استنبول مہنگا ہے، مرنے کے بعد بھی

0 268

ایسا لگتا ہے کہ استنبول کے باسی مرنے کے بعد بھی اِس شہر کے مہنگے طرزِ زندگی سے چھٹکارا نہیں پا سکتے کیونکہ بلدیہ استنبول نے 2020ء کے لیے قبروں کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔

بلدیہ کے اعلان کے مطابق چنگل کوئے، قراجہ احمد، رومیلی حصاری اور زنجیرلی کویو کے پوش علاقوں میں "درجہ اوّل” کی قبروں کی قیمتیں 30,000 لیرا (5,180 ڈالرز) سے بڑھا کر 34,000 لیرا (5,870 ڈالرز) کر دی گئی ہیں۔ "تیسرے درجے” کی قبریں جو شہر کے نواحی علاقوں میں ہیں کہ جہاں ذرا مناسب قیمت پر مرنے والوں کو آخری آرام گاہ مل سکتی ہے، ان کی قیمتیں بھی 4,000 لیرا (680 ڈالرز) سے بڑھا کر 4,500 لیرا (780 ڈالرز) کر دی گئی ہیں۔

بلدیہ نے اقلیتوں کے لیے قبرستانوں میں بھی قبروں کی قیمتیں 6,500 لیرا سے بڑھا کر 7,150 لیرا کر دی ہیں اور تدفین کی خدمات کی فیس بھی 300 سے بڑھا کر 350 لیرا کر دی گئی ہے۔

شہر کے قبرستانوں کو چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اُن کا درجہ ان کی جگہ کے حساب سے طے کیا جاتا ہے۔ بلدیہ قبروں کی قیمتیں طے کرتی ہے اور ان میں تبدیلی قبرستان کی جگہ، خصوصیات اور موجودہ معاشی اشاریوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

استنبول کا مہنگا ترین قبرستان زنجیرلی کویو شہر کے مصروف ترین کاروباری مرکز میں بلند ترین عمارات کے سائے تلے ہے۔ یہ ملک کے امیر طبقے اور اشرافیہ کی آخری آرام گاہ ہے کہ جہاں ترکی کی مشہور کاروباری شخصیات سے لے کر معروف گلوکار تک مدفون ہیں۔ کیونکہ کچھ قبرستانوں میں اب تدفین کے لیے جگہ ہی نہیں بچی، اس لیے موجودہ قبرستانوں میں قبروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں کہ جو کبھی کبھار لاکھوں لیرا تک بھی پہنچ جاتی ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے اور متنوّع شہر استنبول میں مسلمانوں کے لیے 502 اور اقلیتوں کے لیے 67 قبرستان موجود ہیں۔

تبصرے
Loading...