امریکا نے تاخیر کی تو جوائنٹ آپریشنز کا خاتمہ ہو جائے گا، ترک وزیر دفاع

0 479

ترکی کے وزیر دفاع خلوصی آقار نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے شمالی شام کے معاملے میں تاخیر کی تو مجوزہ سیف زون کے حوالے سے ترکی امریکا جوائنٹ آپریشنز کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مشترکہ آپریشن تب تک چلے گا جب تک یہ ترکی کے مفادات اور اہداف کے مطابق رہے گا۔ "ہم نے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، اگر ضرورت پڑی تو معاملات اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے جیسا کہ صدر (ایردوان) کہہ چکے ہیں۔ ہمارا پلان B اور پلان C بھی تیار ہے۔”

وزیر دفاع نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ "ترکی شام کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے، اس پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے لیکن ہم اپنی سرحدوں کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہمارا ہدف شمالی شام سے PKK اور YPG کے عناصر کا خاتمہ اور اس علاقے کو دہشت کے بجائے امن کا ٹھکانہ بنانا ہے، تاکہ ہمارے شامی مہمانوں کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہو۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے بدھ کے روز امریکا کو دو ہفتے کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شمالی شام میں سیف زون منصوبے اور اس کے نفاذ پر سیر حاصل نتائج حاصل نہ ہوئے تو وہ اپنے منصوبے کام شروع کردیں گے۔

ترک اور امریکی حکام نے 7 اگست کو شمالی شام میں ایک سیف زون کے قیام اور اپنے گھروں کو واپس جانے کے خواہش مند شامی باشندوں کی روانگی میں مدد دینے کے لیے ایک پرامن راہ داری بنانے پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے ایک جوائنٹ آپریشن سینٹر کے قیام پر بھی اتفاق کیا۔

اس کے علاوہ، یہ معاہدہ ترکی کے خدشات کے حوالے سے ضروری سکیورٹی اقدامات اٹھانے پر غور کرتا ہے، جس میں علاقے کو PKK اور اس کے شامی تنظیم پیپلز پروٹیکشن یونٹ (YPG) سے پاک کرنا شامل ہے۔ امریکا نے ترکی کے اعتراضات کے باوجود داعش کے خلاف جنگ میں YPG کی مدد کی۔ البتہ دونوں ممالک اب بھی متفق نہیں کہ شامی علاقے میں سیف زون کتنا بڑا ہونا چاہیے اور آیا علاقے کے بڑے شہر اور قصبے بھی YPG سے خالی کرائے جائیں گے۔

PKK دہشت گرد گروپ گزشتہ 30 سال میں ترکی میں تقریباً 40,000 لوگوں کی موت کا ذمہ دار ہے کہ جن میں بچے، عورتیں اور شیر خوار بھی شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...