مغربی دنیا اپنے نظریات کو اسلاموفوبیا کے ذریعے مضبوط بنانا چاہتی ہے، ایردوان

0 919

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ترکی میں ہونے والے عالمی مسلم اقلیتوں کے پہلے سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "مغربی دنیا اپنے نظریات اور طریقہ زندگی کو اسلاموفوبیا کے ذریعے مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ اسلام، جدید لوگوں کے بحران کو حل کرنے والا واحد مذہب ہے۔ جسے اپنی ہی تیار شدہ دہشتگرد تنظیموں کے ذریعے بدنام کرنے اور بدنما بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے”۔

اسلام کو اپنی ہی تیار شدہ دہشتگرد تنظیموں کے ذریعے بدنام کرنے اور بدنما بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو 11 ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد کثیر پس منظر اور کثیر مقاصد رکھنے والے حملوں کی لہر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ترک صدر نے کہا کہ اسلام کو اپنی ہی تیار شدہ دہشتگرد تنظیموں کے ذریعے بدنام کرنے اور بدنما بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے حقوق اور آزادیوں کو دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور ہمارے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیل دیا گیا ہے۔ داعش، بوبو حرام، الشھاب اور فیتو جیسی دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں نے نہ صرف ہمارا جینا دو بھر کیا ہے بلکہ اسلام کے مخالف طبقے کو اسے استعمال کرنے کا موقع دیا ہے”۔

ہمیں اپنی جانوں کی قیمت پر القدس کا دفاع کرنا لازم ہے

اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ ہر مسلمان اپنی اور اپنے خاندان اور پڑوسیوں کے علاوہ اپنے لاکھوں بھائیوں اور بہنوں کی ذمہ داری رکھتا ہے، رجب طیب ایردوان نے کہا، "شامی مظلوموں کے حقوق کی حفاظت، یمن میں بھوک سے مرتے بچوں اور فلسطینی یتامیٰ کے ذمہ دار ہم ہیں۔ ہمیں اپنی جانوں کی قیمت پر القدس کی حفاظت کرنا لازم ہے جو امت مسلمہ کا وقار، عظمت اور آنکھ کا تارہ ہے۔ ہم اپنے مسائل کو حل کرتے ہوئے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی مشکلات سے غافل نہیں رہ سکتے۔ ہمیں مسلمانوں کا سیل پر لگے خون اور زندگیوں پر دکھائی جانے والی منافقت کو آشکار کرنے کے لیے زمین پر موجود رہنا چاہیے۔ ہم سب دیکھتے ہیں کہ کیسے مغربی طاقتیں ردعمل دیتی ہیں اور قیامت اٹھاتی ہیں جب ان کے اپنے مفادات خطرے میں ہوں۔ہم سب جانتے ہیں کہ کیسے شارک کی طرح جو خون کو سونگ کر حرکت میں آتی ہے ہزاروں کلومیٹر دور رہنے والے یہ ممالک دوڑے چلے آتے ہیں جب مسئلہ تیل، سونے، ہیرے اور مارکیٹ کا حصہ ہو۔ تاہم، ہم اس حقیقت سے بھی اچھی طرح سے واقف ہیں کہ وہ فلسطین اور اراکان میں ہونے والے قتل عام اور ہمارے پڑوسی ملک شام میں ہونے والے ظلم پر جس میں لاکھوں معصوم لوگ جان دے چکے ہیں اس پر اندھے ہو جاتے ہیں۔ کوئی ہم کو دھوکہ دینے کی کوشش نہ کرے”۔

تبصرے
Loading...