عسکری، معاشی اور سفارتی لحاظ سے مضبوط ہونا ہماری ذمہ داری ہے، صدر ایردوان

0 177

‘استانبول’ فریگیٹ کے افتتاح اور پاکستانی MILGEM کورویٹ پروجیکٹ کے تیسرے بحری جہاز کی ویلڈنگ کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "عسکری، معاشی اور سفارتی لحاظ سے مضبوط ہونا ہمارا انتخاب نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ اس جذبے کے ساتھ ہم نے 2002ء سے ہی اپنے وسائل کو متحرک کرنا شروع کیا تاکہ دفاعی صنعت میں مقامی پیداوار میں حصہ بڑھا سکیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے استانبول میں MILGEM پروجیکٹ کے پانچویں بحری جہاز فریگیٹ ‘استانبول’ (F-515) کے افتتاح اور پاکستان MILGEM کورویٹ پروجیکٹ کے تیسرے بحری جہاز کی ویلڈنگ کے آغاز کی تقریب سے خطاب کیا۔

"وہ اقوام جو دفاعی صنعت میں مضبوط نہ ہوں، وہ اعتماد کے ساتھ مستقبل کی طرف نہیں دیکھ سکتیں”

دفاعی صنعت میں ترکی اور پاکستان کے مابین تعاون کی صلاحیتوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ دونوں ممالک، کہ جو دہشت گرد تنظیموں سمیت کئی خطرات سے نمٹ رہی ہیں، ان خطرات کے خلاف لڑنے کے لیے ایک دوسرے کے کام میں بھرپور مدد کر سکتے ہیں۔

صدر نے زور دیا کہ حال ہی میں پیش آنے والے واقعات نے ٹیکنالوجی کے لحاظ سے کافی صلاحیتیں نہ رکھنے والے ممالک کہ جو دفاعی صنعت میں اتنے مضبوط اور خود مختار نہیں ہیں، پر ظاہر کیا ہے کہ وہ مستقبل کی جانب سے اعتماد سے نہیں دیکھ سکتے۔

مزید زور دیتے ہوئے کہ ترکی کو اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیٹرنس کی اعلیٰ سطح اور ساتھ ساتھ اپنے اور اپنے دوستوں کے حقوق کا دفاع کرنے کی بھی ضرورت ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کو اپنی حالیہ تاریخ میں ہتھیاروں، گولا بارود اور عسکری ساز و سامان میں غیر ملکی انحصار سے بہت نقصان ہوا ہے۔

"ہمیں اپنی قومی سلامتی کے تحفظ میں اٹھائے گئے ہر قدم پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا”

قبرص امن آپریشن کی وجہ سے ترکی کے خلاف لگنے والی پابندیوں پر صدر ایردوان نے کہا کہ "نہ صرف یہ کہ جن طیاروں کی پیشگی ادائیگی ہم کر چکے تھے، بلکہ وہ جہاز بھی جو اس عرصے میں ہم نے وقتاً فوقتاً مرمت کے لیے بھیجے تھے، ہمیں نہیں ملے۔ ہمیں ان ہینگرز کی فیس تک ادا کرنا پڑی تھی کہ جہاں یہ ڈلیور نہ کیے گئے جہاز سالوں تک پارک کیے گئے۔ ہمیں اپنی قومی سلامتی کے تحفظ، جس میں شام اور عراق میں دہشت گردی کے خلاف قانونی آپریشنز اور مشرقی بحیرۂ روم اور ایجیئن میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جدوجہد شامل ہے، کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔”

صدر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "عسکری، معاشی اور سفارتی لحاظ سے مضبوط ہونا ہمارا انتخاب نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ اس جذبے کے ساتھ ہم نے 2002ء سے ہی اپنے وسائل کو متحرک کرنا شروع کیا تاکہ دفاعی صنعت میں مقامی پیداوار میں حصہ بڑھا سکیں۔”

"ہم ایسا ملک بن چکے ہیں کہ جو دوست اور اتحادی ممالک کی ضروریات پوری کرتا ہے”

ترکی میں دفاعی صنعت کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کی تعداد 56 سے تقریباً 1,500 تک بڑھنے پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہماری برآمدات، جو 248 ملین ڈالرز پر کھڑی تھیں، اب 3 ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکی ہیں۔ ملٹری شپ بلڈنگ انڈسٹری میں ہم نے تین براعظموں میں 9 ممالک کو 130 میرین پلیٹ فارمز برآمد کیے، جن کی کُل لاگت تقریباً 3 ارب ڈالرز تھی۔ صرف چار سال پہلے دنیا کی ٹاپ 100 ڈیفنس کمپنیز میں ہمارے دو ادارے شامل تھے، الحمد للہ، اب اس فہرست میں ہمارے سات ادارے موجود ہیں۔ برّی اور بحری گاڑیوں کے حوالے سے ہم ایسا ملک بن چکے ہیں جو اپنے علاوہ دوست اور اتحادی ممالک کی ضروریات بھی پوری کر رہا ہے۔ ہم ان 10 ممالک میں شامل ہیں جو اپنے جنگی جہاز ڈیزائن، تعمیر اور مرمت کر سکتا ہے۔ ہم دنیا کے ان ٹاپ تین چار ممالک میں شامل ہیں جو UAVs، UCAVs اور اٹیک UAVs کی پیداوار کرتے ہیں۔

حالیہ 44 روزہ فتح قراباخ میں ترک UCAVs کی جانب سے حاصل کردہ کامیابیوں نے جنگ کے طریقوں کو بدل دیا، جس پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترک UCAVs نے لیبیا میں بھی جنگ کا رُخ بدلا ہے، اور ترکی اب درپیش مشکلات اور عالمی اداروں کی جانب سے، علانیہ اور خفیہ، پابندیوں سے نمٹنے کے قابل ہے۔

اپنے خطاب کے بعد صدر ایردوان نے پاکستان MILGEM کورویٹ پروجیکٹ کے تیسرے بحری جہاز کی ویلڈنگ کا آغاز کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ بحری جہاز دوست اور برادر پاکستان کے لیے بہترین نتائج لائے گا۔

تبصرے
Loading...