اسلام اور مغرب: فاصلے بڑھ رہے ہیں؟

0 154

کیا اسلامی اور مغربی معاشرے ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں یا ان کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں؟ عالمگیریت کے اِس دور میں سخت گیر ثقافتی و تہذیبی حدود کے کمزور پڑنے کی توقع کی جا سکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی اور مغربی معاشروں کے درمیان سیاسی و نظریاتی تفریق سے پیدا ہونے والی خلیج گہری ہوتی جا رہی ہے اور ایک دانشمندانہ اور تخلیقی مکالمے کو آگے بڑھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

1990ء کی دہائی نے عالمی نظام کے دو مغربی نظریات کو متصادم ہوتے دیکھا۔ اپنے بہت زیادہ زیرِ بحث رہنے والے مضمون میں سیموئل ہنٹنگٹن نے ثقافتی و تہذیبی تصادم کی اصطلاح میں عالمی نظام کی حرکیات کو بیان کیا۔ انہوں نے دنیا کی بڑی تہذیبوں کا تصور یکساں اور خود انحصار اکائیوں کی صورت میں پیش کیا اور استدلال کیا کہ ان کا تصادم ناگزیر ہے۔ انہوں نے اسلامی اور مغربی تہذیبوں کو دو بنیادی حریف قرار دیا جو عالمی نظام کا مستقبل تشکیل دیں گے۔ انہوں نے کچھ انوکھے انداز میں چینی اور اسلامی تہذیب کو مغرب کے خلاف باہم متحد کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر یہ چینی-اسلامی اتحاد دنیا پر غالب آتا ہے تو اس سے مغربی تہذیب کا خاتمہ ہو جائے گا۔

اس منظرنامے کی مخالفت فوکویاما کی "تاریخ کا خاتمہ” پیشن گوئی میں کی گئی کہ جس میں بہترین سیاسی نظام کی انسانی تلاش بالآخر آزاد خیال مغربی جمہوری نظام کے ساتھ اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ مختلف معاشرے اس نظام پر مختلف انداز میں ردعمل تو دکھائیں گے لیکن آخرکار اس میں ڈھلنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہ ہوگا۔ فوکویاما نے مسلم دنیا کو سخت گیر ترین عالمی تہذیب کے طور پر پیش کیا جو آزاد خیال عالمی نظام کی ترغیبات اور ہدایات کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔

ہنٹنگٹن نے ہر تہذیب کو جداگانہ اور ممکنہ طور پر متصادم اکائیوں کی حیثیت سے اپنے مخصوص راستوں پر سفر کرتا دیکھا۔ فوکویاما نے تمام عالمی ثقافتوں اور تہذیبوں کی آزاد خیال جمہوری نظام میں مرحلہ وار مل جانے کی پیشن گوئی کی۔ ہنٹنگٹن کے مقابلے میں زور باہمی انتشار پر رہا، اور ان کے دائیں بازو کے اسٹراسی ترجمانوں نے امریکی پالیسی سازوں کے لیے ‘بقائے اصلح’ (survival of the fittest) جیسی حکمتِ عملی کو فروغ دیا جس نے افغان اور عراق جنگوں میں امریکا کو بہت نقصان پہنچایا۔ اوباما انتظامیہ نے خود کو ایسی مہم جوئیوں سے دُور رکھا، لیکن ناقدین کے مطابق، ایک تزویراتی خلا پیدا کر دیا۔

فوکویاما کے "تاریخ کا خاتمہ” مقالے کا ذیلی موضوع ایک نقطے پر ارتکاز تھا اور انہوں نے ثقافتوں کی گوناگونی کومحض ایک یکساں اور واحد عالمی نظام کے قالب میں رہنے اجازت دی۔ مختصراً یہ کہ فوکویاما اصرار کر رہے تھے کہ روشن خیال جدیدیت ہی واحد حقیقی سچائی، ایک عالمی ثقافت اور ایک عالمی نظام ہے اور رہے گا۔ 21 ویں صدی میں عالمی نظام پر ان کا ہیگلی مطالعہ دنیا کی مختلف ثقافتی روایات کو ایک بڑے نظام کے ماتحت دیکھتا ہے۔

