‏15 جولائی کی مزاحمت بحیثیت ایک جمہوری سبق اور مغرب کا زوال

0 1,209

‏15 جولائی بغاوت کو تین سال ہوگئے ہیں۔ خدا اس ملک اور دیگر ممالک کی بھی ایسی ناقابلِ برداشت غداریوں سے حفاظت کرے۔ تصور کیجیے آپ ریٹائر ہوکر سکون کی زندگی گزارنے کے لیے گھر پر بیٹھے ہیں اور اچانک ترک پرچم بردار ایف-16 طیارے ہمارے دارالحکومت اور استنبول کے اوپر سے گزریں اور سونک بوم پیدا کریں جو بالکل بم دھماکے جیسی آواز ہوتی ہے۔ باسفورس پل، جسے بعد ازاں شہدائے 15 جولائی پل کا نام دیا گیا، ٹینکوں اور فوجیوں کی جانب سے ٹریفک کے لیے بند کردیا جائے – یعنی اپنے ہی فوجیوں کے ہاتھوں۔ پہلے تو شاید آپ یہ سمجھیں کہ یہ کسی دہشت گرد حملے سے بچنے کے لیے احتیاطاً اٹھائے گئے اقدامات ہیں۔ لیکن بعد میں خبریں سامنے آئیں۔ انقرہ میں، ترک قومی اسمبلی، ہماری پارلیمان پر ایف-16 طیاروں کی جانب سے بمباری کی جائے۔ اسپیشل فورسز کے ہیڈ کوارٹرز، نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن کی عمارت اور ایوانِ صدر پر بھی بم پھینکے جائیں۔ جو مزاحمت کرے ٹینک اس کے اوپر سے گزر جائیں۔ لاشوں کا قیمہ بن جائےیا ٹکڑے ہو جائیں اور ایوانِ صدر کی چھت پر ایک شہری کا مثلہ کیا ہوا سر ملے۔ دہشت انگیز!

اس رات، میں استنبول میں اپنے گھر میں تھا۔ گزشتہ چند ہفتوں کی قانونی سرگرمیاں مکمل ہو چکی تھی، میں استنبول واپس آ چکا تھا۔ تقریباً 10 بجے مجھے محسوس ہوا کہ کچھ عجیب و غریب ہو رہا ہے۔ میں نے کچھ ٹیلی فون کالز کیں لیکن کسی کو واضح طور پر پتہ نہیں تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔ مجھے بھی استنبول سے باہر سے کچھ کالز آئیں، لیکن میں بھی ویسے ہی حیرت زدہ تھا۔ جلد ہی پتہ چلا کہ گولن ٹیرر گروپ (FETO) کے اراکین،فوجیوں اور فوج اور سرکاری ادارون میں سرمایہ کرنے والے اور امریکا میں سیاسی پناہ لیے ہوئے فتح اللہ گولن سے تعلق رکھنے والے دیگر سرکاری اہلکاروں کی جانب سے بغاوت کی ایک کوشش تھی۔

معلومات کم ہونے کے باوجود میں نے اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ کون سے اہم ترین مقامات ہو سکتے ہیں۔ میں جائزہ لینے لگا کہ میں کیا کر سکتا ہوں اور آیا ملک کو اس حملے سے بچانے میں وہ مددگار ہوگا بھی یا نہیں۔ میں نے اپنی بہن کو لیا اور انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے استنبول صوبائی دفتر جا پہنچا۔ کچھ دوستوں نے مجھے کال کی اور خبردار کیا کہ "آئیں کسی محفوظ مقام کی جانب چلتے ہیں۔ آپ ٹیلی وژن پر آنے کی وجہ سے معروف شخصیت ہیں، وہ آپ کو مار دیں گے۔” میں نے انہیں کہہ دیا کہ "میں اگر اہم شخصیت ہوتا جسے زندہ رہنا چاہیے تو میں اپنے لیے نہیں بلکہ ملک کے لیے وہ کرلیتا جو آپ کہہ رہے ہیں۔ لیکن میں نہیں ہوں۔ اس لیے اگر میں آج رات باہر نہ نکلا، تو ساری زندگی یہ احساسِ جرم مجھے رہے گا۔”

