ٹرمپ کا کُردوں کا ساتھ دینے سے انکار، اسرائیل پریشان

0 684

ترکی کی جانب سے شام میں فوجی دستے بھیجنے اور کُردوں کے خلاف کارروائی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے نے اسرائیلی حلقوں کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے کہ کہیں امریکی صدر کے فیصلوں کی قیمت انہیں بھی ادا نہ کرنی پڑ جائے۔

ترکی نے بدھ کو YPG ملیشیا کے خلاف شام میں کارروائی کا آغاز کیا جو صدر ٹرمپ کی جانب سے علاقے سے امریکی دستے نکالنے کے چند ہی دنوں بعد شروع ہوئی ہے۔

ٹرمپ کے اقدامات نے خود واشنگٹن کی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مذمت کا طوفان کھڑا کردیا ہے کہ جن میں ان کی اپنی ری پبلکن پارٹی کی اہمیت شخصیات بھی شامل ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے امریکا کے وفادار دوستوں کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ترکی کا حملہ کرنے کا منصوبہ ایک "ناقص خیال” ہے، جسے وہ قبول نہيں کرتے لیکن وہ ان کی راہ میں امریکی فوجیوں کو بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔

جمعرات کو ایک ٹوئٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کردوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا، البتہ انہوں نے اس ٹوئٹ میں ٹرمپ کے فیصلے کا ذکر نہیں کیا۔ "اسرائیل شام کے کرد علاقوں پر ترک حملے کی سخت مذمت کرتا ہے اور ترکی اور اُس کی کٹھ پتلیوں کو خبردار کرتا ہے کہ وہ کردوں کی نسل کشی سے باز رہیں۔ اسرائیل بہادرکُردوں کی انسانی امداد کے لیے تیار ہے۔” انہوں نے کہا۔

ٹرمپ کے حالیہ اقدامات نے نیتن یاہو کی قدامت پسند کابینہ کے اندر بے چینی پیدا کر دی ہے جو پہلے خود کو ٹرمپ انتظامیہ کے شانہ بشانہ آگے بڑھتا دیکھ رہی تھی۔

جمعرات کو ایک تقریر میں انہوں نے اسرائیل کی خود انحصاری پر زور دیا جو الیکشن مہم کے مقابلے میں لہجے اور رویّے میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ تب وہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بڑھانے بلکہ ایک مجوزہ اسرائیل-امریکا دفاعی معاہدے کی باتيں کیا کرتے تھے۔ لیکن اب کہتے ہیں کہ "ہم تعاون پر امریکا کے شکر گزار ہیں کہ جو حالیہ سالوں میں بہت بڑھا بھی ہے (لیکن) ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے اور اس بنیادی اصول کے مدنظر رکھنا چاہیے کہ کسی بھی خطرے کے سامنے اسرائیل کو اپنا دفاع خود کرنا ہوگا۔”

اسرائیلی وزیر اعظم کے قریبی عہدیدار تو ٹرمپ کے غیر معمولی اسرائیل نواز پالیسی اقدامات کی بھی بات کر رہے ہیں، جیسا کہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کا خاتمہ، یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا اور جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو ماننا، لیکن نجی محافل میں وہ ٹرمپ کی غیر یقینی کیفیت اور سودے بازی کے رویّے کو ایک مصیبت قرار دے رہے ہیں۔

میڈیا پر انٹرویوز دیکھیں تو اسرائیلی عہدیداروں سے بارہا یہ سوال پوچھا گیا کہ کہیں ٹرمپ نے کردوں سے "غداری” تو نہیں کی۔ نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ اور لیکود پارٹی کے رکن یووال شٹینز نے ایک ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں الفاظ میں بیان ہیں کرنا چاہتا کیونکہ امریکا کو سمجھانا میری ذمہ داری نہیں۔ لیکن میرے خیال میں امریکا کی عالمی معاملات سے الگ تھلگ ہونے کی پالیسی پوری دنیا کے لیے مسائل پیدا کرے گی اور ہمارے خطے کے لیے بھی۔ اگر امریکا پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بھی یہی پالیسی اختیار کرتا تو شاید آج پوری دنیا پر جرمنی کی حکومت ہوتی۔”

واضح رہے کہ اسرائیل 1960ء کی دہائی سے کردوں کے ساتھ عسکری، انٹیلی جنس اور کاروباری تعلقات رکھتا ہے اور عراق، شام، ترکی اور ایران میں بٹے ہوئے اس نسلی گروہ کو اپنے اور دشمنوں کے درمیان حائل قوت سمجھتا ہے۔ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف کردوں کو اہم مقابل سمجھتا ہے اور اس حوالے سے پریشان ہے کہ امریکا کے چھوڑے گئے خلاء کو کہیں ایران نواز گروہ نہ پُر کرنے لگیں۔ بہرحال، ٹرمپ کی تہران کے حوالے سے حالیہ سفارتی پیش رفت اور سخت گیر جنگجویانہ پالیسی رکھنے والے قومی سکیورٹی مشیر جان بولٹن کے اخراج نے بھی اسرائیل کو دھچکا پہنچایا ہے۔

نیتن یاہو کے ایک قریبی عہدیدار کا کہنا ہے کہ شام کے حوالے سے معاملات نجی ذرائع سے نمٹائے جائیں گے۔ امریکا اور اسرائیل میں دونوں ملکوں کے سفیر اس سلسلے میں کردار ادا کریں گے۔ "کچھ معاملات پر فیصلے عوام کی نظروں سے دُور رہ کر کرنا ہی بہتر ہے،” انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔

تبصرے
Loading...