1990ء کی دہائی انتشار و ارتکاز دونوں کا احساس رکھتی تھی، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کیسا مستقبل دیکھنا چاہتے ہیں۔ تب سے اب تک ایک مختلف تصویر ابھر چکی ہے۔ عالمی نظام کی تبدیل ہوتی حرکیات کو نہ ہی پرتشدد نظام بیان کرتا ہے اور نہ ہی جامع ارتکاز۔ اس کے بجائے عالمی و علاقائی مسائل پر باہمی انحصار اور کثیر الجہتی کا گہرا تعلق نظر آتا ہے۔

ہنٹنگٹن کے برخلاف تہذیبیں ایک جیسے خصلتیں رکھنے والا ‘کردار’ نہیں ہیں اور سخت گیر اکائی تو ہرگز نہیں۔ تہذیبی شناخت اور اس سے وفاداری نے اپنی اہمیت برقرار رکھی۔

مختلف سطح پر عوام خود کو یورپی، چینی یا افریقی کی حیثیت سے شناخت کرتے ہیں۔ اسے انسانیت کی گوناگونی کے ذریعے کی حیثیت سے قبول کرنا چاہیے۔ تہذیبی شناخت اور ثقافتی روایات کو عالمی اقدار کے نام پر چھوٹا کرنا یا گھٹانا نہیں چاہیے۔

ہمیں غور کرنا چاہیے کہ تیز رفتار عالمگیریت اور باہمی منتقلی کے اس دور میں تہذیبی شناخت خود پھیلی ہیں اور یہ کثیر جہتی طور پر کام کرتی ہیں۔ یہ باہمی اتحاد کا سبب بن سکتی ہیں یا پھر تصادم اور مقابلے کی فضاء پروان چڑھا سکتی ہیں۔ جیسا کہ ہم شام اور یوکرین کے حوالے سے دیکھ چکے ہیں کہ یہ ایک تہذیبی بلاک میں اکٹھے ممالک جیسا کہ "مغربی” یا "اسلامی” ملک مخالف رائے رکھ سکتے ہیں یا مختلف تہذیبی خطوں سے تعلق رکھنے والے کے ساتھ سیاسی اتحاد کر سکتے ہیں۔

انتشار اور ارتکاز کے دونوں نمونے قائدانہ مزاج رکھتے ہیں اور انہیں مسترد کرنا چاہیے۔ اس کے بجائے مختلف تہذیبی شناختوں کی حقیقت کو ایک دوسرے پر انحصار رکھنے والی تکثیریت کے وسیع تناظر میں قبول کرنا چاہیے۔ عالمگیریت عالمی نظام کے غیر تسلیم شدت تصورات کی حامل ہے جو ایک واحد سیاسی مرکز اور ثقافتی نقطہ نظر سے مرتب کی گئی ہے۔

جیسا کہ 14 ویں صدی میں ابنِ خلدون نے کہا تھا کہ شہری ثقافت اور تہذیب بیرونی اثر و رسوخ کے سامنے بانہیں کھولے کھڑی ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ تہذیبوں کی بقاء تب ہوتی ہے جب وہ اپنی بنیادی اقدار کو محفوظ کرتی ہیں، یہی ان کے اراکین کو اندرونی خطرات اور بیرونی چیلنجز کے مقابلے پر اپنی "عصبیت” برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ابنِ خلدون سے پہلے الفارابی نے تہذیب کو نہ صرف ثقافتی اکائی کی حیثیت سے بلکہ مختلف ثقافتوں اور روایات کے عمداً اور عالمی سطح پر ملاپ کے طور پر بھی بیان کیا تھا۔

رومی سے لے کر اسلامی تک تاریخ کی عظیم تہذیبیں ثقافتی، نسلی، مذہبی، سائنسی و جمالیاتی روایات کے باہمی تعامل سے تشکیل پائیں۔ "مل جل کر رہنے” کا اندلسی تجربہ مذہبی و ثقافتی سرحدوں سے آگے بڑھتے ہوئے "عمومی خیر” کی مشترکہ قدر تشکیل پایا تھا۔

روشن خیال جدیدیت انسانی تاریخ کو واحد یورپ مرکزی عالمی منظرنامے تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔ عالمگیریت جدیدیت سے پہلے کے ثقافتی تعامل کی صورت کو واپس لائی اور اس نے عالمی تعامل کی نئی صورتوں کو ممکن بنایا۔ اسلامی اور مغربی معاشروں کو اس عالمی روح کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہمیں نہ صرف حالاتِ حاضرہ اور عالمی سیاست پر ایک دانشمندانہ مکالمے کی اجازت دے سکتی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہم سب کو ایک انسان بناتی ہے۔

تبصرے
Loading...