راستے میں میں نے گیس اسٹیشنوں اور اے ٹی ایمز پر طویل قطاریں دیکھیں اور یہ پتہ چلا کہ FETO کے غداروں کا بغداد ایونیو اور دیگر مقامات پر تالیاں بجا کر خیرمدمقدم کیا گیا، مجھے سخت غصہ آیا۔ لیکن خاص طور پر کمال کلچ دار اوغلو کی زیر قیادت جمہور خلق پارٹی (CHP) نے کہ جنہوں نے 2010ء میں FETO کی جانب سے ایک سیکس ٹیپ سازش کے بعد پارٹی قیادت سنبھالی تھی، اپنے پیروکاروں کو دیدہ و دانستہ شدت پسند ایا ہے۔ کیونکہ میں نے یہ حرکات بہت قریب سے دیکھی تھیں، اس لیے میرے لیے یہ حیرت ناک نہیں تھا۔ لیکن اگر کوئی شخص مادرِ وطن یا جمہوریت کے لیے اپنی محبت کھو بیٹھے تو کیا کہا جائے؟

میں نے احتیاطاً گاڑی کو عمارت سے کچھ فاصلے پر کھڑا کیا۔ خبروں کے مطابق FETO سے تعلق رکھنے والے تقریباً 80 فوجیوں نے صوبائی صدر دفتر پر قبضہ جمایا ہوا تھا۔ شہری عمارت کو محفوظ کرنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ میں ہجوم کے اندر سے ہوتا ہوا صوبائی صدر سلیم تیمورجی کے کمرے تک پہنچا۔ معلوم ہوا کہ تیمورجی کچھ دیر قبل اتاترک ایئرپورٹ چلے گئے ہیں تاکہ صدر رجب طیب ایردوان کا استقبال کر سکیں۔ فوجیوں نے عمارت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ ہزاروں شہریوں کو صدر دفتر کے باہر دیکھ کر وہ پریشان ہوگئے اور ایک طرف ہوگئے۔ ان فوجیوں کی قیادت میجر فاروق شمشک، میجر ایرول حاضر اوغلو، کیپٹن گوخان گونے اور کیپٹن حسن حسین آلتن سوئے کر رہے تھے۔ ہم ان کے ساتھ فون پر یا روبرو مسلسل رابطے میں تھے تاکہ انہیں ہتھیار پھینکنے اور اپنے محفوظ انخلاء اور بالآخر انصاف کے سامنے جھک جانے پر راضی کر سکیں۔ لیکن یہ سارے نام نہاد کمانڈرز اور ان کے ماتحت ریڈیو کے ذریعے ملنے والے احکامات اور ہدایات پر کام کرتے رہے اور بغاوت پر عملدرآمد جاری رہا جس میں انہوں نے گنیں بھی لوڈ کرلیں اور تیار ہوگئے۔ مجھے اندازہ تھا کہ اگر بغاوت کامیاب ہوئی، مثلاً صدر کے قتل کی خبر آ گئی تو تو یہاں قتلِ عام ہوگا کیونکہ ہزاروں افراد کو جھکانا ناممکن تھا۔ اس رات ہر شخص مادرِ وطن کے لیے سڑکوں پر تھا۔

مغرب کا ردعمل

اب ذرا اس بھیانک رات اور آئندہ روز کے بارے میں امریکا اور یورپی ممالک یعنی ہمارے نیٹو اتحادی، یورپین کونسل کے شریک، مغربی ذرائع ابلاغ (آزادئ اظہار کے "چیمپئن”) اور جمہوری مغربی دنیا کا "مجموعی” ردعمل دیکھیں کہ جب بغاوت کی ناکامی سب پر عیاں ہوگئی تھی، ہمارے دوست ادریس کاردش نے اپنی تحریر میں ان کو جگہ دی:

"امریکی عموماً فوجی بغاوت کو برداشت نہیں کرتے۔ البتہ ایردوان حکومت کی جمہوریت مخالف فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترکی کے پاس کوئی اور آپشن نہیں تھا۔” (ہفنگٹن پوسٹ)

"ترک صدر رجب طیب ایردوان کے خلاف بغاوت کی کوشش اُن سے طویل عرصے سے ناراضگی کا نقطہ عروج ہے، جو 2002ء سے ملک پر حکمرانی کر رہے ہیں۔” (وال اسٹریٹ جرنل)

"ایردوان نے اس بغاوت کی راہ ہموار کی۔” (ایکسپریسن، سوئیڈن)

"فوج ایردوان سے تنگ آ چکی ہے۔” (برجنز ٹائڈنڈ، ناروے)

متنازع امریکی ردعمل

بغاوت کی کوشش کی رات ترک حکام نے اس وقت کے امریکی سفیر جان باس کو 11 بجکر 57 منٹ پر کال کی اور ان سے کہا کہ ترک حکومت امریکی انتظامیہ کی حمایت چاہتی ہے۔ البتہ 12 بجکر 37 منٹ پر سیکریری خارجہ نے یہ گھٹیا بیان جاری کیا: "میں امید کرتا ہوں کہ ترکی میں استحکام، امن اور تسلسل جاری رہے گا۔ ترکی میں تمام فریقین کو ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کے تشدد یا کشت و خون سے گریز کرنا چاہیے۔”

