ترک صدر کا بیت المقدس پر ردعمل، اسرائیلی وزراء زہر افشانی کرنے لگے

0 221

ایردوان کی اسرائیل کے بیت المقدس کو دارالخلافہ بنانے کی مذموم کوشش کے خلاف سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی پر اسرائیلی حکام سیخ پا ہو گئے اور ترک صدر پر بے بنیاد تنقید شروع کر دی۔

اسرائیل ٹائمز کے مطابق اسرائیلی سفارتی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میں کہا ہے کہ ایردوان مانے یا نہ مانے بیت المقدس 3000سال سے یہودیوں کا اور 70سال سے اسرائیل کا دارالخلافہ ہے۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ترک صدر اس فیصلہ کے خلاف پوری دنیا کے مسلمانوں کو متحد کرنے اور مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی جسکا سربراہ اس وقت ترکی ہے کا اجلاس بلانے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں ۔انہوں نے رجب طیب ایردوان کی تقریر کے الفاظ ؛ "مسٹر ٹرمپ یہ ہمارے لئے سرخ لائن ہے” کو بطور خاص تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ اسکے بعد ان کے پارٹی ممبران خوشی سے تالیاں بجاتے رہے۔

اسرائیلی وزیر تعلیم نفتالی بینیٹ جو کہ جیوش ہوم پارٹی کے سربراہ بھی ہیں نے ایردوان کے خلاف تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ترک صدر اسرائیل پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے مقاصد بشمول بیت المقدس کو دارالخلافہ بنانے کی طرف بڑھنا ہے اور تنقید کرنے والے ہمیشہ کرتے رہتے ہیں سو متحدہ بیت المقدس کا حصول ایردوان کی ہمدردی کے حصول سے زیادہ ضروری ہے۔

اسرائیلی وزیر برائے ٹرانسپورٹ اور انٹیلی جنس یسرائیل کاٹز نے ٹویئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ریاست عثمانیہ کا خاتمہ ہو چکا ہے، اسرائیل ترکی سے حکم نہیں لے گا۔ اسرائیل ایک خود مختار ریاست اور بیت المقدس اسکا دارالخلافہ ہے کوئی بھی تاریخی قدم بیت المقدس کو اسرائیلی دارالخلافہ تسلیم کرنے سے زیادہ صحیح اور حق پرست نہیں ہے کیونکہ بیت المقدس 3000سال سے یہودیوں کا دارالحکومت ہے۔سلطان اور عثمانی سلطنت کے دن گزر چکے ہیں ۔

اسرائیلی وزیر برائے ہاوسنگ یاو گلانت نے سب کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ ترکی اپنے مسائل کی فکر کرے اور اسرائیل پر ترکی کا اقتدار ختم ہوئے 100سال کا عرصہ بیت چکا ہے ۔ ترک صدر کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایردوان تمہیں جن مسائل کا سامنا ہے ان پر توجہ دواور ہمیں دھمکانا چھوڑو۔

یش آتد پارٹی کے سربراہ یائر لیپڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کو ترکی کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لانا چاہیئے۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ ترک صدر جو ہمارے فوجیوں کوبھی غلط ناموں سے پکارتے ہیں نے ایک بار پھر تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایردوان کو واضح کرے کہ وہ اسرائیل کو دھمکی نہیں دے سکتے۔ بیت المقدس ہمارا دارالحکومت ہے اور وقت آ گیا ہے کہ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے۔ امریکی اور دیگر ممالک کے سفارتخانے بیت المقدس میں ہی ہونے چاہئیں ۔

فریڈم فلوٹیلا پر 2010ء میں اسرائیلی جارحیت کے بعد ترکی نے اسرائیلی سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے تھے جو پچھلے سال بحال ہوئے تھے ۔ 2010ء میں اسرائیلی فوجیوں نے بربریت کی ایک مثال قائم کرتے ہوئے غزہ کے لئے امدادی سامان لیکر جانے والے قافلے پرکھلے پانیوں میں حملہ کر کے 10 ترک باشندوں کو شہید کر دیا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔

تعلقات بحال ہونے کے بعد بھی ایردوان گاہے بگاہے فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے آئے ہیں۔

عشروں سے جاری اسرائیل فلسطین تنازعہ میں بیت المقدس سب سے زیادہ متنازعہ حیثیت کا حامل ہے ۔اسرائیل نے 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں اسے چھین لیا اور 1980ء میں اس پر اپنی ملکیت ظاہر کر دی جبکہ بین الاقوامی برادری نے اسے اسرائیل کا حصہ ماننے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالخلافہ بنانا چاہتے ہیں۔

1995میں امریکی کانگریس نے بیت المقدس ایمبیسی ایکٹ پاس کرتے ہوئے بیت المقدس کو بطور اسرائیلی دارالخلافہ تسلیم کیا تھا اور امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کی منظوری دی تھی ۔ تاہم گزشتہ امریکی صدور نے قومی سلامتی کی وجہ سے اسکو ملتوی کئے رکھا۔

بیت المقدس کے اقتداراعلی کی تقسیم اور تینوں الہامی مذاہب کے لئے مقدس سمجھی جانیوالی زیارات کی دیکھ بھال کے معاملات پر اختلافات پر بہت سے امن معاہدے ناقابل عمل قرار دیکر ردی کی ٹوکری کی نذر کئے جا چکے ہیں۔ (رپورٹ: خضر منظور)

تبصرے
Loading...