آپریشن میں آنے والا وقفہ فائر بندی نہیں ہے، ترک وزیر خارجہ

0 408

ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ہونے والے آپریشن چشمہ امن میں آنے والا وقفہ فائر بندی نہیں ہے، کیونکہ فائر بندی ایسے فریق کے مقابلے پر ہوتی ہے جس کی قانونی حیثیت ہو۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران مولود چاؤش اوغلو نے کہا ہے کہ "شمالی شام میں ترکی کا آپریشن تبھی ختم ہوگا جب YPG/PKK کے دہشت گرد علاقہ یعنی سیف زون خالی کردیں گے۔ ہم (ترکی اور امریکا) نے YPG سے بھاری اسلحہ واپس لینے، ان کی پوزیشنوں اور قلعہ بندیوں کا خاتمہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب شمالی مشرقی شام میں جاری صورت حال پر ترکی اور امریکا نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں مندرجہ ذیل نکات شامل ہیں:

1. امریکا اور ترکی نے نیٹو اراکین کی حیثیت سے اپنے تعلقات کا ازسرِ نو اقرار کیا۔ امریکا جنوبی سرحدوں کے حوالے سے ترکی کے جائز خدشات کو سمجھتا ہے۔

2. ترکی اور امریکا نے اتفاق ظاہر کیا کہ میدان میں موجود حالات، بالخصوص شمال مشرقی شام میں، مشترکہ مفادات کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پیدا کرتے ہیں۔

3. ترکی اور امریکا نیٹو کے علاقوں اور آبادیوں کو درپیش تمام خطرات سے بچانے سے بدستور وابستہ ہیں، جنہیں "سب کے لیے ایک اور ایک کے لیے سب” کا بھرپور ادراک ہے۔

4. دونوں ممالک نے انسانی جان، انسانی حقوق اور مذہبی و نسلی برادریوں کے تحفظ کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

5. ترکی اور امریکا شمال مشرقی شام میں داعش کی سرگرمیوں کے خاتمے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس میں داعش کے زیرِ قبضہ سابق علاقوں میں موجود حراستی مراکز اور داخلی طور پر ہجرت کرنے والے افراد کے حوالے سے ممکنہ حد تک باہمی تعاون شامل ہوگا۔

6. ترکی اور امریکا نے اتفاق کیا کہ انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں صرف دہشت گردوں اور اُن کے ٹھکانوں، پناہ گاہوں، مستقر، ہتھیاروں، گاڑیوں اور آلات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

7. ترکی نے اپنی افواج کے زیرِ انتظام سیف زون میں موجود تمام آبادیوں کے تحفظ اور فلاح کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا اور اعادہ کیا کہ شہریوں اور بنیادی ڈھانچوں کو نقصان نہ پہنچانے کے لیے حد درجہ احتیاط سے کام لیا جائے گا۔

8. دونوں ممالک نے شام کے سیاسی اتحاد اور علاقائی سالمیت اور اقوامِ متحدہ کی زیرِ قیادت ایک سیاسی عمل کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا کہ جس کا مقصد UNSCR 2254 کے تحت تنازعِ شام کا خاتمہ ہے۔

9. فریقین نے ترکی کی قومی سلامتی کے خدشات ختم کرنے کے لیے ایک سیف زون کی اہمیت اور عملی حیثیت، YPG سے بھاری ہتھیار واپس لینے اور ان کے ٹھکانوں اور قلعہ بندیوں کے خاتمے پر اتفاق کیا۔

10. بنیادی طور پر ترک مسلح افواج ہی سیف زون کا نفاذ کریں گی اور دونوں ممالک اس کے تمام پہلوؤں کے حوالے سے اپنا تعاون بڑھائیں گے۔

11. ترکی YPG کو سیف زون کے علاقوں سے نکلنے کے لیے 120 گھنٹوں کا وقت دینے کی خاطر آپریشن چشمہ امن میں وقفہ کرے گا۔ اخراج مکمل ہونے کے بعد یہ آپریشن روک دیا جائے گا۔

12. آپریشن چشمہ امن روک دیے جانے کے بعد امریکا اتفاق کرتا ہے کہ وہ 14 اکتوبر 2019ء کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت عائد پابندیوں کا نفاذ روک دے گا جو شام میں صورت حال کا سبب بننے والے چند افراد کی املاک قرق کرنے اور امریکا میں داخلہ بند کرنے کے حوالے سے ہے۔ ساتھ ہی وہ UNSCR 2254 کے تحت شام میں امن و سلامتی کے لیے کانگریس سے مشاورت اور اس کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ایک مرتبہ آپریشن چشمہ امن رک جائے تو اس کے بعد ایگزیکٹو آرڈر کے تحت عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

13. فریقین نے اس اعلامیہ میں طے کیے گئے اہداف پر عمل کے لیے مل جل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

تبصرے
Loading...