افغانستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے، صدر ایردوان

0 52

افغانستان پر جی20 رہنماؤں کے غیر معمولی اجلاس سے بذریعہ وڈیو کانفرنس خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہمیں افغانستان میں ایک نئی سیاسی اور جغرافیائی حقیقت کا سامنا ہے۔ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانا نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی بہت ضروری ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے افغانستان پر جی20 رہنماؤں کے غیر معمولی اجلاس سے بذریعہ وڈیو کانفرنس خطاب کیا۔

"ہمیں افغانستان میں نئے سیاسی و جغرافیائی حقائق کا سامنا ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "میں جی20 کو دنیا کو درپیش مسائل کے خلاف تعاون کے لیے ایک بنیادی پلیٹ فارم سمجھتا ہوں۔ افغانستان میں جو پیشرفت ہوئی ہے اس کی گونج معاشی اور مالیاتی کے ساتھ ساتھ سیاسی و انسانی میدانوں میں بھی محسوس کی جائے گی۔ میں جی20 کے میدان سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا خیر مقدم کرتا ہوں اور جی20 کے موجودہ صدر اٹلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع دیا۔ ہمیں افغانستان میں ایک نئی سیاسی اور جغرافیائی حقیقت کا سامنا ہے۔ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانا نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی بہت ضروری ہے۔ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھ کر اور تحمل اور مرحلہ وار اپروچ کے ذریعے ہمیں طالبان کو ایک جامع انتظامیہ تشکیل دینے کی جانب لے جانا چاہیے۔”

"ہمیں افغان عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرنا ہوگا”

صدر ایردوان نے کہا کہ "سیاسی ابہام سے قطع نظر افغان عوام آج دہشت گردی، کشیدگی اور 40 سے زیادہ سالوں سے جاری عدم استحکام کے تباہ کن نتائج سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس دور میں بین الاقوامی برادری افغان عوام سے پیٹھ پھیرنا اور ملک کو اس کے حال پر چھوڑ دینا برداشت نہیں کر سکتی۔ سیاسی عمل سے قطع نظر ہمیں افغان عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرنا ہوگا کیونکہ ملک میں انسانی بحران تیزی سے گمبھیر صورت اختیار کر رہا ہے۔ ترک ہلالِ احمر نے حال ہی میں 33 ٹن اشیائے خورد و نوش افغانستان پہنچائی ہیں۔ اس کے علاوہ ہم اضافی اور جامع انسانی پیکیج پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ہم ان مشکل دنوں میں افغان عوام کے حوالے سے اپنی برادرانہ ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔”

"ترکی افغانستان سے ہجرت کا نیا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا”

صدر ایردوان نے کہا کہ "جیسا کہ 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ پر داعش کے حملے اور حال ہی میں دارالحکومت اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے واقعات سے ظاہر ہے کہ دہشت گردی اب بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ افغانستان میں ہونے والی پیشرفت سے ہجرت کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ہمارا ملک، جو اس وقت تقریباً 50 لاکھ غیر ملکیوں کی میزبانی کر رہا ہے جن میں سے 37 لاکھ شامی مہاجرین ہیں، افغانستان سے پڑنے والے ہجرت کے نئے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ہجرت کے اس دباؤ سے یورپی ممالک کا متاثر ہونا ناگزیر ہے جس کا دباؤ ترکی اپنے جنوبی اور مشرقی ساحلوں پر برداشت کرے گا۔ اس لیے میرے خیال میں ضروری ہے کہ جی20 ہجرت اور جبری بے دخلی کے معاملات کو اپنے ایجنڈے پر رکھے اور عالمی معیشت پر ان کے اثرات کو بھی سمجھے۔”

صدر نے مزید کہا کہ "ترکی میں اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کرنے والے افغان طلبہ کی تعداد اس وقت 1,100 ہے۔ افغان طلبہ کی کُل تعداد جنہیں ہم وظائف دے چکے ہیں وہ 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ عبوری حکومت اب تک توقعات پر پوری نہیں اتر سکی۔ ہمیں انسانی امداد، امن و امان، افغانستان کو دہشت گردوں کا مسکن بننے یا شدت پسندی سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات نظر نہیں آئے۔”

تبصرے
Loading...