یہ سنگین چیلنجز کے سامنے متحد رہنے کا وقت ہے، صدارتی ترجمان

0 598

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے ایلازیغ اور ملاطیہ کے زلزلے، ادلب میں ترک فوجیوں کی شہادت، وان میں تودا گرنے اور استانبول میں طیارہ حادثے کے حوالے سے بات کی اور کہا کہ "ان واقعات نے ہمیں غمزدہ کر دیا ہے اور ہم سب کے دل زخموں سے چُور ہیں۔ البتہ انہوں نے ہمیں بحیثیتِ قوم متحد بھی کیا ہے۔”

ایوانِ صدر میں صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے ایک پریس کانفرنس کی۔

"میں یہ پریس کانفرنس صدر رجب طیب ایردوان کی زیرِ قیادت 22 ویں کابینہ اجلاس کے بعد کر رہا ہوں۔ اجلاس میں ایجنڈے پر موجود اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر ایردوان نے یکے بعد دیگرے پیش آنے والے افسوس ناک واقعات پر اظہارِ خیال کیا اور ساتھ ہی اس اٹھائے گئے جوابی اقدامات اور میدانِ عمل میں کارکردگی کا جائزہ لیا۔ میں یہاں صدر ایردوان کے پیش کردہ ایک نقطے کو بیان کرنا چاہوں گا کہ ان واقعات نے ہمیں غمزدہ کر دیا ہے اور ہم سب کے دل زخموں سے چُور ہیں۔ البتہ انہوں نے ہمیں بحیثیتِ قوم متحد بھی کیا ہے۔ قوم اور ریاست کے تمام مسائل کو ایلازیغ اور ملاطیہ کے زلزلے، پھر ادلب میں شہید ہونے والے فوجیوں، بعد ازاں وان میں تودا گرنے کے واقعے اور گزشتہ روز ہونے والے طیارہ حادثے کے بعد بھی بروئے کار لایا گیا۔ زخمیوں کی امداد کے لیے فوری طور پر ضروری اقدامات اٹھائے گئے۔

ایجنڈے پر موجود ایک اہم معاملہ شام بالخصوص ادلب میں ہونے والی تازہ پیش رفت ہے۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم آستانہ عمل میں ایک ضامن کی حیثیت شام میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے، تصادم کے خاتمے اور آئینی کمیٹی کو اپنی کوششوں کو حتمی صورت دینے میں مدد کے لیے روس اور ایران کے تعاون سے کام کر رہے ہیں۔ تقریباً دو سال سے جاری ان کوششوں سے بلاشبہ میدانِ عمل میں اہم نتائج سامنے آئے ہیں۔ علاوہ ازیں ترکی جنیوا عمل میں ایک کردار کی حیثیت سے بھی اقوامِ متحدہ کی چھتری تلے ہونے والے کام کو بھرپور سہارا دے رہا ہے۔

"شام میں اپنے دستوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا”

صدر مملکت نے گزشتہ روز پارلیمان میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہم ادلب میں شامی حکومت کے جاری حملوں کے بعد ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ صدر ایردوان نے اس بات کو مکمل طور پر واضح کیا۔ اس پسِ منظر میں ہم روسی اور ایرانی حکام کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں۔ ہمارے دوست بھی گزشتہ روز سے ان معاملات پر اپنے ہم منصوبوں سے بات کر رہے ہیں۔

اِس نئے دور کی خصوصیات کا کچھ خلاصہ میں بھی پیش کروں گا۔ سب سے پہلے یہ کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ شام میں موجود اپنے دستوں کے تحفظ کے لیے جو بھی ضروری ہوا، وہ قدم بلا جھجک اٹھایا جائے گا۔

"ہماری فوجی چوکیاں اپنی موجودہ جگہوں پر برقرار رہیں گی”

ہماری فوجی چوکیاں بدستور اپنی موجودہ جگہوں پر برقرار رہیں گی۔ اُن کی جگہ بدلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم وہ حدیں تسلیم کرتے ہیں جو سوچی اور ادلب معاہدوں میں طے کی گئی تھیں۔ اب ہم ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی پر راضی نہیں ہو سکتے۔ ان حدوں کے اندر رہتے ہوئے ہم اور ہماری افواج شہریوں اور اپنے دستوں کی حفاظت کے لیے جو ضروری سمجھیں گی، کریں گی۔