انقرہ کی جانب سے امریکا سے مدد کی درخواست کا کمزور سا ردعمل تین گھنٹے بعد آیا جب صدر ایردوان قتل کی سازش سے بچ گئے اور بغاوت ناکامی کی جانب چل پڑ، "ترکی میں تمام فریقین کو ملک کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔”

گو کہ اس وقت امریکا میں دن تھا اور وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ منٹ منٹ کی کارروائی پر نظریں جمائے ہوئے تھے، لیکن واشنگٹن نے ایسا بیان تین گھنٹے تک نہیں دیا۔ امریکا نے انتظار کیا۔ صدر براک اوباما کی "مستقل” حمایت ایک دن بعد آئی، 16 جولائی کی شام 7 بجکر 31 منٹ پر۔ "امریکا ترکی میں جمہوری طور پر منتخب شدہ سویلین حکومت کی ‘مستقل حمایت’ کا اعادہ کرتا ہے۔”

لیکن اس رات ایک عجیب بات ہوئی۔ ٹیکساس میں قائم ایک جیو پولیٹیکل انٹیلی جنس فرم اسٹراٹفر (Stratfor) نے ایردوان کو استنبول لانے والے تیار کے مقام کا اندازہ لگایا، جبکہ بغاوت کرنے والے ان کے ممکنہ قتل کے لیے ان کا کھوج لگا رہے تھے اور تین مرتبہ ان کی فلائٹ کا راستہ ٹوئٹ کیا۔ پہلی ٹوئٹ میں اسٹراٹفر نے بتایا کہ ایردوان کا طیارہ بحیرۂ مرمرا پر ہے۔ دوسری میں اسٹراٹفر نے بتایا کہ ایردوان کا طیارہ استنبول کی جانب آتا دکھائی دے رہا ہے اور "ممکنہ طور پر ” لینڈ کرے گا۔

آخری ٹوئٹ میں اسٹراٹفر نے لکھا کہ تصدیق ہو چکی ہے کہ ایردوان کا طیارہ استنبول میں لینڈ ہو چکا ہے، جس میں اتاترک ایئرپورٹ کو ظاہر کرنے والا سیٹیلائٹ امیج بھی شامل تھا۔ انادولو ایجنسی کی جانب سے رابطہ پر اسٹراٹفر کے حکام اس سوال پر بغلیں جھانکتے نظر آئے کہ وہ جہاں کی پن پوائنٹ لوکیشن کیسے پتہ کر سکتے ہیں۔ واضح ہے کہ وہ اس بغاوت کو ناکام ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔

اسی رات اسٹراٹفر نے امریکا میں قائم چینل MSNBC کی ایک جعلی رپورٹ پر ٹوئٹر پر پیش کی جس میں کہا گیا کہ ایردوان جرمنی میں سیاسی پناہ کے خواہشمند ہیں۔

جمہوریت کے ‘چیمپئن’

اب ذرا مغربی اخبارات پر نظر ڈالیں، ان "جمہوریت اور آزادئ اظہار کے چیمپئنز” پر جو بغاوت کی ناکامی پر پریشان ہوگئے۔ ادریس کاردش کی تحریر سے چند اقتباسات یہ ہیں:

اٹلی کی ANSA: "ترکی کو قانون کی حکمرانی کا احترام کرنا چاہیے۔”

انٹرنیشنل: "ترکی کی جمہوریت مر چکی ہے چاہے اس بحران کا خاتمہ کسی بھی صورت میں ہو۔ یہ بغاوت کی مناسب کوشش نہیں تھی۔ بغاوت کا پہلا اصول ہے کہ اس شخص کو گرفتار یا قتل کریں جس کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بغاوت کے رہنماؤں کو ایردوان کو پکڑنا چاہیے تھا، جو مرماریس کے ساحلی ریزورٹ میں تعطیلات پر تھے، لیکن وہ ایسا نہیں کر پائے۔”

دی فائنانشل ٹائمز: "اب حکومت فتح کا اعلان کر چکی ہے، لیکن یہ ترک جمہوریت کی دور پرے کی بھی فتح نہیں۔”

دی گارجین: "ترکی پہلے ہی سلو موشن بغاوت سے گزر رہا تھا – ایردوان کی، فوج کی نہیں۔”

[لبرل اسرائیلی اخبار] ہارٹز: ترکی بغاوت کوشش: کیا غیر جمہوری طریقوں سے جمہوریت کی ترویج قانونی ہے؟”

