‏YSK نے استنبول میئر انتخابات کے دوبارہ انعقاد کی وجہ بتا دی

0 1,069

ترکی کی سپریم الیکشن کونسل (YSK) نے 31 مارچ کو استنبول کے میئر کے لیے ہونے والے انتخابات کو منسوخ کرنے اور ان کے دوبارہ انعقاد کے لیے 250 صفحات پر مشتمل وجوہات جاری کردی ہیں۔

استنبول میٹروپولیٹن میونسپلٹی (IBB) دوبارہ انتخابات کے لیے YSKکا فیصلہ 6 مئی کو چار کے مقابلے میں سات ووٹوں کی بدولت آیا۔ انتخابات کالعدم قرار دینے کے خلاف چار ووٹوں نے اپنی وجوہات پیش کرنے کے لیے وقت مانگا تھا جبکہ حق میں ووٹ دینے والے سات نے پہلے ہی سے اپنی وجوہات تیار کر رکھی تھیں۔

وجوہات میں YSK کا کہنا ہے کہ 754 بیلٹ بکس کمیٹی چیئرمین سرکاری عہدیداران نہیں تھے۔ چند بے روزگار تھے یا ان کے پیشوں کی صراحت نہیں کی گئی، جبکہ مندرجہ ذیل میں سے ہر شعبے کا ایک، ایک فرد شامل تھا: ریٹائرڈ سرکاری افسر، نجی ہسپتال ملازم، ریٹائرڈ استاد، نجی تعلیمی ادارے میں استاد، مالیاتی مشیر، کارپوریٹ ملازم، اکاؤنٹنٹ، کارگو کمپنی ملازم، نجی بینک کا ملازم، وکیل، ڈرائیونگ اسکول کا ملازم اور انجینئر۔

وجوہات میں بتایا گیا ہے کہ حزب اختلاف کی اہم جماعت جمہور خلق پارٹی (CHP) کے امیدوار اکرم امام اوغلو اور حکمران انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے امیدوار بن علی یلدرم کے درمیان 13,729 ووٹوں کا فرق دیکھیں تو 754 بیلٹ بکس چیئرمینوں کی غیر قانونی خدمات کے معاملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اپنے منصب سے ہٹائے گئے سرکاری افسران میں سے چھ بیلٹ بکس کمیٹی چیئرمین اور تین بیلٹ بکس عہدیدار تھے۔

مزید کہا گیا کہ "استنبول میں بیلٹنگ کمیٹی چیئرمین کے لیے ضرورت سات گنا زیادہ سرکاری عہدیدار ہیں۔ درحقیقت ضلعی الیکشن بورڈ کی جانب سے انتظامی سربراہ کی فہرستوں سے باہر بیلٹنگ کمیٹی چیئرمین کے انتخاب نے انتخابات کی ساکھ ختم کر دی ہے۔”

"مشترکہ ووٹوں کی تعداد جو ووٹر فہرستوں میں ظاہری غلطیوں اور/یا جان بوجھ کر کی گئی غلطیوں کی وجہ سے ہوئیں اور وہ جو بھی کہ جن کے عدم جواز کی وجہ کا فیصلہ نہیں ہو سکا، کی تعداد 3,00,000 سے زیادہ ہے، یہ جمہور خلق پارٹی اور آق پارٹی کے امیدواروں کے درمیان موجود 13,742 کے جیت کے فرق سے 20 گنا سے بھی زیادہ ہے۔ ”

YSK نے کہا کہ IBB بیلٹ بکس کی تحقیقات نے پایا کہ ووٹ گنتی کی شیٹس اتاشہر، بے کوز، بیلک دوزو، اسینورت، غازی عثمان پاشا، قاضی کوئے، کرتال، سنجک تپہ، ساریئر، شلہ، زیتن بورنو کے اضلاع میں نہیں بھری گئیں۔

YSK نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30,281 ووٹس 108 بیلٹ بکسز میں ڈالے گئے جو ووٹنگ ٹیلی-شیٹوں یا درکار دستخطوں کے بغیر اپنا قانونی وجود ہی نہیں رکھتے۔ "درحقیقت 108 بیلٹ بکس میں ٹیلی-شیٹس تیار ہی نہیں کی گئیں جو بیلٹ بکسز کی الیکٹوریل سیفٹی کو سخت نقصان پہنچاتی ہیں،” اس میں مزید کہا گیا۔

"ضلعی الیکورٹل بورڈز کے جائزوں کے مطابق یہ پایا گیا کہ روکے گئے 377 افراد نے ووٹ ڈالے، کہ چھ بیلٹ بیلٹ بکس میں ان افراد کی جانب سے ووٹ ڈالے گئے جو مر چکے ہیں، کہ 31 پینل انسٹیٹیوشنز ووٹس قیدیوں کی جانب سے ڈالے گئے کہ جنہوں نے غافلانہ جرائم کیے، کہ 58 بیلٹ بکسز میں ووٹ تعزیری اداروں میں موجود قیدیوں کی جانب سے ڈالے گئے، اور یہ کہ ذہنی معذوری کے حامل 224 افراد کہ جنہیں ووٹ کرنے کی اجازت نہیں، انہوں نے ووٹ کیا۔ جائزے کے بعد پایا گیا کہ 706 افراد جنہیں ووٹ دینے کی اجازت نہیں تھی، انہوں نے غیر قانونی پر اپنا ووٹ دیا۔

سرکاری انتخابی نتائج

YSK نے 31 مارچ کے مقامی انتخابات کے سرکاری نتائج بھی بدھ کی شام جاری کیے۔ سرکاری نتائج کے مطابق آق پارٹی نے کل ووٹوں میں سے 45.55 فیصد حاصل کیے، ان کے بعد CHP نے 29.81 فیصد، اچھی پارٹی (IP) نے 7.76 فیصد، ملی حرکت پارٹی (MHP) نے 7.44 فیصد، خلق ڈیموکریٹک پارٹی (HDP) نے 4.5 فیصد اور سعادت پارٹی نے 2.91 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

میٹروپولیٹن میونسپلٹیز میں آق پارٹی نے 44.06 فیصد، CHP نے 29.41 فیصد، MHP نے 5.18 فیصد اور HDP نے 4.15 فیصد حاصل کیں۔

تبصرے
Loading...