اسپین سے نکالے گئے یہودیوں کی ترکی آمد کو 527 سال مکمل

0 1,386

30 جولائی1492ء کو ہسپانوی بادشاہ نے ملک سے یہودیوں کے اخراج کا فرمان جاری کردیا، جس کے بعد یہودی تاریخ کا ایک المناک باب شروع ہوا۔ ہسپانوی یہودیوں کو پناہ براعظم کے دوسرے کنارے پر ملی، یعنی عثمانی سلطنت کے دارالخلافہ استنبول میں۔ ترکی کی یہودی برادری کی اہم شخصیت مورس لیوی نے کہا کہ "یہودیوں نے جینے کا حق عثمانیوں کی حکومت میں پایا۔” یہودیوں کے اخراج کا ہسپانوی فیصلہ ایک صدی تک اُن کے قتلِ عام کی کئی لہریں سامنے آنے اور سقوطِ غرناطہ کے نتیجے میں مسلم اقتدار کے خاتمے کے چند ماہ بعد کیا گیا۔

اُس وقت غرناطہ بڑی یہودی آبادی کا حامل تھا اور لیوی کہتے ہیں کہ ہسپانوی یہودی اپنی ثقافت، روایات، مغربی نظریات اور اقتصادی قدر و اہمیت بھی غرناطہ سے عثمانی سلطنت لائے۔ "جینے کا حق یہودیوں کے لیے سب سے اہم تھا۔ اگر وہ اسپین میں رہتے تو شاید ان کا قتلِ عام کردیا جاتا۔ اگر وہ عیسائی دنیا کے دیگر حصوں میں جاتے تو انہیں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا۔”

یوں یہودی عثمانی سلطنت آئے جو فتحِ قسطنطنیہ کے 39 سال بعد اپنے عروج کے دور کے آغاز میں تھی۔ لیوی کہتے ہیں کہ سب سے اہم چیز جو یہودیوں نے عثمانی سلطنت میں متعارف کروائی وہ پرنٹنگ پریس یعنی چھاپہ خانہ تھا لیکن انہیں دکھ ہے کہ تب اسے پذیرائی نہ ملی۔ "خطاطی سے گزر بسر کرنے والوں نے چھاپے خانے پر پابندی کی مہم چلائی۔ اگر یہ 15 ویں صدی کے اختتام پر متعارف کروا دیا جاتا تو نشاۃ ثانیہ کا جنم یورپ میں نہیں بلکہ سلطنت عثمانیہ میں ہوتا۔” انہوں نے کہا۔

انہں نے کہا کہ یہودی ہسپانیہ سے نکلنے کے بعد عثمانی علاقوں میں پہنچے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہاں ان کی جان، مال اور عزت کو تحفظ ملے گا۔ "وہ صدیوں تک غرناطہ میں حفاظت کے ساتھ رہے اور عثمانی، غرناطہ کی طرح، مسلمان ہی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا مستقبل یہاں ہے۔”

ترک یہودی برادری کے مطابق ترکی میں تقریباً 18 ہزار یہودی ہیں اور ان کی آبادی زیادہ تر استنبول کے گرد ہے۔ لیوی کہتے ہیں کہ ان کی برادری میں ثقافتی تنوع معاشرے کے لیے بہت اہم تھا۔ ان کی آبادی زیادہ تھی لیکن 20 ویں صدی میں اس میں کمی آ گئی کیونکہ زیادہ تر لوگ اسرائیل ہجرت کر گئے جبکہ 1950ء کی دہائی میں منظم حملوں کی وجہ سے مزید یہودی استنبول چھوڑ گئے۔

اعزاز یافتہ و تجربہ کار یہودی فوٹوگرافر عزت کریبار کہتے ہیں کہ وہ اپنی کامیابی پر ترکی کے ممنون ہیں۔ "میں کھلے دل کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ مجھے اپنا کام عزیز ہے، اپنے دوست عزیز ہیں اور سب سے بڑھ کر مجھے اپنا ملک عزیز ہے۔ میں ہر ہر موقع پر یہ کہتا آیا ہوں۔ میری ترجیح میرا ملک ہے کہ جس میں میں رہتا ہوں۔ میں اس ملک کا ممنونِ احسان ہوں۔”کریبار نے 2018ء میں ترکی کا صدارتی اعزاز برائے ثقافت و فن حاصل کرنے پر کہا۔

1991ء اور 2000ء میں نیشنل جیوگرافک میگزین سے لائف اسٹائل فوٹو گرافی کے اعزازات حاصل کرنے کے بعد ان کا نام اہم ترک یہودی کے طور پر عالمی منظرنامے پر ابھرا۔

"میں یہودی برادری کا رکن ہوں لیکن کبھی مجھے کسی امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا،” کریبار نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر انہیں کبھی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ ترکی میں نہ رہتے۔

تبصرے
Loading...