اسرائیلی صدر ہرزوگ ترکی کا دورہ کر سکتے ہیں، صدر ایردوان

0 1,129

اسرائیل کے ساتھ سفارتی بات چیت جاری ہے، صدر رجب طیب ایردوان نے منگل کی شام ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کے ہم منصب اسحاق ہرزوگ جلد ترکی کا دورہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے ترکی کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانے کے لیے اسرائیلی حکومت کی رضامندی بارے بتاتے ہوئے یہ بھی کہا، ’’وزیراعظم نفتالی بینیٹ بھی تعلقات بحالی پر ایک مثبت نقطہ نظر رکھتے ہیں۔‘‘

صدرایردوان  نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ترکی- اسرائیل کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون پر بھی بات کی۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کے راستے یورپ تک اسرائیلی گیس کی ترسیل میں ہمیں پہلے کچھ پیش رفت دکھائی دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم، سیاست دان، امن برقرار رکھنے کے لیے موجود ہیں، نہ کہ جنگ،” صدر ایردوان نے مزید کہا کہ اگر ممکن ہوا تو ترکی توانائی کو "امن کے آلے کے طور پر” استعمال کر سکتا ہے۔

مزید کہا، "اگر نہیں تو ہر ملک خود فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ہم نے تحقیقاتی بحری جہاز بغیر کسی قیمت کے نہیں خریدے ہیں”۔

"ان جہازوں کے ذریعے، ہم اپنی قوم اور خطے کے لیے نئے مواقع کی تلاش جاری رکھیں گے۔”

ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات 2010ء میں غزہ کی پٹی میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے جانے والے ترک امدادی بحری جہاز ماوی مرمرا پر اسرائیلی بحریہ کے حملے کے بعد خراب ہو گئے تھے۔ اس حملے میں 10 ترک امدادی کارکن شہید ہو گئے تھے۔

اس واقعے نے ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک غیر معمولی بحران پیدا کر دیا جو دہائیوں سے پرامن تھے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک نے اپنے سفارتی سفیروں کو بھی واپس بلا لیا۔

ترک اور فلسطینی آج "ماوی مرمرا یکجہتی جہاز” کے واقعہ کی یاد منا رہے ہیں

تاہم 2013ء میں، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ترکی سے معافی اور ماوی مرمرا کے متاثرین کو معاوضے کے طور پر 20 ملین ڈالر (اس وقت تقریباً 38 ملین ترک لیرا) کی ادائیگی کے ساتھ، ترکی اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر واپس لانے کی کوششیں شروع ہوئیں۔

دسمبر 2016ء میں، دونوں ممالک نے مفاہمتی معاہدے کے بعد سفیروں کی دوبارہ تقرری کی اور دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

تاہم، ترک حکام فلسطینیوں کو نشانہ بنانے والی اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں، جن میں مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں غیر قانونی بستیاں اور غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہے۔

دوسری طرف اسرائیل کا سفر کرنے والے ترک شہری بھی اسرائیلی پابندیوں کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔ تاہم، اسرائیل کی ملک بدری، ویزا مسترد کرنے، من مانی حراست اور ترک شہریوں کو ہوائی اڈوں پر بلا وجہ تاخیر کوانے جیسی غیر رسمی پالیسی کے باوجود ہر سال سینکڑوں ترک شہری اسرائیل کا سفر کرتے ہیں۔

ترکی جو فلسطینیوں کے ساتھ اپنی اٹل یکجہتی کے لیے دنیا بھر میں معروف ہے اور عالمی سطح پر کئی دہائیوں سے فلسطینی کاز کی حمایت میں آواز اٹھا رہا ہے۔ ترک حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کا واحد راستہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے دائرہ کار میں مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور جامع حل ہے۔

یاد رہے کہ ترکی اور اس کے صدر رجب طیب ایردوان فلسطین تنازعہ میں دو ریاستی حل کے حامی ہیں جس میں بیت المقدس کا دارالحکومت رکھنے والے آزاد فلسطینی ریاست شامل ہو۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: