استنبول کا تاریخی کلیسا 7 سال بعد دوبارہ کھولا جائیگا

اس اتوار کو ایک پرتکلف تقریب میں ترک اور بلغاریہ کے سربراہان مشترکہ طور پر استنبول کے گولڈن ہارن ساحل کے کنارے واقع مشہور بلغاریائی کلیسا سیواتی سٹیفن کا افتتاح کرینگے۔

0 2,530

انیسویں صدی میں استنبول میں رہائش پذیر بلغاریوں کا تعمیر کردہ یہ کلیسا ترکی کی پرانے چرچوں کو ان کی عظمت رفتہ کے طور پر بحال کرنے کی مہم کی تازہ ترین مثال ہے۔ یہ آئرن چرچ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے اور اتوار کے روز ہونے والی اسکی تقریب رونمائی میں ترک صدر رجب طیب اردگان اور بلغاریہ کے وزیر اعظم بیوکو بورژو کی شرکت بھی متوقع ہے۔

سیواتی سٹیفن کو دنیا میں لوہے سے بنے واحد چرچ کے نام سے پہچانا جاتا ہے مگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اسکی صورتحال ناگفتبہ تھی۔ ترکی اور بلغاریہ نے ایک مشترکہ منصوبے کے تحت اسکی بحالی کا کام آج سے کوئی سات برس قبل شروع کیا ۔ مشہور تاریخی قصبے بالات میں واقع چرچ کی بحالی کی ذمہ داری استنبول میں بسنے والے بلغاریوں کی ایک تنظیم کے سپرد کی گئی۔

قدامت پرست مسیحیوں کی اس عظیم نشانی کی تعمیر 1898 میں اس جگہ پر ہوئی جہاں کبھی لکڑی سے بنا کلیسا ہوتا تھا جو آگ لگنے کیوجہ سے خاکستر ہو گیا تھا ۔اسکی تعمیر کا ٹھیکہ ایک آسٹریائی ٹھیکیدار کو دیا گیا اور آسٹریا سے 500 ٹن وزنی لوہے کے ٹکڑے اسکی تعمیر کے لیئے برآمد کیے گئے تھے۔ ان ٹکڑوں کو جوڑ کر 8 ستمبر 1898 کو اسکی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اسکو عبادت کے لئے کھول دیا گیا۔ تین گنبدوں پر مشتمل یہ کلیسا استنبول کے باقی کلیساؤں میں ایک منفرد اور امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔ اسکے گھنٹہ گھر کی چھ گھنٹیاں روس کے علاقے سے منگوائی گئی تھیں جنمیں سے اب صرف دو باقی ہیں۔ صلیب کے نشان سے ملتے جلتے کلیسا میں ایک گراؤنڈ فلور، ایک تہہ خانہ ، ایک گیلری اور ایک مخروطہ ہے۔

استنبول کے میئر میولوت یوسل نے ڈیلی صباء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ نے صدر اردگان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اس چرچ کی بحالی نو شروع کی تھی ۔ انھوں نے مزید کہا کہ استنبول عظیم تقافتی ورثے کا مالک ہے جسے مستقبل کے لئے محفوظ کئے جانے کی ضرورت ہے۔ ہمارا مقصد دنیا کو یہ بتانا ہے کے مختلف مذاہب ، زبانوں اور تہذیبی فرقوں کے درمیان پیار محبت ممکن ہے۔

