آیا صوفیا کی مسجد کی حیثیت سے بحالی کا ایک سال مکمل، 30 لاکھ افراد کی آمد

0 634

‏24 جولائی 2020ء استنبول شہر ، بلکہ پورے ترکی میں ایک تاریخی دن تھا جب آیا صوفیا کی عجائب گھر کی حیثیت کا خاتمہ کر کے اسے دوبارہ مسجد بنایا گیا۔

گزشتہ ایک سال کے دوران کرونا وائرس کی وبا اور کئی مسائل کے باوجود یہ مسجد مقامی ترکوں سے لے کر غیر ملکی سیاحوں تک میں بہت مقبول رہی۔ حکام کے مطابق اس ایک سال کے دوران 30 لاکھ سے زیادہ افراد آیا صوفیا مسجد آئے۔

شہر استنبول کے قائم مقام مفتی مصطفیٰ یاوُز کہتے ہیں کہ جیسے جیسے دوسرے ملکوں سے پروازوں کی آمد پر عائد پابندیاں ہٹیں گی، اس تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

مقامی افراد اس تاریخی مسجد میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں، خاص طور پر رواں ماہ کے اوائل میں شہر میں کرفیو اور پابندیاں ختم ہو نے کے بعد۔

یہ مشہور زمانہ یادگار فتح قسطنطنیہ سے پہلے 916 سال تک گرجا تھی۔ 1453ء سے 1934ء تک تقریباً 500 سال اسے مسجد کی حیثیت حاصل رہی اور پھر یہ 86 سال تک عجائب گھر رہی۔ یہ ترکی میں مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کے لیے مقبول ترین مقام اور ملک میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی تاریخی عمارتوں میں سے ایک ہے۔ اقوامِ متحدہ نے اسے 1985ءمیں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔

ایک ترک عدالت نے 10 جولائی 2020ء کو ترک کابینہ کے 1934ء کے اُس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جس کے تحت آیا صوفیا کو عجائب گھر میں تبدیل کیا گیا تھا۔ یوں 86سال کے بعد آیا صوفیا کے ایک مرتبہ پھر بطور مسجد استعمال ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔

مسجد کی حیثیت بحال ہونے کے بعد تاریخی نمازِ جمعہ میں صدر رجب طیب ایردوان کے علاوہ بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔

مصطفیٰ یاوُز نے کہا کہ وبا کے ایام میں بھی آیا صوفیا بہت مقبول مقام ہے، باوجود اس کے کہ وبا کی وجہ سے آنے والوں کی تعداد محدود ہے۔ البتہ ان ایام میں بھی ترکی کی دیگر مساجد کی طرح آیا صوفیا بھی کھلی رہی، لیکن سماجی فاصلے کے اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا اور نماز پڑھنے یا صرف دیکھنے کے لیے آنے والوں کے لیے ماسک بھی لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ

یہ ترکی اور پوری انسانیت کے لیے اہم ترین مقامات اور اہم ترین عبادت گاہوں میں سے ایک ہے، کیونکہ یہ ترکی اور استنبول کی اسلامی شناخت کا حصہ ہے۔ آیا صوفیا کی علامتی حیثیت مسلمانوں کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ فتح قسطنطنیہ کے بعد اس کی مسجد میں تبدیلی دراصل اس شہر پر مسلم اقتدار کی اہم علامت تھی۔

مصطفیٰ یاوُز نے کہا کہ وبا کے دوران لوگوں کی آمد کے باوجود انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا، لوگوں کے لیے سماجی فاصلہ اور ماسک کا استعمال لازمی تھا اور عوام نے خود بھی ان پابندیوں پر عمل درآمد کیا ہے۔

سال 2020ء اور 2021ء کے دوران آیا صوفیا میں اختتامِ ہفتہ پر اوسطاً 5,000 افراد اور باقی دنوں میں لگ بھگ 12,000 افراد آئے۔ مصطفیٰ یاوُز نے کہا کہ خاص طور پر ظہر کی نماز میں تعداد زیادہ رہی، جب تقریباً 1,500 افراد آتے۔ جمعے کے دن یہ تعداد تین گُنا اور کبھی کبھار تو اس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ مسجد میں نماز کے علاوہ حدیث اور تفسیر کی کلاسز بھی ہوتی ہیں۔

تبصرے
Loading...