استنبول میئر انتخابات، ایردوان کی شکست یا جیت؟

0 4,024

استنبول کے دوبارہ انتخابات نے ترک سیاست کو ایک بار پھر عالمی موضوع بنا دیا ہے۔ترک الیکشن بورڈ کی جانب سے جب 31 مارچ کے انتخابات کو کالعدم قرار دیا تو ملک اور بیرونِ ملک کئی حلقوں نے ترک جمہوریت کے لیے ایک دھچکا سمجھا تھا۔ حال میں جیتنے والے امیدوار نے بھی ترک الیکشن بورڈ کو متنازع قرار دیتے ہوئے فیصل کو ایردوان کی خواہش قرار دیا تھا۔ لیکن درحقیقت انہی اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے دوبارہ ہونے والے انتخابات میں حصہ لینا اور ایک زیادہ شفاف اور آزادانہ الیکشن مہم چلا کر کامیابی حاصل کرنا عوام کے ملک کے سیاسی نظام پر اعتماد اور ایردوان کے غیر متنازع منصفانہ کردار کو بحال کرتا ہے۔ وہی تجزیہ نگار جو دوبارہ انتخابات پر اعتراضات اور دوبارہ انتخابات کو دھونس دھاندلی قرار دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ تازہ نتائج پر اب کہتے پائے گئے کہ ترکی میں انتخابات میں دھاندلی کرنا تقریباً ناممکن ہے کہ جہاں انتخابی عمل کے ہر مرحلے میں تمام سیاسی جماعتوں کو اظہار کا برابر موقع دیا جاتا ہے۔

استنبول کے میئر کے لیے غیر معروف مقامی سیاست دان اکرم امام اوغلو کی کامیابی شاید اتنی بڑی خبر نہ ہو، جتنی کہ رجب طیب ایردوان کی جماعت انصاف و ترقی (آق) پارٹی کی ناکامی بڑی خبر ہے۔ اس خبر نے نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی سرخیوں میں جگہ پائی ہے۔ 31 مارچ کو ہونے والے اصل انتخابات کالعدم قرار دیے جانے کے بعد دوبارہ ہونے والے الیکشن میں بھی ناکامی نے بلاشبہ آق پارٹی کو دھچکا تو پہنچایا ہے لیکن اس میں شکست میں ایردوان کی جیت بھی پنہاں ہے، جو دنیا بھر میں ایردوان کی شکست کا غم منانے والوں کو سمجھنی چاہئیں۔

دراصل آق پارٹی جیسی برسرِ اقتدار، غالب اور طاقتور جماعت کی حزب اختلاف کی ایک پارٹی کے ہاتھوں شکست ظاہر کرتی ہے کہ ترکی میں جمہوریت، قانون کا نفاذ اور طاقت کی نچلے طبقوں تک تقسیم پر یقین موجود ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ترکی شہری اداروں کی ایک منظم ریاست ہے جو اصولوں کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔ یہاں منعقد ہونے والے انتخابات شفاف اور آزادانہ ہوتے ہیں اور چاہے کوئی کتنا ہی غالب کیوں نہ ہو، وہ صدقِ دل سے ان نتائج کو قبول کرتا ہے اور سیاسی اختلافات کو بنیاد بنا کر اپنے ملک کو نقصان نہیں پہنچایا۔ ایردوان دور کے پہلے جمہوریت ہمیشہ فوجی اشرافیہ کے گود میں پلتی تھی اور بوقت ضرورت وہ اس کا گلا بھی گھونٹ دیتے تھے۔ ترکی کی سیاسی تاریخ میں کئی عوامی رہنماء ابھرے مگر اس رٹ کا چیلنج کر کے اس کو ختم کرنے میں ناکام رہے۔ طیب ایردوان نے نہ صرف اس کا مقابلہ کیا بلکہ عوام رائے کو ایک مستحکم جمہوریت میں بدل دیا ہے جس میں صرف ایردوان یا اس کی پارٹی ہی نہیں ان کے مدمقابل بھی جیت سکتے ہیں۔

