استنبول کے پانچ اہم سیاحتی مقامات آپ بھی جانیے

0 20,762

تاریخ میں استنبول قسطنطنیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اسلامی فاتحین نے اس کا نام اسلامبول رکھا جو بعد میں استنبول بن گیا۔ استنبول ترکی کا سب سے بڑا شہر اور ثقافتی و اقتصادی مرکز ہے۔ اس کے علاوہ یورپ میں داخلے کے لیے اسے ٹرازٹ مقام حاصل ہے، ہر سال لاکھوں افراد سیاحت کے لیے استنبول آتے ہیں، استنبول میں دیکھنے کے لیے کون کون سے اہم مقامات ہے اس کی ایک چھوٹی لسٹ ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔

آیا صوفیا

یہ فتح استنبول سے پہلے چرچ ہوا کرتا تھا جسے بعد میں بطور مسجد استعمال کرنا شروع کر دیا گیا۔ بیسویں صدی میں اسے میوزیم بنا دیا گیا اور اذان پر پابندی عائد کر دی گئی۔ گزشتہ سال 85 سال بعد آیا صوفیا میں دوبارہ اذان دی گئی۔ آیا صوفیا استنبول کی ایک عظیم یادگار ہے اور ہر سیاح یہ جگہ ضرور دیکھتا ہے۔

مقام: آیا صوفیا میدانی- سلطان احمد

سرائے توپ قاپی (توپ قاپی محل)

سرائے توپ قاپی 15 ویں صدی عیسوی میں فاتح محمد نے تعمیر کیا تھا یہ سلاطین عثمانیہ کی باقاعدہ رہائش گاہ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور اہم ریاستی عہدیدار اور سفراء بھی یہیں ٹھہرتے تھے۔ یہ بڑا سرایا اسلامی آرٹ کا شاہکار ہے۔ اس میں جگہیں حرم، میدان ثانیہ، کونسل چیمبر، میدان ثالثہ، ایک خفیہ مقام جہاں راز محفوظ کیے جاتے تھے اس کے علاوہ ہزاروں کمرے شامل ہیں۔ اس میں اس دور کے ظروف، ملبوسات، ہتھیاروں، ڈھالوں، فن پاروں، خطاطی کے نمونوں اور عثمانی خزانوں اور زیورات نمائش کے لیےموجود ہیں۔ سرائے توپ کاپی دیکھنے لیے آپ کو آدھا دن صرف کرنا پڑتا ہے۔

مقام: باب ہمایوں، گل خانے پارک

مسجد سلطان احمد- نیلی مسجد

اسے بیرونی دیواروں کے نیلے رنگ کے باعث نیلی مسجد کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ ترکی کی واحد مسجد ہے جس کے چھ مینار ہیں۔ جب تعمیر مکمل ہونے پر سلطان کو اس کا علم ہوا تو اس نے سخت ناراضی کا اظہار کیا کیونکہ اُس وقت صرف مسجد حرام کے میناروں کی تعداد چھ تھی لیکن کیونکہ مسجد کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی اس لیے مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ مسجد حرام میں ایک مینار کا اضافہ کرکے اُس کے میناروں کی تعداد سات کر دی گئی۔ نماز مغرب پر یہاں مقامی باشندوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہوتی ہے۔ مسجد کے عقب میں آراستہ بازار ہے

مقام: میدانی سلطان احمد

استنبول آثاریاتی عجائب گھر

اگر آپ توپ قاپی محل سے تھوڑے آگے بڑھیں تو وہاں یہ عجائب گھر ملے گا، اس کے تین حصے ہیں ایک قدیم ترین آثار، دوسرا مومی مجسموں کا حصہ جبکہ تیسرا حصہ فاتح سلطان محمد کے عہد کی ٹائیلوں کا پیولین ہے۔

مقام: گل خانے پارک، سلطان احمد

دولما باغچہ سرائے – دولما پاغچہ محل

دولما باغچہ استنبول کا تاریخی شاہی محل ہے جو سلطنت عثمانیہ کا انتظامی مرکز رہا ہے۔ یہ استنبول کے یورپی حصے میں آبنائے باسفورس کے کنارے واقع ہے۔ دولما باغثہ پہلا یورپی طرز کا محل تھا جس کی تعمیر کا حکم سلطان عبدالمجید اول نے دیا تھا۔ دولماباغچہ محل اب ایک عجائب گھر ہے جو پیر اور جمعرات کے علاوہ ہر روز صبح 9 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک عوام کے لیے کھلا ہوتا ہے۔ یہ محل آجکل ملی سرائے لر دائرہ بشکان لہی (نظامتِ قومی محلات) کے زیر انتظام ہے۔
جدید ترکی کے بانی اور پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک نے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی محل میں گذارے اور 10 نومبر 1938ء کو اسی محل کے ایک کمرے میں انتقال کر گئے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے گذشتہ ماہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے اس محل میں ملاقات کی تھی۔

 

تبصرے
Loading...