ایران کے خلاف مشترکہ فرنٹ بنانے کا سعودی منصوبہ اسرائیلی وزیراعظم نے مسترد کر دیا، رپورٹ

0 1,102

چینل 13 کی بدھ کے روز جاری ہونے والی تازہ رپورٹ کے مطابق 2014ء میں اسرائیل کے تباہ کن آپریشن پروٹیکٹو ایج کے آخری دن، جس میں 2200 فسلطینیوں کو شہید کیا گیا۔ سعودی عرب نے اسرائیل کو ایک علاحدہ ریاست کے منصوبے کے ساتھ ایران مخالفت مشترکہ فرنٹ کے قیام کی تجویز پیش کی جسے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مسترد کر دیا۔

چینل نے مزید کہا ہے کہ اسرائیلی جاسوس ایجنسی موساد کے جاسوس چیف تیمیر پاردو جس نے 2011 سے 2016ء تک موساد میں کام کیا، اس وقت سعودی عرب کا ایک انتہائی خفیہ دورہ بھی کیا۔

چینل کے مطابق سعودی منصوبہ میں غیر قانونی طور پر غزہ کی غیر قانونی طور محاصرہ شدہ پٹی میں اسرائیل کی مدد اور "اپ گریڈیڈ ورژن آف دی عرب پیس انیشیٹو” کے نام سے اسرائیلی فلسطین امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔

رپورٹ کہتی ہے کہ سعودی انتظامیہ اس مقام سے "مزید آگے بڑھی جہاں وہ پہلے پہنچ چکی تھی” اور انہوں نے اسرائیلی مطالبات کے بڑے حصے کو قبول کیا۔ اس تجویز کی پیش رفت میں اسرائیلی وزیر اعظیم نیتن یاھو ایک تیسرے ملک میں سعودی عرب کی نیشنل سیکورٹی کونسل کے چئیرمین شہزادہ بندار بن سلطان آل سعود سے بھی ملے۔

تہران اور ریاض میں بڑھتی ہوئی چپقلش نے سعودی عرب اور اسرائیل کے مشترکہ مفادات میں تعاون میں مدد کی تاکہ وہ مشترکہ ایرانی خطرے کے خلاف مل کر کام کر سکیں۔

گذشتہ سال سعودی عرب نے اپنے ہوائی حدود کو پہلی بار اسرائیل کی تجارتی پروازوں کے لیے کھول دیا۔ جسے اسرائیلی حکام نے دو سالہ کوششوں میں تاریخی قدم قرار دیا۔

نومبر 2017 میں اسرائیلی کابینہ نے سعودی عرب کے ساتھ خفیہ رابطے کق آشکار کر دیا۔ یہ خفیہ تعلقات اور مذاکرات کو طویل افواہوں کے بعد غیر معمولی طور تسلیم کرنا تھا جس کا سعودی عرب اب بھی انکار کرتا ہے۔

تبصرے
Loading...