بالخصوص وہ غیر ترک حلقے خصوصاً عرب جو ان نتائج کی بنیاد پر اپنے تئیں مفروضے اکٹھے کر رہے ہیں انہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ترکی میں سیاسی اختلاف کی بنیاد پر شہروں اور دیہاتوں پر بمباری نہیں کی جاتی اور نہ ہی ایردوان خود کو بچانے کے لیے ملک کو آگے لگاتے ہیں۔ نہ ہی ترک حکمرانوں نے اپنے خلاف مظاہرہ کرنے والے لاکھوں افراد کو قتل کیا اور نہ ان کی لاشیں ٹھکانے لگائ گئی ہیں۔ ترکی میں ہزاروں اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی وژن اسٹیشن اور جرائد ہیں جو حکومت کے خلاف کھل کر بولتے ہیں، یہ نتائج بتا دینے کے لیے کافی ہیں کہ ایردوان مخالف آواز ترکی میں دبائی نہیں جاتی جس طرح عام طور مفروضے قائم کئے جاتے ہیں بلکہ اس قدر مضبوط بھی ہے کہ ایردوان کے مقابلے میں جیت بھی سکتی ہے۔ یہاں کسی کو قید خانوں میں نہیں ڈالا گیا جو عرب ممالک میں عام ہے۔ آج ایردوان اور ان کی سیاسی جماعت تو کسی بھی جابر اور غاصب رجیم کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کر سکتی ہے کہ وہ اپنے ملک میں ایسے انتخابات کروا کر اور اس کے نتائج قبول کرکے دکھائیں۔

عام طور پر یہ معروف ہے کہ رجب طیب ایردوان نے فتح اللہ گولن کے ساتھیوں کی ناکام فوجی بغاوت کو کچلنے کے بعد جس طرح عوام رائے کو قوت سے دبانے اور چرانے کی کوشش کرنے والوں ان کے اصلی انجام تک پہنچایا، یہ انتخآبات میں "بیک فائر” کر رہا ہے۔ اولاً تو ایسی بات تب کی جا سکتی ہے جب اس صفائی مہم کے بعد ہونے والے صدارتی انتخابات میں ایردوان کی کامیابی کو نظر انداز کر دیں، صرف یہی نہیں بلکہ اس کے بعد ہونے والے پالیمانی انتخآبات میں آق پارٹی کی جیت کو بھی نظر انداز کر دیں اور صرف حالیہ انتخابات میں انقرہ اور استنبول کے میئرشپ انتخآبات کو آئینہ سمجھ لیں۔ کیا واقع ہی ہم قومی انتخابات کو نظر انداز کر کے مقامی انتخابات سے ایک منصفانہ تجزیہ کر سکتے ہیں؟ دوسری بات جو اس سے بڑی حقیقت ہے کہ فتح اللہ گولن اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ہونے والے آپریشن کو پارلیمان نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ جس میں استنبول میں مئیرشپ جینے والے اکرم امام اوغلو بھی شامل تھے۔ تمام ترک سیاسی اکائیاں اور غیر سیاسی سوسائٹیاں فتح اللہ گولن کی اس وطن مخالف کوشش کو اچھی طرح سمجھتی ہیں اور ان کے خلاف کاروائی کو جائز سمجھتی ہیں۔ اس ناکام فوجی بغاوت کے بعد تمام سیاسی اکائیاں استنبول بشمول اپوزیشن پارٹیاں، فتح اللہ گولن کے خلاف مشترکہ عوامی قوت کا مظاہرہ بھی کر چکی ہیں۔

اگرچہ ایردوان کا نام بیلٹ پر بھی نہیں تھا اور نتائج سے ان کی حکومت کا تختہ بھی نہیں الٹنے والا، لیکن استنبول کے میئر کے لیے دوبارہ ہونے والے انتخابات میں اگر کسی کو سب سے بڑی ناکامی ہوئی ہے تو وہ آق پارٹی ہی ہے کیونکہ دوبارہ انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ انہی کا تھا، جس کا نتیجہ صریح ناکامی کی صورت میں نکلا ہے۔ لیکن یہ جان لیں کہ اگلے صدارتی انتخابات 2023ء میں ہیں اور تب تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ جائے گا۔

