ترکی کے ساتھ F-35 معاہدہ ختم کرنے اسرائیل نے امریکا کو قائل کیا

0 261

اسرائیلی میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ کو اسرائیل نے خفیہ طور پر قائل کیا کہ وہ ترکی کو F-35 لڑاکا طیارے خریدنے سے روکے تاکہ خطے میں اسرائیل کی عسکری برتری برقرار رہے۔

اسرائیل کے چینل 12 کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کے صدر رجب طیب ایردوان کے اعلان کے ساتھ ہی اسرائیل نے وائٹ ہاؤس پر زور دینا شروع کردیا تھا کہ وہ انقرہ کو F-35 پروگرام سے باہر نکالے۔ "اسرائیل نے واشنگٹن پر دباؤ ڈالا کہ وہ جدید ترین طیارے کی ترکی کو فروخت منسوخ کرے۔”

قبل ازیں گزشتہ مہینے واشنگٹن نے اعلان کیا تھا کہ وہ ترکی کو F-35 فائٹر جیٹ پروگرام سے نکال رہا ہے، جس کی دھمکیاں وہ تب سے دے رہا تھا جب سے انقرہ نے S-400 خریدنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اخراج مارچ 2020ء کے اختتام تک مکمل ہونا متوقع ہے۔

ابتدائی طور پر F-35 کے 30 لڑاکا طیارے آرڈر کرنے والا ترکی کُل 116 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ خریدنے کا ارادہ رکھتا تھا اور ملک کو ان میں سے چار موصول بھی ہونے والے تھے۔ البتہ ترکی کی جانب سے پروگرام کی تمام مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے باوجود چار F-35 طیارے فراہم نہیں کیے جائیں گے اور ترک پائلٹوں کی تربیت بھی روک دی گئی تھی۔

امریکی قدم کو انقرہ کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی وجہ سے نیٹو پر بھی دباؤ آ گیا ہے۔ اگر F-35 طیارے نہیں ملتے تو ترک حکام کا کہنا ہے کہ ترکی اپنی ضروریات کسی اور ذریعے سے پوری کرلے گا۔

امریکا کی جانب سے یہ قدم تب اٹھایا گیا جب ترکی کو 12 جون سے S-400 کے پرزے موصول ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ قومی وزارت دفاع نے گزشتہ ماہ بتایا کہ ڈلیوری کا پہلا حصہ مکمل ہو چکا ہے اور جس کے تحت S-400 کے ہارڈویئر اور آلات پر مشتمل 30 جہاز روس سے انقرہ پہنچے۔ ڈلیوری اپریل 2020ء تک جاری رہنے کا توقع ہے۔

2017ء سے ترکی اور امریکا S-400 خریدنے کے ترک فیصلے پر تناؤ کا شکار ہیں، امریکی حکام کا زور ہے کہ ترکی امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل سسٹم خریدے، اور ان کا کہنا ہے کہ روسی سسٹم نیٹو کے سسٹمز سے مطابقت نہیں رکھتا اور امریکی F-35 لڑاکا طیاروں کی خامیاں روس کے سامنے لے آئے گا۔

البتہ ترکی نے زور دیا کہ S-400 کو نیٹو سسٹمز کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا اور یہ اتحاد کے لیے کسی خطرے کے حامل نہیں ہوں گے۔ اس نے تکنیکی معاملات کو واضح کرنے کے لیے ایک کمیشن ترتیب دینے پر زور دیا لیکن امریکا اس تجویز پر عمل درآمد میں ناکام رہا ہے بلکہ اس نے پابندیوں کی دھمکیاں دے رکھی ہیں اور ترکی کا کہنا ہے کہ وہ پابندیوں کا مقابلہ کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں متعدد ایسے تبصرے کیے ہیں کہ جن میں ترکی پر پابندیاں لگانے میں ہچکچاہٹ ظاہر ہوتی ہے۔ 26 جولائی کو انہوں نے کہا کہ وہ S-400 خریدنے کا الزام ترکی پر نہیں لگاتے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ موجودہ صورت حال کی ذمہ دار ہے کہ جس نے پیٹریاٹ میزائل سسٹم ترکی کو فروخت کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اسرائیل نے پچھلے دو سال میں امریکا سے F-35 خریدنے شروع کردیے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں واحد ملک ہے کہ جو اس قسم کے لڑاکا طیارے رکھتا ہے۔ اسرائیلی حکومت امریکا کے امدادی فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے امریکی دفاعی ادارے لاک ہِیڈ مارٹن کے ساتھ کم از کم پچاس F-35 طیارے خریدنے کا معاہدہ رکھتی ہے۔ اب تک 16 طیارے فراہم کیے جا چکے ہیں اور باقی 2024ء تک ملتے رہیں گے۔

تبصرے
Loading...