مئیر نے کہا کہ پہلے 2005 میں اسکی بحالی کا کام شروع ہواتب اس بات کا انکشاف ہوا کہ کلیسا کی بنیادیں کمزور ہیں اور انہیں تقویت کی ضرورت ہے۔
.مزید کام 2011میں شروع ہوا جب یہ پتہ لگا کہ عمارت گھلنا شروع ہو گئی ہے۔ ہم دنیا میں باقی بچے ہوئے اس واحد آئرن چرچ کو شائد کھو بیٹھتے، انہوں نے بتایا۔ مکمل کئے گئے کام میں دیواروں کی دوبارہ تعمیر، زنگ آلود لوہے کے کالموں کی بھرائی، انسولیشن،بیسمنٹ کی تعمیر و زیبائش، دیواروں میں پڑنے والے شگافوں کی بھرائی اور سب سے اہم عمارت کے ظاہری حصہ کی تعمیرنو اور زیبائش شامل ہیں۔ میئر کے مطابق فرش کے ماربل کو بھی تعمیر نو کے دوران تبدیل کیا گیا اور اس دوران فرش کی اصلیت قائم رکھنے کا خصوصی خیال رکھا گیا۔ عمارت کے اندرونی حصہ میں موجود لوہے سے بنے سامان زیبائش کو تعمیر نو کے بعد دوبارہ لگا دیا گیا ہے۔ کلیسا کے اندر موجود میدان کے گرد بھی لوہے کی باڑ لگائی گئی ہے۔ اس پر کل تقریبا 13ملین ترکی لیرا (تقریبا ساڑھے تین ملین امریکی ڈالر) خرچ ہوئے ہیں۔

اس تعمیر نو کے بدلے میں بلغاریہ کی حکومت نے بلغاریہ کے شہر پلوڈیو میں موجود عثمانی دور کی ایک مسجد کی تعمیر نو کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
چودہویں صدی عیسوی میں تعمیر کردہ مذکورہ بالا مسجد یورپی سرزمین پر موجود قدیم ترین عثمانی یا اسلامی شاہکار ہے۔ "یوسل نے واضح کیا کہ یہ مسجد بالخصوص مسلمانوں اور ترکوں کے لئے بلغاریہ میں ایک شاندار ماضی کی درخشندہ علامت ہے” یوسل نے انکشاف کیا کہ استنبول میونسپلٹی 2008 میں اس مسجد کی بحالی اور تعمیر نو کا کام کروایا اور اسے دوبارہ عوام کے لئے کھول دیا اس سے پہلے یہ مسجد عدم توجہی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث بالکل گرنے والی تھی۔

یوسل کو یقین ہے کہ سیواتی سٹیفن کی تعمیر نو سے مزید سیاح استنبول کا رخ کرینگے اور یہ عقیدہ کی بنیاد پہ سیاحت کے فروغ کا باعث بنے گا۔
یہ شہر کھلی فضا میں قائم ایک عجائب گھر ہے جسمیں انسانی ہاتھ سے بنے اوزار اور عمارتیں ہیں اور یہ عقیدہ کی بنیاد پہ سیاحت میں ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یوسل نے کہا کہ مثال کے طور پر سریشی جو استنبول کا ایک قدیمی علاقہ ہے میں عثمانی دور کی 340 مساجد، 95 آرمینائی چرچ، 35 امریکن چرچ اور 22 سیناگاگ (یہودی عبادتگاہیں) ہیں اور یہ تمام مقامات ایک ہی راستہ پر ایستادہ ہیں۔ "مسلمانوں کے مدرسے اور قدیم مقبرے، قدامت پرست یونانی راہبوں کی خانقاہیں اور مقامات جو آرمینیائی اور یونانی برادری کے لئے مقدس حیثیت رکھتے ہیں ہمارے ورثہ میں شامل ہیں”، یوسل نے ڈیلی صبا کو بتایا۔

اس قدر خوبصورتی شاید ہی دنیا میں کہیں اور دیکھنے کو ملے گی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ خوبصورتی شہر کو شہرت کے مزید چاند لگائے گی۔ ترکی اور بلغاریہ کے تعلقات اچھے ہیں جبکہ مشترکہ تاریخ کیوجہ سے دونوں کو مسائل کا سامنا بھی رہتا ہے جیسے کہ ترکی میں بسنے والے بلغاریوں کو ترکوں سے اپنے حقوق سے اغماض برتنے کا گلہ رہتا ہے۔ یوسل نے امید ظاہر کی کہ ترکی میں چرچ اور پلووڈیو میں مسجد کی تعمیر نو سے مشکلات نمٹانے میں مدد ملے گی تاہم انہوں نے اس ضمن میں مزید مختلف کوششیں کرنے کا بھی کہا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 15 سال میں ترکی نے بلغاریہ کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کئے تاہم ترک حکومت بلغاریہ میں سکونت پذیر ترکوں کے مسائل مکمل طور پر حل کرنے کے قابل نہ تھی پھر بھی انہوں نے بہت سے مسائل میں بہت حد تک ریلیف دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمیں کوئی شک نہیں کہ ابھی بہت کام کرنا باقی ہے اور صدر طیب اردگان امن اور باہمی تعاون کی فضا کو برقرار رکھنے کے لئے مصمم ارادے کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے واصل لایاز جو کہ بلغاریہ آرتھوڈوکس چرچ فاونڈیشن کے سربراہ ہیں نے چرچ کی تعمیر میں حصہ لینے والے فریقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چرچ کی افتتاحی تقریب شاندار ہو گی۔ ان کے مطابق کلیسا کی افتتاح تقریب میں بلغاریہ سے ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ لایاز نے یاد دہانی کروائی کہ اردگان نے کلیسا کی تعمیر نو استنبول کی بلغاریائی کمیونٹی کے کہنے پر تب شروع کروائی تھی جب وہ وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے کہا کہ اردگان جب استنبول کے میئر تھے تب انہوں نے مذکورہ چرچ کی بحالی کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاڑوسی بھی ہیں کیونکہ اردگان کا تعلق قاسم پاشا کے علاقے سے ہے جبکہ ہم (بلغاریائی ) بالات کے علاقہ میں رہتے ہیں۔ لایاز کے مطابق اجسے 8،9 سال پہلے ان کی درخواست پر اردگان نے اس چرچ کی تعمیر نو کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ایک حصہ انتہائی مہارت کے ساتھ نکالا گیا اور مناسب مرمت کے بعد واپس لگایا گیا۔ ان کے مطابق تمام مرکزی کالم تبدیل کئے گئے اور لوہا تقریبا 100سال تک کے لئے قابل عمل رہے گا۔ لایاز کے مطابق انہیں یقین ہے کہ یہ استنبول کا بہترین کلیسا شمار کیا جائیگا۔

بلغاریائی ہمیشہ عثمانی سلطنت کے دارلخلافہ میں موجود رہے مگر ان کی تعداد اور عثمانی سلطنت میں پناہ گزین ہونے کے سلسلہ میں اٹھارہویں صدی میں قابل ذکر اضافہ ہوا اور وہ اپنی ترکی میں موجودگی کی تاریخ بھی اٹھارہویں صدی سے ہی بتلاتے ہیں۔ سٹیفن بوگوریدی عثمانی دور میں ایک حکومتی نمائندہ تھا اس نے سیواتی سٹیفن قائم کرنے کے لئے کوشیش کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا اور یہ زمین جہاں یہ چرچ قائم ہے کی زمین اسکی ذاتی ملکیت تھی اسنے چرچ کی تعمیر کے لئے عطیہ کی تھی

2002 میں آق پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے ترکی نے اقلیتون بشمول یونانی، بلغاریائی قدامت پسند عیسائیوں اور ساسانیوں سمیت تمام کے مذہبی مقامات کو واپس ان کی عملداری میں دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ بہت سی جائیدادیں جو ترک ریاست نے دہائیوں سے بحق سرکار ضبط کر رکھی تھیں کو پہلے ہی متعلقہ مذاہب کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ جبکہ حکومت متروکہ املاک کی بحالی کی پالیسی پر بھی گامزن ہے۔

2013 میں بلغاریائی آرتھوڈکس چرچ کو مرکزی استنبول میں 59000 مربع میٹر کا پلاٹ بھی واپس کیا گیا جو کبھی چرچ کا انتظام و انصرام سنبھالنے والی فاونڈیشن کی ملکیت تھا۔

تبصرے
Loading...