اسلاموفوبیا اور زینوفوبیا کا تباہ کن رجحان سماجی امن کے لیے خطرہ ہے، صدر ایردوان

0 98

"ایک شفاف دنیا ممکن ہے” کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "اسلاموفوبیا اور زینوفوبیا اب سیاست کو گرفت میں لے چکے ہیں۔ یہ ایک تباہ کن رجحان پیدا کر چکے ہیں جو ریاستی پالیسیوں کو راستہ دکھاتے ہوئے مسلمانوں کی روزمرہ زندگی اور سماجی امن کو تباہ کر رہا ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے نیو یارک میں ترکش امریکن نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی (TASC) کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کیا جس کا عنوان "ایک شفاف دنیا ممکن ہے” (A Fairer World is Possible) تھا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "میں ان تمام پسماندہ اور مظلوم لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جن کے دل آج ہمارے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ میں اپنے ان بہنوں اور بھائیوں کو سلامی دیتا ہوں جو دنیا بھر میں ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنی زندگی گزارنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "گزشتہ 2 سال سے کرونا وائرس کی وجہ سے انسانیت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ تعلیم سے لے کر صحت اور تجارت سے لے کر روزگار تک ہر شعبے میں سنگین مسائل اور مشکلات جنم لے رہی ہیں۔ وبا کے دوران اپنی جانیں گنوانے والے افراد کی تعداد تقریباً 46 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔”

"کووِڈ-19 وبا نے عالمی نظام کی بے انصافیوں کو کھول کر رکھ دیا ہے”

اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ وائرس کے علاج سامنے آنے اور زیادہ سے زیادہ افراد کی ویکسینز تک رسائی کے ساتھ وبا کی شدت کم ہونا شروع ہوگی، صدر ایردوان نے کہا کہ "لیکن یہاں جس چیز کی ضرورت ہے وہ دیگر مسائل سے نمٹنا ہے کہ جو وبا کی وجہ سے گمبھیر ہوئے ہیں۔ کووِڈ-19 کی وبا نے عالمی نظام کی خامیوں، بے انصافی اور عدم مساوات کا پردہ چاک کیا ہے۔ اس دور میں ماسک، وینٹی لیٹرز اور ادویات سمیت پیداوار کے ہر شعبے میں دنیا کو نمایاں مسائل رہے۔ ہم نے ایسی تصاویر بارہا اور مختلف مقامات پر دیکھیں جو انسانیت کے ناطے ہمیں پریشان کر رہی ہیں۔ ہم نے سنگین حالات کا سامنا کیا جس میں ہم نے بزرگوں کی دیکھ بھال کے مراکز میں غفلت کی وجہ سے لوگوں کی اموات کی روح فرسا تصاویر دیکھیں۔ لاکھوں افراد ایشیا اور افریقہ میں ہیں جنہیں اب بھی ویکسین کا پہلا ڈوز تک نہیں ملا۔”

بتاتے ہوئے کہ ترکی نے اپنے وسائل اور استعداد کی بنیاد پر 159 ممالک اور 12 بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کیا، صدر ایردوان نے کہا کہ "میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم اپنی مقامی طور پر تیار کردہ ترکوویک ویکسین، جس کی منظوری کا عمل ابھی باقی ہے، کو پوری انسانیت، اپنے دوستوں، اپنے بھائیوں اور اپنی بہنوں کے لیے پیش کریں گے۔”

ضرورت مندوں کی امداد میں امریکی مسلم برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ترک شہری اور مسلمان دونوں شاندار کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنی زندگیوں، طرزِ عمل اور سخاوت کے ذریعے امریکی معاشرے پر عیاں کر رہے ہیں کہ ایک مسلمان کی زندگی کتنی خوبصورت ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "لیکن بحیثیت انسانیت ہم ایک اور وائرس سے لڑ رہے ہیں جو کووِڈ-19 سے زیادہ تباہ کن، زیادہ خطرناک اور زیادہ فریب کار ہے۔ اسے یہ ‘اسلاموفوبیا کا وائرس’۔ یہ وائرس تیزی سے ان ممالک میں پھیل رہا ہے جو سالہا سال سے جمہوریت اور آزادی کے گہوارے کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔ اسلاموفوبیا اور زینوفوبیا اب سیاست کو گرفت میں لے چکے ہیں۔ یہ ایک تباہ کن رجحان پیدا کر چکے ہیں جو ریاستی پالیسیوں کو راستہ دکھاتے ہوئے مسلمانوں کی روزمرہ زندگی اور سماجی امن کو تباہ کر رہا ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "مسلمانوں کو ان کے عقائد، زبان، نام یا حلیے کی بنیاد پر غیر ٹھیرانا اب کئی ملکوں میں عام ہو چکا ہے۔ آپ نے نائن الیون کے دہشت گرد کے بعد اس ماحول کا تجربہ کیا ہوگا۔ آپ نے دیکھا کہ کس طرح غیر ذمہ دار سیاست دانوں کی جانب سے پیدا کیے گئے نفرت کے ماحول نے معاشرے پر گہرے زخم لگائے۔ لیکن تمام تر بے انصافیوں اور امتیازات کا سامنا کرنے کے باوجود آپ نے کبھی قانون سے روگردانی نہیں کی اور جمہوری سیاست کو پس پشت نہیں ڈالا۔ جن معاشروں میں آپ رہتے ہیں، ان کی ترقی میں مزید کردار ادا کر کے آپ نے مسلمانوں کو تنہا کرنے اور دشمن بنانے کے خواہش مندوں کو بھرپور جواب دیا۔ اتحاد، سالمیت اور بھائی چارے کے فروغ سے آپ نے مسلمانوں کو کمزور کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا۔”

تبصرے
Loading...