اسرائیل کا فلسطینی تعلیم و ثقافت پر وار، 13 اشاعتی ادارے تباہ کر دئیے

0 772

فلسطین میں جرنلسٹس سپورٹ کمیٹی نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے رواں سال کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں 13 سے زائد فلسطینی پریس، کتابوں کی دکانوں اور اشاعتی اداروں کو مسمار کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ تعلیمی اور اشاعتی اداروں کی تباہی اسرائیل کی تعلیم دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔ جنوری کے اوائل اور دسمبر تک قابض حکام نے درجنوں اشاعتی اداروں کو بند یا سیل کیا ۔

مئی میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کے دوران اسرائیل نے 8سے زیادہ پریس اور اشاعتی اداروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ یہ اشاعتی ادارے پرنٹنگ سروسز بھی فراہم کرتے تھے۔ بیان میں زور دے کر کہا کہ فلسطینی میڈیا، اداروں، پرنٹنگ ہاؤس ، دفاتر اور ثقافتی مراکز کے خلاف قابض فوج مختلف الزامات کے تحت کارروائیاں کرتی رہتی ہے۔

دوسری جانب عرب رکن کنیسٹ منصور عباس نے اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کرنے کا مطالبہ کردیا،جس پر فلسطینیوں کی جانب سے سخت مذمت کی گئی ہے۔

خبررساں اداروں کے مطابق فلسطینی ایوان صدر نے اسرائیلی پارلیمان میں عرب کمیونٹی کے نمایندہ ’یونائیٹڈ لسٹ‘ کے سربراہ منصور عباس کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ۔

ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ غیر ذمہ دارانہ بیانات اسرائیل میں انتہا پسندوں کی طرف سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے، مسجد اقصیٰ کی حیثیت کو نقصان پہنچانے اور فلسطینی عوام کی صدیوں کی تاریخ کو مٹانے کی سازشوں کا حصہ ہیں۔ منصور عباس کے بیانات کو فلسطینی قوم کے نمایندہ بیانات قرار نہیں دیا جاسکتا۔

قابض ریاست کی طرف سے قتل و غارت اور قبضے کی مذمت کرنے کے بجائے انتہا پسندوں کی حمایت کسی المیے سے کم نہیں ہے۔

ہم پُرعزم ہیں کہ بیت المقدس کو غاصبوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے، ایردوان

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: