فلسطینیوں کے قتل عام پر اسرائیل کو انٹرنیشنل کریمینل کورٹ میں لانے کی ضرورت ہے، ترک وزیر خارجہ

0 783

سوموار کے روز امریکہ کی طرف سے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے خلاف فلسطینیوں کے احتجاج پر جاری اسرائیلی ظلم و ستم پر انقرہ نے فلسطین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ مسئلہ بین الاقوامی کرائم کورٹ (آئی سی سی) میں حل کرنے کے لے آئیں۔

ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے سرکاری براڈکاسٹر تیریتے خبر (TRT Haber) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ، "فلسطین کو معاملہ آئی سی سی میں لے جانے کی ضرورت ہے کیوں کہ تیسرا فریق نہیں لے جا سکتا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی قوانین کے تحت مزید اقدامات اٹھانے کا جائزہ لے رہا ہے۔

امریکہ کی طرف سے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنا ایک اشتعال انگیر قدم ہے جس نے مسئلہ فلسطین کی آگ میں مزید ایندھن ڈالا ہے۔ پیر کے روز  سفارت خانے کی منتقلی کے وقت اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کی سرحد پر 62 فلسطینی مظاہرین کو شہید کر دیا اور ہزاروں کو زخمی کر دیا۔

یہ واضح کرتے ہوئے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کونسل جمعہ کو جینوا میں خصوصی اجلاس کرے گی، ترک وزیر خارجہ نے کہا، "ایک آزاد کمیشن کو غزہ تشدد پر ایک رپورٹ تیار کرنے کی ضرورت ہے اور اسرائیل کو قانون کے کہٹرے میں کھڑا کرنے کی ضرورت ہے”۔

چاوش اولو نے کہا، "فلسطین کو تسلیم کیا جانا چاہئے اور اقوام متحدہ کے رکن ملک بننا چاہئے۔ اب سے، دنیا کو دو ریاستی قرارداد کے لئے غیر معمولی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے”۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے گذشتہ روز عالمی رہنماؤں سے اس حوالے سے بات چیت کی ہے اور مسئلہ فلسطین پر مشترکہ موقف اپنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے ایران، جرمنی، انڈونیشیا، قطر اور سوڈان کے سربراہان مملکت سے بات کی اور اسلامی ممالک کو جمعہ کے روز استنبول میں او آئی سی کے خصوصی اجلاس کی دعوت دی۔

تبصرے
Loading...