ہمارے لیے ہر شعبے میں سینیگال کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا اہم ہے، صدر ایردوان

0 265

ڈاکار میں ترکی-سینیگال بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہمارے لیے سینیگال کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا اہم ہے، جو ایک قیمتی دوست اور ہر شعبے میں ہمارا ساتھی ہے۔ ہمارا ہدف اپنے تجارتی حجم کو 1 ارب ڈالرز تک لے جانا ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے سینیگال میں ترکی-سینیگال بزنس فورم سے خطاب کیا۔

"ہمارا ہدف اپنے تجارتی حجم کو 1 ارب ڈالرز تک لے جانا ہے”

صدر نے کہا کہ "ہمارے لیے سینیگال کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا اہم ہے، جو ایک قیمتی دوست اور ہر شعبے میں ہمارا ساتھی ہے۔ اس ضمن میں ہم پہلے ہی اپنے باہمی تجارتی حجم کو بہتر بنانے کے لیے کچھ اہداف مقرر کر چکے ہیں۔ پہلے ہم نے 250 ملین ڈالرز کا ہدف طے کیا تھا اور پھر اسے حاصل کیا۔ اب آج ہونے والی گفتگو کے بعد ہمارا ہدف باہمی تجارتی حجم کو درمیانی مدت میں 1 ارب ڈالرز تک لے جانا ہے۔”

صدر ایردوان نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "دو طرفہ تجارت زیادہ تر سینیگال کے لیے ترکی کی برآمدات پر مشتمل ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ہم دو طرفہ تجارت متوازن انداز میں کریں کہ جو دونوں کے لیے یکساں طور پر بہتر ہو۔ ترک اور سینیگالی معیشتیں ایسی خصوصیات رکھتی ہیں جو ایک دوسرے کی کمی پوری کر سکتی ہیں۔ ایک جی-20 رکن اور خطے کی ایک بڑی معاشی طاقت کی حیثیت سے ترکی سینیگالی مینوفیکچررز کے لیے اہم مارکیٹ پیش کرتا ہے۔”

"افریقہ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی روح اخلاص ہے”

افریقہ کے مسائل کا بہترین حل خود افریقی پیش کر سکتے ہیں، ترکی کے اس یقین پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارے افریقی بھائیوں کو پرانی استعماری طاقتوں کی رہنمائی کی ضرورت نہیں۔ ہمارے افریقی دوستوں کو ایسے ساتھیوں کی ضرورت ہے جو ذاتی مفادات کے کہیں آگے بڑھ کر ہر حالت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں۔ ترکی کے اس بر اعظم سے ہزار سال پرانے قدیم تعلقات کی روح بھائی چارے اور اخلاص پر مبنی ہے۔ ہمارا ہدف مل جل کر آگے بڑھنا اور نئی منازل کو پانا ہے۔”

اس افریقی کہاوت "دن بھر کی بارش بھی مٹی میں بہت گہرائی تک نہیں جا سکتی،” کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم پرخلوص تعلقات اور طویل المیعاد دوستی کے کام کریں گے جو بر اعظم کے تمام ممالک کے ساتھ یکساں طور پر مفید ہو۔ ہمارا ہدف سیاحت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو بہتر بنانا ہے، تاکہ نوجوانوں کو سہارا دیں اور دیہی معیشت اور زرعی ترقی کے ساتھ ساتھ بر اعظم میں بنیادی ڈھانچے کو بھی مضبوط کر سکیں۔”

تبصرے
Loading...