ملک میں زندگی معمول پر لانا ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے، صدر ایردوان

0 208

‏COVID-19 کے خلاف نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "ملک میں زندگی معمول پر لانا ہم 83 ملین شہریوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ہم قواعد کی جتنی سختی سے پیروی کریں گے، اتنی جلدی اس وباء کے پھیلاؤ کو روک پائیں گے اور یوں اس خطرے کا خاتمہ ہوگا۔ بصورتِ دیگر ہم بھی انہی حالات کا سامنا کریں گے جن کا شکار دوسرے ممالک ہیں اور بدقسمتی سے خود کو انہی کے نقشِ قدم پر پائیں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے COVID-19 کے خلاف نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

کروناوائرس کی وباء کے خلاف ترکی پورے عزم کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی نے اُس وقت ایک سخت رویہ اپنایا، جب دنیا کی ترقی یافتہ ترین اقوام بھی گومگو کی کیفیت سے دوچار تھیں۔

"ترکی اِس عالمی وباء کے خلاف سب سے زیادہ تیار ملکوں میں سے ایک ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی اس عالمگیر وباء اور اس کے ساتھ ہی شروع ہونے والے بڑے بحران کے مقابلے کے لیے سب سے زیادہ تیار ملکوں میں سے ایک ہے۔ ہمیں صرف اپنے اتحاد و یگانگت کو برقرار رکھنا ہے اور وبائی خطرے کے خاتمے تک قواعد و ضوابط کی اچھی طرح پیروی کرنی ہے۔ وزارت صحت کے ماتحت قائم کردہ سائنس بورڈ ملک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اس مرض کی پیشرفت پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ بورڈ کے طے کردہ اقدامات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت بھی یہی تجویز کرتی ہے۔ ایوانِ صدر اپنی متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے ساتھ مل کر فیصلے کر رہا ہے اوران کا نفاذ کر رہا ہے، اور ملک کے اندر اور بیرونی دنیا کو ذہن میں رکھتے ہوئے پیش رفت کر رہا ہے۔ آج رات تک اس عالمگیر وباء کے خلاف جدوجہد میں مزید اقدامات بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔”

صدر ایردوان نے زور دیا کہ نئے اقدامات کے تحت 15 دن کے لیے 30 بڑے شہروں اور زونگل داک، کہ جہاں سانس کے امراض عام ہیں، میں داخلہ اور وہاں سے نکلنا ممنوع ہوگا سوائے چند استثنیٰ کے؛ 20 سال سے کم عمر کے لوگوں کے لیے جزوی کرفیو ہوگا؛ اور کل سے سب عوامی مقامات پر ماسک پہنیں گے جیسا کہ بازاروں اور سپر مارکیٹس میں۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ملک میں زندگی معمول پر لانا ہم 83 ملین شہریوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ہم قواعد کی جتنی سختی سے پیروی کریں گے، اتنی جلدی اس وباء کے پھیلاؤ کو روک پائیں گے اور یوں اس خطرے کا خاتمہ ہوگا۔ بصورتِ دیگر ہم بھی انہی حالات کا سامنا کریں گے جن کا شکار دوسرے ممالک ہیں اور بدقسمتی سے خود کو انہی کے نقشِ قدم پر پائیں گے۔”

تبصرے
Loading...