” مجوزہ فلسطین منصوبہ امن منصوبہ نہیں ہے”

ایجنڈے کا ایک اور اہم موضوع مسئلہ فلسطین تھا۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ یہ امن منصوبہ کہلانے والا یہ منصوبہ امن یا مسائل کے حل کا منصوبہ نہیں ہے۔ یہ دو ریاستوں کے فارمولے کا سرے سے خاتمہ کر دے گا۔ پھر یہاں تو ریاستِ فلسطین کی وضاحت کرنے والا کوئی موجود ہی نہیں ہے۔ وہ اسرائیل میں موجود قطعات کو توڑنے اور تقسیم کرنے کے لیے مخصوص علاقوں کی بات کر رہے ہیں۔ یہ سرے سے ایک ریاست ہے ہی نہیں۔ جس ریاستِ فلسطین کی تجویز دی جا رہی ہے اس کی کوئی مسلح فوج نہیں ہوگی اور اس کا فضائی رابطہ بھی مکمل طور پر اسرائیل کی گرفت میں ہوگا۔ یہ کسی بھی ریاست کی بنیادی خصوصیات کے برعکس ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ نتین یاہو نے– چاہے اقتدار میں ہوں یا حزب اختلاف میں –کبھی دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کیا اور اِس حل کے مکمل خاتمے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ اس منصوبے کو دو ریاستی حل میں کا کردار یا حامی سمجھا جائے۔

"القدس کی تاریخی و مذہبی شناخت کو تبدیل کرنا ناقابلِ قبول ہے”

ایجنڈے پر دوسرا اہم مسئلہ القدس کا ہے۔ صدر ایردوان نے بارہا کہا ہے کہ القدس ہمارے لیے سُرخ لکیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ القدس کی تاریخی و مذہبی شناخت کو تبدیل کرنا یا ایسی کوئی کوشش بھی کرنا تاریخی، سماجی، مذہبی اور سیاسی لحاظ سے ناقابلِ قبول ہے اور انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے۔ اس منصوبے میں مشرقی القدس کے بجائے اُس کے مشرق میں ایک چھوٹے سے علاقے کو ریاستِ فلسطین کا دارالحکومت تجویز کیا گیا ہے۔ اس سے ہی ظاہر ہے کہ اِس منصوبے کا دو ریاستی حل اور القدس کے حوالےسے خدشات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایک اور مسئلہ فلسطینی مہاجرین کو واپسی کا حق دینا ہے، جو اِس منصوبے کی سب سے بڑی کمزوریوں، خامیوں اور غلطیوں میں سے ایک ہے۔ تقریباً 70 لاکھ فلسطینی مہاجرین کا اپنی تاریخی اور آبا و اجداد کی سرزمین پر واپسی کا حق غصب کرنے کا مطلب ہے کہ یہ امن منصوبہ نہیں بلکہ انہیں محروم اور تباہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ بھی بالکل واضح ہے کہ یہ نیا منصوبہ نہیں۔ یہ ایریل شیرون کا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ نہ امن لائے گا اور نہ ہی استحکام، نہ ہی یہ کوئی حل ہے۔ یہ منصوبہ اور اس کی پشت پناہی کرنے والے فلسطین کی سرزمین ہڑپ کرنا چاہتے ہیں، جہاں نہ فلسطین کے لوگ ہوں، نہ زمین، نہ تاریخ اور نہ ہی ریاست۔ کوئی بھی عقل و شعور رکھنے والا اس کو قبول نہیں کر سکتا۔

ترکی اِس برحق جدوجہد میں فلسطینی عوام کے ساتھ ہے اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اُن کے لیے آواز اٹھاتا رہے گا۔ گزشتہ چند دنوں میں کچھ اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ دیکھنا خوش آئند ہے کہ جس منصوبے کو صدر مملکت نے فوری طور پر مسترد کیا، اسے عرب لیگ، یورپی یونین اور اسلامی کانفرنس تنظیم کے اجلاس میں بھی مسترد کیا گیا۔

تبصرے
Loading...