یروشلم پوسٹ: "ناکام بغاوت ترک-اسرائیل تعلقات کو تبدیل نہیں کرے گی، لیکن ایردوان کا تختہ الٹ جاتا تو یروشلم ایک آنسو تک نہ بہاتا۔”

ایک خاص مقام واشنگٹن پوسٹ کے لیے ہونا چاہیے کہ جس نے حال ہی میں ہزاروں لوگوں کا قتلِ عام کرنے والے PKK دہشت گرد گروپ کے رہنماؤں میں سے ایک جمیل بایِک کا مضمون شائع کیا ہے۔ دو اقتباسات ہی کافی ہوں گے: "ایردوان کی غیر جمہوری حکومت نے ترکی کو بدامنی کے لیے کس طرح آمادہ کر دیا ہے۔”

"ترکی میں ناکام بغاوت وہاں جمہوریت کو کس طرح کمزور کرے گی۔”

اور نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے بدنامِ زمانہ آرٹیکل کا اقتباس تو آپ کو بھی معلوم ہوگا: "ایردوان کے حامی بھیڑیں ہیں اور انہیں جو کہا جاتا ہے اس کی پیروی کرتے ہیں۔”

دی انڈیپنڈنٹ: "ترکی کی بغاوت ناکام ہو سکتی ہے – لیکن تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ زیادہ وقت نہیں گزرے گا کہ ایک اور کامیاب ہوگی۔”

ڈائی ویلٹ: "ترکی کا بحران: اصل بغاوت اب شروع ہوتی ہے۔”

فوکس نیوز: "ترکی کی آخری امید ختم ہوگئی۔”

ویلٹ ایم سونٹاگ "ایردوان مزید مضبوط ہوکر ابھرے ہیں جبکہ جمہوریت کمزور ہوگئی۔”

بی بی سی: "رجب طیب ایردوان: ترکی کے سنگ دل صدر۔”

سی این این انٹرنیشنل: "ہزاروں گرفتار، جمہوریت دباؤ میں۔”

یہ کم بخت منافقت

FETO نے 60 سال مذہبی اور تعلیمی اداروں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور گلاڈیو کے ڈھانچے میں تبدیل ہوئی جو نیٹو کا خفیہ انٹیلی جنس اور آپریشن نیٹ ورک ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ اس بغاوت کے پیچھے کون تھا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ مغرب ایسی بغاوت چاہتا تھا۔ ایک آزاد ترکی جو گلاڈیو سے آزاد ہو اور برابر کا شراکت دار ہو، انہیں درکار نہیں۔ بدقسمتی سے جمہوریت ان ممالک، ان کے تھنک ٹینکس اور میڈیا کے لیے فقط ایک پردہ ہے۔ یہی ممالک مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی کو جمہوریت کا چیمپئن سمجھتے ہیں حالانکہ اس نے نہ صرف وہاں کے منتخب صدر کو شہید کیا بلکہ ہزاروں شہریوں کا بھی قاتل ہے۔ بدترین تشدد کے بعد اقرارِ جرم کروا کر 9 نوجوانوں کی پھانسی چڑھا دینے کے فوراً بعد یورپی یونین نے مصر میں ایک اجلاس میں شرکت کی۔

فلسفی ایمانوئل کانت کے مطابق تہذیب یافتہ ہونے کا مطلب ہے کہ مناسب موقع پر آپ کے اندر شرم کا احساس ہو۔ کانت کا مردِ کامل ایک باعزت اور باوقار انسان ہے جس کو عقل اور آزادانہ قوتِ ارادی کو عطا کی گئی ہے۔

جمہوریت کے حوالے سے مغرب کا مجموعی زوال اور اس پر اس کا اطمینان خطرناک ہے۔ 15 جولائی کی بغاوت کوشش نے اسے ایک مرتبہ پھر ظاہر کیا ہے۔ 21 ویں صدی میں جمہوریت کے نام پر امید کی عملی صورتیں محض ترکی سے ظاہر ہو رہی ہیں۔ ہم نے کم از کم 250 لوگوں کی جانیں دے کر اور اپنے لاکھوں شہریوں کی بہادری کے ذریعے پرامن انداز میں ایک ظالمانہ بغاوت کو شکست دی۔ جبکہ یورپی اس پر بھی اتفاق نہیں کر پا رہے کہ کتنے مہاجرین کو قبول کریں، ہم نے تقریباً 40 لاکھ کو قبول کیا اور انہیں ممکنہ حد تک بہترین سہولیات دیں۔ ترکی اپنے GDP کے لحاظ سے اس وقت سب سے زیادہ بیرونی امداد دینے والا ملک ہے۔

اور وہ پھر بھی کہتے ہیں کہ ایردوان ایک آمر ہے۔ بے وقوف!

تبصرے
Loading...