ہماری نظر میں آق پارٹی کی ناکامی کی کئی اہم وجوہات شامل ہیں جس میں اولین پارٹی کا اندرونی طور پر کمزور ہونا ہے۔ 16 سالہ مسلسل جیت نے پارٹی کے اندر سہل پسندی میں اضافہ اور جوش و جذبہ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ رجب طیب ایردوان اس کو سال قبل بھانپ چکے ہیں اور پارٹی کے اندر تجدید کے لیے اقدامات اٹھائے بھی گئے۔ تمام پرانی قیادت کو ہٹا کر نوجوانوں کو آگے لایا گیا۔ گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں 35 فیصد سے زائد نوجوانوں کو سیٹیں دی گئیں۔ لیکن عالمی سطح پر درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے والے ایردوان جن کا پارٹی پر کنٹرول تو مضبوطی سے قائم ہے لیکن اس کی تجدید کے لیے وہ اکیلے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد اگرچہ ایردوان نے پارٹی کے بنیادی فلسفے پر واپسی کا نعرہ لگایا لیکن پارٹی کو دوبارہ نچلی سطح پر بنیادوں کو از سر نو تعمیر کر سکے گا یا نہیں اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ اس تمام کمزوریوں اور نتائج کے باوجود آق پارٹی نے تن تنہا 45 فیصد شرح ووٹ کو ترکی میں برقرار رکھا ہوا ہے لیکن انقرہ اور استنبول میں اس کی واپسی اس کے طے شدہ اہداف کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

انتہائی اہم وجوہات میں ایک ترک معیشت کی بدلتی صورتحال بھی بنی ہے۔ استنبول اور انقرہ مرکزی اور سیاحتی مراکز ہونے کی وجہ سے معیشت کے کسی بھی بحران کا براہ راست ہدف بنتے ہیں۔ گذشتہ سال جب امریکی صدر ٹرمپ نے ترکی کو دھمکی دی کہ پادری کو رہا کیا جائے یا نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہا جائے تو ایردوان نے مزاحمت کرتے ہوئے پادری کی رہائی کو ترک عدالتوں پر چھوڑتے ہوئے انکار کر دیا۔ 48 گھنٹے بعد ٹرمپ نے ترک ایکسپورٹ پر 200 فیصد سے زائد ڈیوٹی عائد کرتے ہوئے ترکی کی عالمی مارکیٹ کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا اور ڈالر کے مقابلے میں لیرا 3.87 سے کمزور ہو کر 7.50 پر پہنچ گیا۔ اس وقت استنبول اور انقرہ کو سیاحوں نے چند گھنٹوں میں لوٹ لیا۔ اس سارے امر نے صرف ترکی اور ایردوان کو نقصان پہنچایا جب کہ اپوزیشن اور ایردوان مخالف لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔ اگرچہ بعد ایردوان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور قطر کی بروقت مدد کی وجہ سے ترک لیرا دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔ ایردوان حکومت نے معاشی اصلاحات وضع کیں اور یورپی یونین چیپٹر کو دوبارہ گرم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ترک لیرا اب بہتر ہو رہا ہے۔ تادم تحریر ڈالر کے مقابلے میں لیرا 5.77 پر موجود ہے۔

ایک تیسری اہم وجہ ترک نوجوان نسل کا ایردوان پر عدم اعتماد ہے۔ 2002ء میں قبل پیدا ہونے والے بچے اس وقت ووٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے ایردوان سے قبل کا ترکی اور اس کے مسائل کو نہیں دیکھا۔ البتہ ایردوان کی قیادت میں ایک مستحکم ترکی میں پرورش پائی ہے۔ وہ حالیہ معاشی صورتحال کا موازنہ 2013ء سے کرتے ہیں جب ایک ڈالر کے مقابلے میں لیرا 1.40 کا تھا۔ اب ڈالر 5.77 لیرا کا ہے۔ اس کا براہ راست اثر مہنگائی میں اضافے اور بے روزگاری دوعددی ہو گئی ہے۔ وہ آق پارٹی کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے تبدیلی چاہتے ہیں۔ حالانکہ عروج اور زوال کا یہ سارا سفر ایردوان اور آق پارٹی کا ہے اور آج کا ترکی مسائل کے باوجود اس ترکی سے کئی گنا بہتر ہے جو ان کی پیدائش اور ایردوان کی آمد سے قبل تھا۔ بحالی معیشت اور پارٹی تجدید کے ساتھ نوجوانوں کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔ آق پارٹی اور ایردوان کے پاس یہ خامیاں دور کرنے اور ایک نئے عزم کے ساتھ مستقبل کی تیاری کرنے کے لیے کئی سال موجود ہیں۔

تبصرے
Loading...