القدس پوری اسلامی دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے، صدر ایردوان

0 671

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ القدس محض چند دلیر اور بہادر مسلمانوں کا نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے۔

وہ استنبول میں اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC) کی پارلیمانی یونین کے 16 ویں اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے تھے، جہاں صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ القدس کے دفاع کا مطلب ہے انسانیت کا دفاع، اس لیے تمام رکن ممالک مسئلہ فلسطین کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی قدم سے گریز کریں۔

"دوسری جنگِ عظیم کے دوران یورپ میں یہودیوں کی نسل کشی کی قیمت فلسطینیوں سے وصول کرنا بے انصافی ہے اور اصولوں کے منافی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے آبا و اجداد نے 400 سال تک القدس پر انصاف کے ساتھ حکومت کی ہے، ان کی اولاد کی حیثیت سے ہم فلسطین میں خون بہتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہم مشرقی القدس اور مسجد اقصیٰ کے معاملے پر اپنی حساسیت برقرار رکھیں گے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ خطے میں مستقل امن و سلامتی کا راستہ ایک آزاد، خود مختار اور ایک مکمل فلسطینی ریاست کے قیام سے گزرتا ہے جو 1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر تشکیل دی جائے اور القدس اس کا دارالحکومت ہو۔

انہوں نے کہا کہ ترکی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کر سکتا ہے اگر تل ابیب انتظامیہ فلسطین کے معاملے پر درست سمت میں ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ "ترکی علاقائی امن کے قیام اور پُر امن بقائے باہمی کے حق میں ہے۔”

رجب طیب ایردوان نے کہا کہ میں ماضی میں بھی اسرائیل کے ساتھ بات کر چکا ہوں لیکن اسے فلسطین کے حوالے سے اپنی علاقائی پالیسی پر حساسیت دکھانا ہوگی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تل ابیب کو القدس اور مسجد اقصیٰ کے معاملے پر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی ضرورت ہے۔

صدر نے کہا کہ اسرائیل اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے، انقرہ اس پر فوراً اپنا طرزِ عمل بہتر بنائے گا۔ اسرائیل کی جانب سے ترکی کے تجویز کردہ اقدامات تسلیم کرتے ہی دونوں ممالک میں سفیر ایک مرتبہ پھر تعینات کیے جا سکتے ہیں۔

ترکی دہائیوں سے بین الاقوامی منظر نامے پر مسئلہ فلسطین کے لیے آواز اٹھاتا آ رہا ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دیر پا اور مستحکم امن مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور جامع حل سے ہی ممکن ہے، ایسا حل جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو۔ ترک حکام فلسطینیوں کو ہدف بنانے، مقبوضہ مغربی کنارے اور القدس میں غیر قانونی آباد کاری اور غزہ میں انسانی بحران کی صورت حال پر اسرائیل پر تنقید کرتے آئے ہیں۔

اسرائیل نے 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں مشرق القدس پر قبضہ کیا تھا۔ 1980ء میں اس نے پورے شہر پر قبضہ کیا اور اس کے اس قدم کو بین الاقوامی برادری نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ اسرائیل پورے القدس کو اپنا غیر منقسم دارالحکومت سمجھتا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس کا یہ دعویٰ نہیں مانا جاتا۔ دوسری جانب فلسطینی مشرقی القدس کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ غزہ 2007ء سے اسرائیل کے سخت محاصرے کی زد میں ہے اور بنیادی ضرورت کی اشیا بھی علاقے میں بمشکل پہنچ پاتی ہیں۔

اس موقع پر صدر ایردوان نے افغانستان میں جاری بحران پر بھی بات کی اور کہا کہ ہماری مشترکہ خواہش ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن و استحکام قائم ہو۔ ہم اس صورت حال میں افغان عوام سے اپنی پیٹھ نہیں پھیر سکتے۔

انہوں نے جنگ زدہ ممالک سے نکلنے والی مہاجرین کی لہروں کے معاملے پر مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ در حقیقت بحران سے دوچار علاقوں کے پڑوس میں واقع ترکی جیسے ممالک سب سے زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں جبکہ مغربی ممالک محض زبانی جمع خرچ کر رہے ہیں۔ اس وقت بین الاقوامی برادری کو افغان عوام کو امداد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

ترکی ان جنگ زدہ علاقوں سے نکل کر یورپ جانے کے خواہش مند افراد کے راستے کا اہم پڑاؤ ہے۔ 2011ء کے اوائل میں شام کی خانہ جنگی کا آغاز ہوا اور آج ترکی تقریباً 40 لاکھ مہاجرین کا میزبان ہے جو دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہیں۔ اب ایسا لگتا ہے کہ افغان مہاجرین کی ایک نئی لہر بھی ترکی اور یورپی یونین کا رخ کر سکتی ہے۔

ایک مرتبہ پھر اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے خطرے پر صدر ایردوان نے کہا کہ "بحیثیت مسلم ہم نہ صرف کرونا وائرس اور دیگر انسانی بحرانوں سے نمٹ رہے ہیں بلکہ ہمیں بڑھتی ہوئی اسلام مخالفت کا بھی سامنا ہے۔”

اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی پر صدر ایردوان نے او آئی سی رکن ممالک سے مزید فیصلہ کُن اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

"ہمارے 3.5 کروڑ مسلمان بہن بھائی یورپ میں بستے ہیں، اس لیے ہم اس بر اعظم کو اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے عقوبت گاہ بنتے نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ بحیثیتِ ادارہ ہمیں اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات اٹھانے ہوں گے۔”

صدر ایردوان ماضی میں کہہ چکے ہیں مغربی ممالک بڑھتے ہوئے اسلام مخالف رجحان کے خلاف مناسب اقدامات نہیں اٹھا رہے۔ انہوں نے ترک اداروں کو بھی کہا تھا کہ وہ ایسے ممالک میں مسلم اور ترک برادریوں کے معاملات پر آگے بڑھ کر اقدامات اٹھائیں۔ حالیہ چند سالوں کے دوران چند یورپی ممالک، خاص طور پر فرانس نے مسلمانوں کے خلاف کافی اقدامات اٹھائے ہیں۔

صدر نے کرونا وائرس کی وبا کے دوران ترکی کی جانب سے دوسرے ممالک کی امداد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نے 160 ممالک اور 12 بین الاقوامی اداروں کی مدد کی اور 11 ممالک کو ویکسین بھی فراہم کی۔

صدر ایردوان کے علاوہ اسپیکر پارلیمان مصطفیٰ شین توپ نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: