلقات ہیں۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے بہت سارے کاروباری ادارے عرب امارات میں کام کرتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ اتحاد میں اسرائیل کی دلچسپی کا محور خطے میں ایران کی سرگرمیاں ہوں، لیکن عرب امارات کی خواہشات ذرا مختلف ہیں۔ جیسا کہ ابو ظہبی نے خود بھی کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا فیصلہ ایران کو سامنے رکھ کر نہیں کیا گیا۔

درحقیقت عرب امارات ترکی اور قطر کے خلاف ایک مضبوط اتحاد بنانا چاہتا ہے۔ ابو ظہبی نے سوچا ہوگا کہ ترکی، قطر اور ایران جیسے مسلم ممالک کے خلاف طویل عرصے سے چلائی جانے والی مہم کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر عوام قائل ہو جائیں گے، لیکن اس کے باوجود لوگ فلسطین کو چھوڑنے کو تیار نہیں۔

پچھلے 10 سالوں میں عرب امارات نے ترکی کا مقابلہ کرنے کے لیے شام سے لے کر لیبیا اور مشرقی بحیرۂ روم تک ہر جگہ ٹانگ اَڑائی ہے۔ افریقہ سے لے کر بلقان تک ہر جگہ اس نے ترکی کی سفارتی کوششوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے۔ ترکی کو عرب دنیا کے لیے خطرہ قرار دینے والی سالہا سال عرب دنیا میں جاری اس مہم کا مقصد ہے کہ عرب عوام خطے میں ایک نئے اتحادی کی ضرورت محسوس ہے۔ بظاہر ابو ظہبی سمجھتا ہے کہ وہ ترکی کے خلاف یکطرفہ عداوت میں ایک قدم مزید آگے بڑھ کر اپنے ہدف تک پہنچ گیا ہے۔

لیکن ذرا پیچھے جائیں، سابق امریکی صدر براک اوباما کی مشرق وسطیٰ پالیسی اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان باہمی بدمزگی کا سبب بنی تھی۔ تل ابیب اور ریاض نے ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کی مخالفت کی تھی کہ جس نے تہران کو اپنا غلبہ کہیں زیادہ بڑھانے کا موقع دیا جبکہ ابو ظہبی نے انقرہ اور واشنگٹن کے مابین بڑھتے ہوئے فاصلوں کا فائدہ اٹھایا۔ اس کے علاوہ اوباما کی دوحہ کے حوالے سے پالیسی نے بھی عرب امارات کو مطمئن کیا، کہ جسے قطر کو تباہ کرنے کا خبط سوار ہو چکا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل اور عرب امارات کی مشترکہ پریشانی تھی 2011ء میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اٹھنے والی عرب بہار۔ انہوں نے اس کے پھیلاؤ کو روکنے کی بھرپور کوشش کی، اور مصر میں فوجی بغاوت اور لیبیا میں خلیفہ حفتر جیسے باغی جرنیلوں کی حمایت کرکے عرب امارات اور اسرائیل نے عرب دنیا میں مثبت تبدیلی کا راستہ روکا کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کا راستہ کھول سکتا ہے۔

اسرائیل کے حامی اور عرب امارات کے پیسوں سے چلنے والے میڈیا اداروں نے تقریباً ایک جیسی کوریج دی، اخوان المسلمون کے ساتھ ساتھ ترکی اور قطر کے خلاف جعلی خبریں پھیلائیں تاکہ تبدیلی کی اِن ہواؤں کو روکا جا سکے، جبکہ اماراتی میڈیا نے تو ان پر فلسطین سے غداری کا الزام تک لگایا، جبکہ اصل غدار خود ابو ظہبی ہے۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، یہاں تک کہ ایسا تو مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں میں بھی نہیں ہوا تھا۔ اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان بالخصوص عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ تعاون کبھی ظاہر نہیں رہا، بلکہ ہمیشہ خفیہ تعلقات رہے لیکن اب یہ ماضی کے مقابلے میں کہیں آگے نکل گئے ہیں۔

ابوظہبی کے ولی عہد اور عرب امارات کے حقیقی رہنما محمد بن زاید، جو خلیجی سیاست کے ماسٹر مائنڈ ہیں، پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کی راہیں دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز کی وفات کے بعد سعودی عرب کے نوجوان، ناتجربہ کار اور جاہ طلب ولی عہد محمد بن سلمان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور ریاض اور تل ابیب کے درمیان ذریعہ بن گئے کیونکہ دونوں کی پریشانی کا سبب ایک ہے، یعنی تہران۔

یوں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اوباما نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد سے اسرائیل اور سعودی عرب کے لیے حالات درست راستے پر آ گئے ہیں۔ تل ابیب نے فلسطینی سرزمین ہڑپ کرنے کے منصوبے پوری رفتار سے شروع کر رکھے ہیں۔ دوسری جانب ابو ظہبی نے اپنا رُخ ٹرمپ کے سینئر مشیر اور داماد جیرڈ کشنر کی مدد سے نئی امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کے مطابق کر لیا ہے۔

جب ٹرمپ انتظامیہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت اور شام کی جولان کی پہاڑیوں پر یہودی ریاست کا قبضہ تسلیم کر لیا تب بھی تو خلیجی ریاستوں نے کمزور سا ردعمل دکھایا۔ جب ٹرمپ نے اپنے نام نہاد "ڈیل آف دی سنچری” منصوبے کا اعلان کیا تب بھی وہ خاموش رہے۔ اب امریکا اور عرب امارات اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات کے قیام کی مارکیٹنگ اس اعلان کے ساتھ کر رہے ہیں کہ اس کا مقصد اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں پر قبضہ کرنے سے روکنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا کے مطالبے پر قبضہ گیری محض "عارضی” طور پر روکی گئی ہے، جیسا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا بھی ہے۔

ایسا کوئی بھی عمل عرب معاشرے کے خیالات اور احساسات کی عکاسی نہیں کرتا، مسئلہ فلسطین ان کے ذہنوں اور دل سے کبھی نہیں نکل سکتا۔ لیکن یہ مسئلہ اب آمر خلیجی رہنماؤں کے مفادات میں سرفہرست نہیں ہے۔ اگر خلیجی ریاستیں جمہوری ملک ہوتیں تو کوئی عرب رہنما اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو "معمول” پر لانے کی جرات نہیں کر سکتا تھا کیونکہ انہیں عوام کے ردعمل کا خوف ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ اس کے پڑوس میں کوئی جمہوری ملک نہ ہو، اور یہودی ریاست اور خلیجی رہنماؤں کے مفادات اسی طرح پورے ہوتے ہیں۔

تبصرے
Loading...