اسلام صرف ایک ہے، کوئی ماڈریٹ اسلام اور غیر ماڈریٹ اسلام نہیں ہوتا، ایردوان

0 298

ینگ وومن لیڈرشپ اینڈ انٹرپرینیورشپ پروگرام کے زیر اہتمام تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے  ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا: "یہ کس نے ماڈریٹ اسلام کے نام کے ساتھ ایک نظریہ تیار کیا ہے؟ مغرب نے۔ کہا جا سکتا ہے جس شخص نے ایسا کہا ہو اس کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ ہو۔ لیکن نہیں ایسا نہیں ہوا”۔ انہوں نے کہا: یہاں کوئی ماڈریٹ اور غیر ماڈریٹ قسم کی شے موجود نہیں ہے۔ اسلام صرف ایک ہے اور اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اسلام کو ماڈریٹ کہنے کا مقصد اس کو کمزور کرنے کی کوشش ہے”۔

انہوں نے کہا کہ کوئی اپنی مرضی سے ہمیں ہمارا دین نہ سکھائے۔

آج ترکی میں اپنے عقیدے کی وجہ سے کوئی عملی سرگرمی سے علیحدہ نہیں کیا جاتا

صدر ایردوان نے گزشتہ 15 سالوں میں عورت کو روکنے کے لیے لاگو کی جانے والی رکاوٹوں کو توڑنے کا ذکر کیا اور کہا: نام نہاد ایلیٹسٹ جو دراصل پست خیال گروپ ہے انہوں نے جدید نظام کو اسلامو فوبیا کی صورت میں آگے بڑھایا۔ ہم نے اپنی خواتین کو ان کے حقوق فراہم کرنے کے لئے جدوجہد کی۔ ہم نے ان خواتین کو آزادی دی جو یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتی تھیں۔ جو اپنے کیریئر کو آگے نہیں بڑھا سکتی تھیں۔ اور جنہیں عمومی طور پر چار دیواری میں قید کر دیا گیا تھا کیونکہ ان کی ظاہری شکل ایسی تھی جو ان کے ایمان کی ضرورت تھی”۔

انہوں نے کہا کہ آج ترکی میں اپنے عقیدے، لائف اسٹائل اور خیالات کی وجہ سے کوئی عملی سرگرمی سے علیحدہ نہیں کیا جاتا۔ "اسکارف یا اسکارف کے بغیر ہر خاتون آج ہر شعبے میں کام کرنے کی اہل ہے آنے والے دنوں میں ہم عورت کے لیے انٹرپرینیورشپ سے سیاست تک اور تعلیم سے خارجہ پالیسی تک ہر شعبہ ہائے زندگی میں مزید مواقع پیدا کریں گے”۔

ایردوان نے اس موقع پر کہا: "مجھے امید ہے کہ آپ میں سے ہر ایک اپنے ملک، اسلامی دنیا اور ساری دنیا کے لیے اپنے مشن اور منصوبے کی اہمیت کا احساس رکھتا ہے۔ آپ ایسے نئے منصوبے اٹھاؤ جو دنیا میں ٹیکنالوجی، ایجادات اور اطلاعات کی نئی بنیادیں تیار کر دیں”۔

عدل کے بغیر دنیا میں امن اور فلاح نہیں آ سکتا

اقوام متحدہ میں اراکان پر ہونے والی رائے سازی کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں میانمار پر پابندیوں کی قرار داد چین کے ووٹ کی ووٹ کی وجہ سے رد کر دی گئی، رجب طیب ایردوان نے کہا: "پوری دنیا کی قسمت کو اقوام متحدہ کے 5 مستقل ممبروں کے فیصلے پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ عالمی دنیا کا یہ نظام کسی طرح بھی شفاف نہیں ہو سکتا۔ انصاف ہر ریاست کی بنیاد ہوتا ہے لیکن وہاں کوئی انصاف موجود نہیں۔ جس دنیا میں انصاف کے دوہرے معیار رواج پا چکے ہوں وہاں امن اور فلاح نہیں آ سکتی”۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کی جدوجہد ہر اس شخص کی جدوجہد ہے جو مظلوم، پسماندہ اور جبر سے خاموش کروا دیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا: "کوئی شخص ہم سے امید نہیں رکھتا کہ ہم خاموش رہیں اور اس بے انصافی پر بے حس رہیں۔ کیونکہ یہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہے جس کے مطابق ظلم پر رضامندی خود ایک ظلم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ، میرے پیارے دوست سب مل کر اس کی آگاہی پیدا کریں گے اور دنیا میں امن اور انصاف لانے کی مقدس جدوجہد کی حمایت کریں گے”۔

ترکی لاکھوں افراد کو ان کی نسل اور عقیدہ دیکھے بغیر خوش آمدید کہتا ہے

ترکی انسانی بنیادوں پر جاری سرگرمیوں کو گزشتہ سال 6 بلین ڈالرز سے مزید بڑھائے گا۔ صدر ایردوان نے کہا: "جب دنیا میں سیکیورٹی تحفظات کی بنیاد پر سرحدوں کو بند کیا جا رہا ہے اور دیواریں اور باڑیں لگائی جا رہی ہیں۔ ترکی لاکھوں افراد کو ان کی نسل، عقیدہ، زبان اور مزاج دیکھے بغیر خوش آمدید کہتا ہے”۔

تبصرے
Loading...